Saturday, 13 September 2014

Imam Ibn Taymiyyah


نویں کہانی

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ 
یہ کہانی اسلامی تاریخ کے نہایت نمایاں صاحبِ سیف و قلم‘ ساتویں صدی ہجری میں تجدید دین کی علمدار شخصیت کی ہے جن کا نام احمد‘ کنیت ابو العباس اور لقب تقی الدین ہے۔جن معاشروں میں علم و فضل کی قدر کی جاتی ہے انہی معاشروں میں اہل علم پیدا ہوئے اور ابھرے ہیں۔ ان مایہ نازامام اور بے مثال فقیہ احمد بن عبدالحلیم جن کی نویں پشت میں ایک نادرِ روزگار عالمہ تیمیہ نام کی گزری تھیں،پس ان امام صاحب نے بھی اپنے اکابر کی طرح اپنی پہچان اور نسبت میں ان خاتون محترم سے تعلق کو سلامت رکھا۔ اپنے اصل نام کی بجائے ابن تیمیہ ہی کہلائے۔ بلا شبہ آپ صحابی تو نہ تھے کہ آپ کا زمانہ ہی کم از کم ساڑھے چھ صدی بعد کا ہے، مگر دینِ رسولِ عربیﷺ کے اندر جو بدعات جڑ پکڑ چکی تھیں‘ ان کو ختم کر کے اسلام کو اپنی فطری سادگی اور توحید کی لا شریک بنیادوں پر پھر سے محکم کرنے کا حق جس طرح آپ نے ادا کیا‘آپ کا وہ مجد د انہ کام ہمیشہ کے لیے بے مثال اور یادگار نام بن گیا۔ جب اس دینِ اسلام کو بے حد گدلا کر کے اس کی اصل یعنی توحید باری تعالیٰ ہی کو لوگوں نے اپنی زندگیوں سے نکال کر شرک اور بت پرستی ہی کو دین سمجھ لیا‘ مساجد کی اہمیت کم ہو چکی تھی‘ سارے ملک میں جعلی قبروں اور مزارات کا جال بچھ گیاتھا، اس کے ساتھ ساتھ یونانی فلسفیانہ روایات کا دین میں اس حد تک نفوذ ہوا کہ ارسطو کی عظمت اور اس کا تقدس مسلمانوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ مزید براں علم کلام‘ غیر اسلامی تصوف اور فرقہ باطنیہ اورعیسائی مشنری کی یلغار کے نتیجہ میں دین اسلام کا اصل چہرہ ہی بگڑ چکا تھا‘اس وقت امام ابن تیمیہ کو اللہ پاک نے اس بگاڑ کی اصلاح کے لیے گویا چن لیا تھا۔
ع۔ ہر کسے را بہرِ کارے ساختند
اس ساتویں آٹھویں صدی ھجری میں ا مام ابن تیمیہ نے تجدید دین کا وہ شہرہ آفاق کا رنامہ سرانجام دیا جس کابعد میں آنے والے علمائے حق نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔ دین اسلام کی تجدید کا یہ مقدس کارنامہ جو امام صاحب نے سرانجام دیا‘ وہی آپ کے نام اور کام کو بزرگوں کے ساتھ جوڑ دینے کو کافی ہے۔ تجدید دین کے حوالے سے امام صاحب کی سعی مسلسل کا بیان آگے وقت کی ترتیب کے ساتھ آئے گا۔ مگر قبل اس کے کہ امام صاحب کے تجدیدی کام پر نگاہ ڈالی جائے‘یہ جاننا ضروری ہو گا کہ اس وقت مسلمانوں کی فکری و اخلاقی حالت کیسی تھی اور آپ کو احیائے دین کے کام کی ضرورت کیوں پڑی۔ آٹھویں صدی ہجری کے حالات کا بغور جائزہ لیاجائے تو اندازہ ہو تا ہے کہ اسلام کی سادہ اور عام فہم تعلیمات کی جگہ مختلف پیچیدہ نظریات نے لے لی تھی۔ ان باطل نظریات کو اپنانے والوں کے اپنے اپنے گروہ تھے اور انہوں نے امتِ مسلمہ کو یر غمال بنا رکھا تھا۔ دین کا اصل چہرہ بگڑ چکا تھا اور آئے دن نئے نئے فتنے سر اٹھاتے رہتے تھے۔اس وقت کا حال یہ تھا کہ قبروں سے مرادیں مانگی جاتیں‘ فلسفیانہ سوچ یونانی فلسفوں کے تابع کی جاچکی تھی۔ تصوف میں ایسی ایسی لغویات شامل ہو چکی تھیں کہ تصوف شریعت کا دشمن بن چکا تھا۔صوفیاء کے اندر نئے نئے فرقے مشرکانہ عقائد کی علمبرداری کرنے لگے تھے۔ان سب کے ساتھ عیسائی مشنریوں کی روز افزوں پیش قدمی تھی جو مسلمانوں کو ارتداد یا تشکیک کی طرف برابر لے جا رہی تھی۔ اب امام صاحب کی خدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
شرک اور قبر پرستی 
عالمِ اسلام میں غیر مسلم اقوام کے اختلاط کی وجہ سے نقلی پیروں‘ فقیروں کے مشرکانہ عقائد و رسوم کا رواج عام ہو چلا تھا ۔ بہت سے لوگوں نے فوت شدہ پیروں کو خدا کا درجہ اور اس زندہ پیر کو جو اس قبر کا مجاور ہوتا‘ پیغمبر کا مرتبہ دے رکھا تھا۔یہ لوگ صاحب قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور مغفرت طلب کرتے۔ اپنے ائمہ اور شیوخ کی زیارت کو حج بیت اللہ سے افضل سمجھتے ۔ ان کی بیباکی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ اپنے جانوروں کو بسم اللہ کے بجائے ذبح کرتے وقت کہتے، ’’میرے آقا کے نام سے‘‘ ۔ اس قبر پرستی کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ مساجد کی اہمیت کم ہو گئی اور پورے ملک میں جعلی قبروں اور مزارات کا جال بچھ گیا۔ امام صاحب نے تحریر و تقریر کے ذریعے ان مشرکانہ عقائد کی تردید کی ۔ اپنے رسائل‘ الرّدعلی البکری اور التوسل والوسیلۃ میں علی الا علان اس بات کا اظہار کیا کہ غیر اللہ سے دعا مانگنا حرام ہے اور شریعت محمد یﷺ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ اور انسان میں واسطے کی حقیقت پر ایک کتاب ’’الواسطۃ بین الخلق والحق ‘‘کے نام سے لکھی ۔ آپ نے عقیدہ توحید کو انبیاء کی بعثت کا بنیادی مقصد قرار دے کر سادہ دل مسلمانوں کی توجہ اسلام کی دعوت کے اس مرکزی نقطے کی طرف مبذول کروائی ، آپ کی یہ کوشش ضائع نہیں ہوئی اور توحید کی صدائیں ایک بار پھر گونجنے لگیں۔ 
فلسفیانہ روایت 
قبر پرستی تو عام جاہل آدمی کی گمراہی تھی ۔اہلِ علم کی گمراہی فلسفہ اور علم الکلام تھے ۔ علم کلام اگرچہ فلسفے کے مقابلے کے لیے وجود میں آیا تھا مگر رفتہ رفتہ خود اس میں فلسفے کی روح گھس گئی۔یونانی اصطلاحات کا استعمال تو ہوتا ہی تھا مگر سیدھی بات کے بجائے بات کو طویل و پیچیدہ بنا کر پیش کرنا‘ عقائد کے ثبوت کے لیے عقل کے استعمال پر اصرار اور پھر سب سے بڑھ کرقبل ازسلام کے فلسفی ارسطو کی عظمت و تقدیس کا ایسا قائل ہونا کہ اس کی فکر کے خلاف بات کرنے کی ہمت نہ کر سکنا‘ ان سب باتوں نے مل کر علمِ کلام کو عجیب و غریب نظریات کا معجون مرکب بنا دیا تھا ۔ امام ابن تیمیہ کے زمانے میں نصیر الدین طوسی کا طوطی بول رہا تھا جو یونانی فلسفہ اور منطق کو معیار فضیلت گردانتا تھا۔ محدثین و فقہاء چونکہ اس علم کی باریکیوں سے ناآشنا تھے لہٰذا مقابلے کی سکت نہ رکھتے تھے جبکہ عوام مرعوبیت کا شکار تھے۔ ایسے میں امام صاحب نے علمِ کلام کو مستقل موضوع بنا کر یونانی فلسفہ کی تنقید اور علمی محاسبے کاکام انجام دیا۔ بغیر کسی تعصب کے انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ علمی دنیا بالخصوص طبیعات و ریاضیات کے میدان میں علمائے یونان کی کاوشیں مفید ہیں لیکن الٰہیات میں انہوں نے فلسفیوں کو ناکام اور جامل قرار دیا۔ اپنی کتابوں ، ’’الرد علی المنطقین‘‘ ’’ نقض المنطق ،’’الرد علی البکری‘‘ اور’’ النبوات ‘‘میں گن گن کر ان غلطیوں کی نشاندہی کی جو اہلِ فلاسفہ سے سرزد ہوئیں۔آپ عقلی و استدلالی طریقے سے فلسفے کے پیچیدہ مضامین کا رد کرتے۔ اس طرح عالمِ اسلام جو گزشتہ چند صدیوں سے فلسفہ اور منطق جیسے علوم سے مسحور تھا‘ اس سحر سے باہر آ گیا اور دین کی اصل اور سادہ تعلیمات ایک بار پھر نکھر کر سامنے آ گئیں۔ آپ نے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ اگر یہ علوم عقلی ہیں تو ان کی بنیادغو رو فکر پر ہے ،ان کو فکر کی پیروی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے ہر زمانے کے اہل عقل کو یہ حق ہے کہ وہ ان پر ناقد انہ نظر ڈالیں اور خلافِ عقل بات کو رد کر دیں۔ چنانچہ آپ نے عقلی جمود کے اس دور میں یونانی فلسفے پر تنقید کرکے فکر و اجتہاد کا نیا دروازہ کھولا‘جیسا کہ حضرت علامہ ؒ نے بعد کے زمانے میں کہا کہ 
؂ تمدن‘ تصوف‘ شریعت‘ کلام بتانِ عجم کے پجاری تمام 
علامہ اقبال ؔ سے سات صدی قبل بھی ایک بار ایسا ہی حال عالمِ اسلام کا ہو چکا تھا۔ 
غیر اسلامی تصوف
طبقہ اہلِ علم کے علاوہ اہلِ تصوف بھی غیر اسلامی افکار کا نشانہ بن چکے تھے۔ ہر زمانے کی طرح اس زمانے میں بھی اہلِ تصوف ایک بڑے حلقے میں انتہائی مقبول تھے۔ مختلف مذاہب خصوصاً ہند و مذہب کے عقائد و افکار کو اسلام کا لبادہ پہنایا جا رہا تھا۔ حلول کا عقیدہ‘ وحدۃ الوجود کا فلسفہ نیز صوفیوں کے لیے احکام شریعت کا ساقط ہو جانا‘ صوفیانہ عقائد میں شامل ہو چکا تھا۔پھر تصوف کی چند شاخیں شعبدہ بازی اور نظر بندی کی نچلی سطح تک اتر آئی تھیں ۔ عوام اور خواص دونوں ان سے متاثر تھے۔ وحدت الوجود کے عقیدہ میں اس قدر غلو پیدا ہو گیا تھا کہ ابن عربی کے بعد تلمسانی یہاں تک کہہ بیٹھے کہ
قرآن تو سارا کا سارا شرک سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے کہ وہ رب اور عبد میں فرق کرتا ہے۔ توحید تو ہمارے کلام میں ہے۔ (معاذاللہ)۔فرقہ جہنیہ کے شائقین مخلوقات کی پرستش کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ ارذل ترین مخلوقات میں بھی خدا دیکھا جانے لگا‘ سو خداہونے کی بنا ء پر لائقِ عبادت ٹھہریں ۔ اس پر مزید یہ کہ اس عقیدے کے مدعی قبیح گناہوں کے مرتکب ہوتے اور اسے اپنے عقائد سے درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ بعض لوگ لڑکیوں کے عشق میں مبتلا ہو تے اور کہتے کہ ان میں بھی اللہ کی تجلی ہے۔ بعض بوسہ دیتے ہوئے اپنے محبوب سے کہتے کہ تو خدا ہے۔ (معاذ اللہ) اس سلسلے میں امام صاحب نے ایک خط شیخ نصربن سلیمان کو لکھا اور اس کو دعوت دی کہ وہ ابن عربی کے غیر اسلامی نظریات‘ خصوصاً وحدت الوجود سے توبہ کرے۔ شیخ نصر کے حلقہ اثر میں حکمران طبقہ بھی تھا۔ وہ آپ کے مد لل خط کا جواب تو نہ دے سکا البتہ یہ پورا گروہ آپ کاشدید مخالف ہو گیا۔ 
فرقہ باطنیہ
چوتھا گروہ جس سے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا تھا ‘وہ فرقہ باطنیہ تھا۔ ان کی تعلیمات مجوسی عقائد‘ افلاطونی تصورات اور خطر ناک سیاسی اغراض کا مجموعہ تھیں۔ یہ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلم طاقتوں اور بیرونی حملہ آوروں کی ہمیشہ مدد کرتے۔ شام و فلسطین پر صلیبی حملوں کے موقع پر انہوں نے صلیبیوں کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد بھی سازشوں اور بغاوتوں میں مصروف رہے۔ یہاں تک کہ تاتاریوں نے جب شام پر حملہ کیا تو انہوں نے کھل کر تاتاریوں کا ساتھ دیا۔ جب حالات ناقابل برداشت ہو گئے تو حکومت وقت نے ان کے خلاف جہاد کرنے کے لیے علماء سے فتویٰ دریافت کیا۔ امام صاحب نے نہ صرف ان کے خلاف جہاد کرنے کو فرض قرار دیا بلکہ دوسرے شہروں کے مسلمانوں کے نام بھی خطوط لکھے اور انہیں جہاد میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ آخر کار زبردست لشکر کے ساتھ‘ جس میں امام صاحب دیگر مجاہدین کے ساتھ شامل ہوئے‘ان کی جمعیت کو منتشر کر دیاگیا۔
عیسائی مشنری یلغار 
ایک بیرونی محاذ عیسائیوں نے اپنے مذہب کی حقاّنیت کو ثابت کرنے کے لیے کھول رکھا تھا۔ مسلمانوں کی سیاسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے میدان میں آ چکے تھے ۔ محمد رسول ا للہ ﷺ پر اعتراضات اور اپنے مذہب کی ترجیح پر کتابیں تصنیف کرنے لگے۔ قبرص کے عیسائیوں کی جانب سے ایک مناظرانہ تصنیف شام پہنچی ‘جس میں مسیحیت کو دینِ حق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور نبی کریمﷺ کی بعثت کوساری دنیا کے بجائے صرف عرب اقوام کی رہنمائی کے لیے مخصوص بتایا گیا تھا۔ جب اس کتاب نے شام کے دینی و علمی حلقوں میں شہرت حاصل کی تو امام صاحب نے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور’’ الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں ایک کتاب جس میں نہ صرف عمومی نبوت محمدﷺ کے ثبوت میں دلائل پیش کئے بلکہ مسیحیت کی تثلیث کی بنیادوں پر حملہ کیاگیا۔ ان کے عقائد کی غلطیاں ‘ مسیحیت کی تاریخ‘ ان کی کتابوں میں تحریفات اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی عالمگیریت کے حوالے سے دلائل دئیے گئے اور مسیحی علم الکلام پر اس قدر سیر حاصل بحث کی کہ یہ عظیم کاوش کسی ایک شخص کی معلوم ہی نہیں ہوتی۔ شیخ الحدیث اپنی کتاب میں ان کی بابت لکھتے ہیں کہ ’’تنہایہ کتاب ہی آپکو غیر فانی مفکر کا مرتبہ دلانے کے لیے کافی ہے۔‘‘ 
روحِ اجتہاد کی بیداری
ایک اور چیز جس نے امام صاحب کو بے چین کر رکھا تھا‘وہ مسلمان دنیا پر چھایا ہوا علمی جمود تھا۔ ہر گروہ اپنے دائرے سے باہر قدم نکالنا جرم سمجھتا تھا ۔ جس کی وجہ سے کوئی عالم نئے مسائل کے استنباط کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ اسلامی فقہء اپنے نمو اور ار تقاء کی صلاحیت کھو چکی تھی۔ ایسے میں امام صاحب نے اس ناممکن کو ممکن بنایا ۔آپ کا تعلق حنبلی فقہ سے تھا لیکن آپ نے چاروں اماموں کی آراء کے علاوہ متقدمین اورمتاخرین کے اقوال سے بھی استنباط کیا۔ اگرچہ بہت سے امور میں خالصتاً اپنی رائے کو بھی اختیار کیا۔ 
امام صاحب نے توحید گریزاور مرکز گریز فرقوں کے عقائد پر علی الاعلان تنقید کر کے گویا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا۔ ہر طرف سے شدت سے آپ کی مخالفت شروع ہو گئی۔ آپ چومکھی لڑائی لڑتے رہے لیکن اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے ۔ دن بدن آپ کے حریفوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کی ذہنی و علمی سطح اپنے زمانے کے لوگوں سے بہت بلند تھی۔جب وہ آپ کے مقابلے میں آتے تو ان کی علمی کم مائیگی کا احساس ان کے اندر جذبہ حسد کو جنم دیتا۔ آپ جہاں جاتے‘ دلائل کے زورسے سب پر چھا جاتے۔ درس دیتے تو درس کی دیگر محفلیں بے رونق ہو جاتیں۔ پھر آپ کو اپنے راہِ حق پر ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ بدعتیوں اور دیگر فاسد خیال لوگوں کے بارے میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے۔ نہ صرف یہ کہ آپ زبان اور قلم سے جہاد کرتے بلکہ جہاں موقع ملتا‘ وہاں بزو ر برائی کا قلع قمع کرنا ضروری سمجھتے۔ ایک بار آپ کے پاس ایک پیر لایا گیا جو لمبی چوڑی گدڑی پہنے تھا۔ بال اور ناخن بڑھے ہوئے تھے ۔ گالی اور فحش کثرت سے بکتا تھا اور نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتا تھا۔ آپ نے اس کی گدڑی کو تار تار کرنے کا حکم دیا‘ اس کے بال اور ناخن کٹوائے اور فحش گوئی اور نشے سے توبہ کروائی۔ دمشق کی جامع مسجد میں ایک چٹان سے لوگوں کو عقیدت ہو گئی تھی اور وہاں مشرکانہ رسمیں ادا کی جانے لگی تھیں۔ امام صاحب نے اس کے ذرے ذرے کروا کر بکھیر دئیے۔
رفاعی فرقے کے فقراء نے اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے کرتب دکھانے چاہے اور دعویٰ کیا کہ ہم پر آگ اثر نہیں کرتی۔ اگر ہم اپنے دعوے کو سچا ثابت کر دیں تو ہم برسر حق ہیں۔ امام صاحب نے اس کو جعل سازی قرار دیا اور کہا جو شخص آگ میں کودے‘ اس کے جسم کو پہلے سر کے اور گھاس سے صاف کر کے نہلایا جائے ۔ اگر پھر بھی وہ اپنا کمال دکھائے تو اس کو دجال سمجھا جائے ۔ اس موقع پر ایک رفاعی صوفی نے اعتراف کیا کہ ہمارے کرتب شریعت کے مقابلے میں نہیں چلتے بلکہ تاتاریوں کے ہاں مقبول ہیں۔ یہ سب باتیں تھیں جنہوں نے آپ کو علم شناسوں میں مقبول اور توحید گریز فرقوں میں انتہائی غیر مقبول بنا دیا تھا۔سو آنے والے وقت میں مصائب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آپ کا منتظر تھا۔ 
مصائب وابتلاء کا طوفان اور ابن تیمیہ ؒ کی ثابت قدمی
امام صاحب پر سب سے پہلے علی الاعلان تنقید ۶۹۰ہجری میں ہوئی جب صفات باری تعالیٰ کے مسئلے پر تقریر کرتے ہوئے آپ نے اشاعرہ پر سخت تنقید کی ۔ اس پر شافعی حضرات آپ کی مخالفت میں کھڑے ہو گئے مگر قاضی القضاۃ کی حمایت کی وجہ سے ان کو خاموش ہونا پڑا۔اشاعرہ کا مخالف علمی گروہ جو معتزلہ کہلاتا تھا وہ اس سے قبل امام صاحب کی حق گوئی کے باعث ناراض ہو چکا تھا۔ 
َ ۶۹۸ہجری میں حماۃ کے علاقے سے صفات باری تعالیٰ پر ایک سوال آیا جس کے جواب میں امام صاحب نے ’’العقیدۃ الحموی‘‘تحریر کی‘ جس میں آپ نے سلف کے مذہب کو سراہا اور اشاعرہ متاخرین پر سخت تنقید کی۔ اس پر حاسدین نے اس مسئلے کو خوب اچھالا یہاں تک کہ ایک مجلس کا اہتمام کیا گیا جس میں آپ کو اعتراضات کا جواب دینے کے لیے طلب کیا گیا ۔ آپ نے تمام اعتراضات کا مدلل جواب دیا تب کسی کو زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوئی۔ 
اسی اثناء میں شیخ نصر جسے امام صاحب نے ابن عربی کے نظریات سے توبہ کرنے کے لیے خط تحریر کیا تھا‘ آپ کا شدید مخالف ہو گیا۔ نائب سلطنت اس کا معتقد تھا۔ شیخ نصر نے اس کو یقین دلایا کہ امام صاحب کا رسوخ شام میں سلطان کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے‘ چنانچہ ملک ناصر کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ ملک ناصر نے نائب شام کو امام صاحب کے عقیدے کی جانچ کے لیے کہا۔ اس سلسلے میں نائب سلطنت شام کے زیر اہتمام تین مجلسیں منعقد ہوئیں‘ جن میں علماء‘ فقہاء نے آپ کے عقائد کے بارے میں پوری تحقیق کی لیکن کوئی بات بھی خلاف سنت ثابت نہ کر سکے۔ یہ روداد ملک ناصر کو لکھ کر بھیج دی گئی۔ جس کو پڑھ کر وہ مطمئن ہو گیا۔
مخالفین سے یہ شکست برداشت نہ ہوئی اور ا نہوں نے سلطان ناصر کو یہ باور کروایا کہ نائب سلطنت خود امام صاحب کا طرفدار ہے‘ اس لیے ان کے عقائد کی صحیح جانچ نہ ہو سکی۔ لہٰذا انہیں مصر طلب کیاجائے۔ سلطان نے حکمنامہ صادر کیا اور امام صاحب مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ جس روز آپ دمشق سے روانہ ہوئے ‘اس دن سارا شہر آپ کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑا۔ شہر کے باہر راستوں پر لوگ کھڑے رو رہے تھے‘انہیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ آپ کے خلاف کوئی زبردست سازش ہونے والی ہے۔
مصر پہنچ کر آپ کے اوپر حکومت کی جانب سے مقدمہ قائم کیا گیا اور آپ کو سخت ترین سزا کا مستحق قرار دیا گیا۔ جوابِ دعویٰ کے لیے آپ تشریف لائے تو قاضی القضاۃ کے متعصبانہ روئیے کو دیکھتے ہوئے آپ نے بیان دینے سے انکار کر دیا۔ قاضی القضاۃ نے آپ کو اور آپ کے بھائیو ں کو قید کرنے کا حکم دیا۔ قید میں امام صاحب کے وعظ و ارشادات نے بہت سے قیدیوں کی زندگی بدل ڈالی۔
آپ کی عدم موجودگی کے دوران آپ کے حامی اس بات کی کوشش میں لگے رہے کہ کسی طرح امام صاحب اور آپ کے مخالفین متنازع امور پر گفتگو کے لیے راضی ہو جائیں تاکہ حق سچ ثابت ہو سکے۔ آخر کار وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ پہلے روز کی گفتگو کے بعد مخالفین میں اتنی ہمت نہ رہی کہ امام صاحب کو قید خانے بھیجنے پر ا صرار کریں۔ بالآخر اٹھارہ ما ہ کی اسیری کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔
قاہرہ کے شہریوں کے اصرار پر آپ نے وہاں کچھ عرصے قیام کا فیصلہ کیا اور جامع حاکمی میں وعظ کا سلسلہ شروع کیا۔ ابھی قید سے رہائی کو پانچ ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک جمعے کی تقریر میں آپ نے صوفیوں کے عقائد پر زبردست گرفت کی۔صوفی اس تنقید کو برداشت نہ کر سکے۔ سلطان سے شکایت کی اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ امام صاحب نے جوابِ دعویٰ کے طور پر ایسی زبردست تقریر کی کہ مدعی خاموش ہو گئے اور عدالت کوئی فیصلہ نہ کرسکی۔ آخر کار مخالفین کے اصرار پر حکومت کی طرف سے آپ کے سامنے تین تجویزیں پیش کی گئیں‘ اول یہ کہ دمشق چلے جائیں‘ دوسری صورت یہ کہ اسکندریہ میں چند شرائط کے ساتھ قیام پذیر ہوں اور تیسری صورت یہ کہ قید کی زندگی کو پسند کریں۔
امام صاحب اپنے عقیدت مندوں کے پرزور اصرار پر دمشق جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ ابھی آپ راستے میں ہی تھے کہ آپ کی قید کا فرمان جاری کر دیا گیا۔ دراصل جب آپ نے دمشق جانے کا فیصلہ کیا تو نائب سلطنت ( جو آپ کا مخالف تھا) کو احساس ہو ا کہ دمشق پہنچ کر ایک بار پھر آپ آزادانہ طور پر اپنے کام میں مصروف ہو جائیں گے۔ لہٰذا بغیر وجہ بتائے دوبارہ گرفتار کر لئے گئے۔ قید کا بیشتر وقت ذکر الٰہی اور تلاوتِ قرآن میں بسر ہوتا۔ باقی وقت تصنیف و تالیف اور قیدیوں کو وعظ و نصیحت کرتے گزرتا۔ کچھ عرصے بعد آپ کے بھائی صاحب کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ شوال۷۰۸ہجری میں نائب سلطنت امیر بیبرس نے سلطان ناصر کا تخت الٹ دیا۔ اس کو معلوم تھا کہ سلطان امام صاحب کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے۔ لہٰذا اس خدشے سے کہ کہیں امام صاحب کا اثر و رسوخ اس کے خلاف کوئی شورش نہ بر پا کر دے ‘ آپ کو اسکندریہ بھیج دیا گیا جو صوفیاء کا گڑھ تھا۔ آپ کے مخالفین اس توقع میں تھے کہ کوئی متعصب صوفی آپ کا کام تمام کر دے گااور ہمیشہ کے لیے آپ سے جان چھوٹ جائے گی۔ اگلے سال سلطان ناصر دوبارہ اقتدار حاصل کر نے میں کامیاب ہو گیا۔ امیر بیبر بس گرفتار ہو کر قتل ہوا۔ سلطان ناصر نے امام ابن تیمیہ کی رہائی کا حکم صادر کیا اور آپ کی آمد پر دربار میں گرمجوشی سے آپ کا استقبال کیا ۔ کچھ عرصہ سلطان اور قاہرہ کے شہریوں کے اصرار پر آپ نے قاہرہ میں قیام کیا۔ پھر بیت المقدس کی زیارت کے بعد واپس دمشق آ گئے اور ایک بار پھر وعظ و نصیحت اور تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ صوفیاء ‘ فقراء‘ بدعتیوں اور فقیہ حضرات سے اختلافات ایک بار پھر سامنے آنے لگے۔ آپ کی تصنیفات اور فتوے ان پر سخت گراں گزرے۔ حلف بالطلاق کے مسئلے پر بات بڑھ گئی۔ امام صاحب کی رائے تھی کہ حلف بالطلاق سے طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ فسخ حلف کا کفارہ لاز م آئے گا۔ اسی طرح چند اور مسائل پر امام صاحب کی رائے حکومت کے زیر سایہ رہنے والے عالموں سے بالکل مختلف تھی۔ قاضی القضاۃ کی جانب سے حکم دیا گیا کہ اس معاملے پر آئندہ فتویٰ جاری نہ کیا جائے۔ آپ کو چونکہ اس معاملے میں شرح صدر حاصل تھا‘اس لیے آپ نے اپنے موقف سے ہٹنے اور اپنے عقیدے کو چھپانے سے انکار کر دیا۔ ۲۲ رجب۷۲۰کو دوبارہ قید کر دیئے گئے ۔ جب علماء کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوگیا تو پانچ ماہ بعد آپ کی رہائی کے ا حکام آ گئے۔ 
اگلے پانچ سال تک پوری آزادی اور توجہ کے ساتھ درس و تدریس میں مصروف رہے۔ کچھ نئی کتابیں تصنیف کیں اور کچھ پرانی کتابوں پر نظر ثانی کی۔ علمائے وقت چونکہ ذاتی مفاد کی بناء پر امام صاحب سے دِلی پرخاش رکھتے تھے ‘ لہٰذا ایک بار پھر قبروں کی زیارت سے متعلق اس فتوے کی تشہیر کی جانے لگی جو سترہ سال پہلے آپ نے دیا تھا۔ جس کے مطابق قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنے کو ناجائز کہا گیا تھا۔ تصریح کی گئی تھی کہ نبی کریمﷺ کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کے اہتمام کے بجائے مسجد نبوی ﷺ میں نماز پڑھنے کی نیت سے آنا چاہیے اور قبرانور کی زیارت کے وقت اس طرح صلوٰۃ و سلام بھیجنا چاہیے جیسا کہ صحابہ و تابعین کا دستور تھا۔ اس بات کا خوب چرچا کیا گیا اور مخالفین نے شور مچادیا۔ بالآخر حکومت نے آپ کی اسیری کا فرمان جاری کر دیا۔ یہ اطلاع پاتے ہی آپ نے فرمایا۔ میں تو اس کا منتظر ہی تھا۔ اس میں خیر اور مصلحت پوشیدہ ہے۔ امام صاحب کی اسیری کی خبر نے اہل حق کو ایک بار پھر پژمردہ کر دیا۔ بے حساب خط سلطان کو لکھے گئے‘ جن میں آپ کی رہائی کے لیے سفارش کی گئی۔ جیل میں آپ کا سب سے بڑا مشغلہ تلاوت و تدبر قرآن تھا۔ باقی وقت علمی و فقہی سوالات کے جوابات تحریر کرتے گزرتا ۔ امام صاحب کی ہر تحریر جیل سے نکلتے ہی ہاتھوں ہاتھ لے لی جاتی۔ مسئلہ زیارت کے متعلق ایک تحریر میں قاضی عبداللہ بن الاخنائی کی تردید کی اور ان کو قلیل العلم کہا تو قاضی صاحب نے سلطان سے شکایت کر دی۔ حکومت کی طرف سے آپ کے پاس سے لکھنے پڑھنے کا سامان ضبط کر لیا گیا ۔ آپ کے لیے یہ سزا سب سے سخت تھی۔ پھر بھی صبر اور شکر بجا لائے اورجیل کی دیواروں پر کوئلے سے لکھنا شروع کر دیا۔ اسیری کے دوران قرآن کے اَسی(۸۰) دور کئے۔ 
وفات
زمانہ اسیری میں ہی طبعیت خراب رہنے لگی تھی۔ بائیس روز تک علیل رہے۔ آخر کار ۲۲ ذیقعدہ ۷۲۸ہجری کو ۶۷سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ آپ کی وفات کی اطلاع قید خانے کے مؤذّن نے مینار پر چڑھ کر دی۔ تمام شہر سکتے میں آ گیا ۔ جب جنازہ جامع اموی میں لایا گیا تو ہجوم کا یہ حال تھا کہ میدان‘ گلیاں‘ بازار سب بھر گئے‘ دکانیں بند ہو گئیں۔ لوگوں کو کھانے پینے کا ہوش نہ رہا۔ اس ہجوم میں کسی نے بلند آواز سے پکارا‘ سنت کے پیشواؤں کا جنازہ اسی شان کا ہوتا ہے۔ اس پکارنے کہرام مچادیا۔ نمازِ جنازہ کے بعد جنازے کو کندھا دینے کا موقع ملنا مشکل تھا اور جنازہ سروں پر سے گزر رہا تھا۔ ہجوم کی وجہ سے لوگوں کی پگڑیاں‘ رومال اور جوتے گر گئے اور کسی کو ان کا ہوش نہ رہا۔ جنازہ صبح کے وقت نکلا تھا اور عصر کے وقت تدفین کی نوبت آئی۔ تمام عالمِ اسلام میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ یہاں تک کہ حمص کے ایک بعید ترین شہر میں نمازِ جنازہ کا اعلان ان الفاظ میں ہوا، ’’ترجمان قرآنِ شیخ ابنِ تیمیہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔‘‘
امام صاحب کی شخصیت اور اوصافِ حمیدہ:
آپ کے ہم عصر جو آپ کے حریف بھی تھے‘ آپ کے علمی کمال کے معترف تھے۔ امام صاحب کے حریف کمال الدین الزملکانی کہتے ہیں ‘ان جیسا جامعیت رکھنے والا شخص دیکھنے میں نہیں آیا۔ ابن تیمیہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے علوم اس طرح موم کر دیئے تھے جس طرح داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا نرم کر دیا تھا۔ جس علم کے بار ے میں ان سے سوال کیاجاتا وہ اس طرح جواب دیتے کہ دیکھنے یا سننے والا یہ سمجھتا کہ وہ اسی علم میں پاک ہیں اور اس کے سواء کچھ نہیں جانتے اور یہ فیصلہ کرتا کہ ان کی طرح کا اور کوئی شخص اس علم کا عالم نہیں ہے۔
آپ جس درجے کے عالم تھے‘ اسی درجے کے عابد بھی تھے۔ نمازِفجر کے بعد اپنی جگہ بیٹھے رہتے‘ یہاں تک کہ دن اچھی طرح نکل آتا۔ اس عرصے میں ذکر اذکار اور توبہ استغفار میں مصروف رہتے۔ کوئی پوچھتا تو کہتے یہ میرا ناشتہ ہے۔ اگر میں ناشتہ نہ کروں تو میری قوت زائل ہونے لگتی ہے۔ پھر تلاوتِ قرآن کے بعد فقہی سوالوں کے جواب دیتے۔ اس کے بعد دارالحدیث السکریہ اور دارالحدیث حنبلیہ کے طلبہ کو درس دیتے۔ یہ سلسلہ نماز ظہر تک جاری رہتا۔ نمازِ عصر کے بعد عام مجلس ہوتی ‘جس میں ہرکوئی شرکت کرسکتا تھا اور علمی اور غیر علمی ہر طرح کی گفتگو ہوتی۔ نمازِ مغرب کے بعد دوبارہ طلباء کو پڑھاتے ۔ عشاء کے بعد رات گئے تک کتابوں کی تصنیف و تالیف کے کاموں میں مصروف رہتے۔ رات کو تمام لوگوں سے علیحدہ رہتے تھے۔ (آپ نے ساری زندگی شادی نہ کی)۔ اس وقت آپ ہوتے اور قرآن مجید ہوتا جس کی برابر تلاوت کرتے رہتے اور آنکھوں سے آنسو جاری رہتے۔ نوافل‘ عبادت اور ذکر میں دیر تک مشغول رہتے۔ جب نماز شروع کرتے تو آپ کے شانے اور اعضاء کانپنے لگتے‘ یہاں تک کہ ان کو دائیں بائیں لرزش ہوتی۔ 
غنائے قلب کی جس نعمت سے اللہ نے آپ کو نوازا تھا‘اس کے بعد دنیا کی کوئی دولت آپ کے لیے اہم نہ تھی۔ ایک بار چند افواہوں سے متاثر ہو کر سلطان نے پوچھا‘کہیں آپ میری سلطنت پر قبضے کے خواب تو نہیں دیکھ رہے؟ آپ نے جواب دیا۔ میں ایسا کس لیے کروں گا؟اللہ کی قسم تمہاری اور تاتاریوں کی سلطنت مل کر بھی میری نگاہ میں ایک پیسے کے برابر بھی نہیں ہے۔ 
آپ کے حریف عمر بھر اپنے طور پر آپ کو ستاتے رہے ۔مگرجتنا وہ آپ کو ستاتے‘ اتنا آپ صبر کرتے اور عزیمت کے درجات طے کرتے جاتے ۔ خود فرماتے ’’میرے دشمن میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ میری جنت میرے دل میں ہے اور میرا باغ میرے سینے میں ہے۔ میں جہاں بھی جاؤں گا وہ میرے ساتھ رہیں گے۔ میری قید میرے لیے گوشہ تنہائی ہے‘ میرا قتل میری شہادت ہے اور میری جلاوطنی میری سیاحت ہے‘‘۔ 
اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کو فراخ دلی سے معاف کر دیتے۔ سلطان ناصر جب دوبارہ برسر اقتدار آ یا تو جن جن لوگوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی تھی‘ ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ آپ کو معلوم ہوا تو سلطان سے صاف کہہ دیا کہ میں اپنی ذات کے لیے کوئی انتقام نہیں لوں گا اور اس بات پر اتنا اصرار کیا کہ سلطان کو قائل کر لیا۔ 
امام صاحب کے اوصاف ‘ کمالات اور اخلاقی محاسن اس قدر ہیں کہ اس مختصر مضمون میں ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اپنے مضمون کا اختتام ہم حافظ ذہبی کے الفاظ پر کرتے ہیں ۔حافظ ذہبی اپنی کتاب میں جب آپ کی مدح لکھتے لکھتے تھک گئے تو کہا ’’ان کا مقام اس سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے کہ مجھ جیسا شخص ان کی سیرت و فضیلت بیان کرے۔ قسم اللہ کی اگر میں خانہ کعبہ میں عین رکن یمانی و مقام ابراہیم ؑ کے درمیان کھڑے ہو کر قسم کھاؤں کہ نہ تو میری آنکھوں نے ان کا مثل دیکھا‘ نہ خود انہوں نے اپنا ثانی چھوڑا‘تو میری قسم سچی ہو گی اور مجھے کفارہ ادا نہیں کرنا پڑے گا ۔‘‘مولانا عطا ء اللہ حنیفؒ نے آپ کی ۵۸۲تصنیفات کے نام گنوائے ہیں۔ تفسیر کے ضمن میں۰۲ا‘ کتبِ حدیث کی ا۴‘فقہ و فتاویٰ کی۳۸ا‘ اصول فقہ کی۲۸‘عقائد و کلام کی۲۶ا اور اخلاق و تصوف میں۷۸چھوٹی بڑی کتابیں اور رسالے آپ نے لکھے۔آپ سے لوگوں نے بے حد احسانات وفیض اٹھایا۔ آپ کے شاگردوں میں حافظ ابنِ قیم‘ حافظ ابنِ کثیر‘ حافظ ابنِ عبدالہادی اور حافظ ذہبی نے بہت شہرت پائی۔ 
اللھم اغفرلہ وادخلہ الجنۃ الفردوس وارفع مقامہ۔ آمین! 

Wednesday, 10 September 2014

Imam Malik


آٹھویں کہانی
امام مالکؒ 
یہ کہانی امام مالکؒ کی ہے جو فقہ مالکی کے بانی اور دوسری صدی ہجری میں مدینہ منورہ میں حدیث اور فقہ کے سب سے بڑے عالم تھے۔ آپ کا نام مالک‘ کنیت ابو عبداللہ اور لقب امام دارالہجرہ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے۔ مالک بن انس بن مالک الاصبحی بن ابی عامر۔ صحیح روایات کے مطابق آپ ۹۳ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفا کا عہد نبھانے والوں کی فہرست میں اس لیے شامل کیا ہے کیونکہ آپ نے نبی کریم ﷺکی طرح حق بیان کرنے کے حوالے سے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ اگر جبراً کسی سے طلاق دلائی جائے تو واقع نہ ہو گی۔ اس کے برخلاف عباسی خلیفہ منصور نے لوگوں سے جبراً بیعت لی تو امام مالک ؒ نے اعلان فرمایا جو کام جبراً کرایا جائے‘ شرع میں اس کا اعتبار نہیں ۔ جس طرح جبراً کسی کو طلاق دلائی جائے تو واقع نہیں ہوتی ۔ 
خلیفہ منصور نے اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو مدینہ کا والی مقرر کیا اور اس نے نئے سرے سے لوگوں سے منصور کے لیے جبراً بیعت لی اور امام مالکؒ کو کہلا بھیجا کہ آئندہ طلاق جبری کے خلاف فتویٰ نہ دیں ورنہ لوگ جبری بیعت کو بھی بے اعتبار ٹھہرائیں گے ۔ امامؒ صاحب بھلا حق بات کہنے سے کب رکنے والے تھے۔ آپ ؒ نے حق کا اعلان جاری رکھا ۔چنانچہ آپ ؒ کے لیے ستر(۷۰) کوڑوں کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا۔
امامؒ صاحب مجرموں کی طرح لائے گئے ۔ قمیص اتار کر ستر کوڑے آپ ؒ کی پیٹھ پر برسائے گئے ۔ کمر خون آلود ہو گئی۔ کاندھوں کے جوڑ تک ہل گئے۔ پھر اونٹ پر بٹھا کر سارے شہر میں اس حال میں پھرایا گیا کہ امام ؒ رِستی ہوئی پیٹھ کے ساتھ نڈھال اونٹ پر بیٹھے تھے اور زبان نعرہ حق بلند کرنے میں مصروف تھی۔ مدینہ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے کہتے جاتے تھے۔ ’’جو مجھ کو جانتا ہے‘وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں‘ فتویٰ دیتا ہوں کہ جبری طلاق درست نہیں‘‘۔
پھر آپؒ مسجد نبوی میں تشریف لائے ۔ خون صاف کیا اور دوگانہ نماز پڑھ کر فرمایا ۔ سعیدؒ بن مسیب (مشہور تابعی )کو بھی کوڑے مارے گئے تو انہوں نے بھی مسجد میں آ کر نماز پڑھی تھی۔ بعد میں خلیفہ منصور کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اسے بہت افسوس ہوا۔ آپؒ کی خدمت میں معذرت کی اور اپنے چچا زاد بھائی کے خلاف کارروائی کی ۔ یہ واقعہ آپ ؒ کے خلاف حجّت بننے کی بجائے آپؒ کے حق میں حجت بن گیا اور رہتی دنیا تک کلمہ حق بلند کرنے والوں میں آپؒ کا نام شامل ہو گیا۔َآپ ؒ کا نام اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے یہی ایک واقعہ کافی تھا مگرآپؒ کی تو زندگی نبی کریمﷺ سے گہرے عشق کے واقعات سے بھری پڑی ہے‘ جس کا ایک ایک واقعہ حیران کن ہے۔
امامؒ صاحب کا تعلق ایک علمی خانوادے سے تھا۔ آپؒ کے پردادا عہد نبویﷺ میں مسلمان ہوئے ۔ روایات سے ان کے صحابی رسول ﷺہونے کی دلیل بھی ملتی ہے۔ آپ ؒ کے خاندان میں سب سے پہلے ابو عامر نے مدینہ منورہ تشریف لا کر سکونت اختیار کر لی تھی۔ آپ ؒ کے دادا بلند پایہ تابعی تھے۔ حضرت عثمانؓ کے ساتھ ان کاتعلق خصوصی تھا۔ انہوں نے طلحہؓ ‘ عقیلؓ بن ابی طالب ابو ہریرہؓ اور عائشہؓ اُم المومنین کی شاگردی اختیار کی۔ سلیمان بن یسار نے جو مدینہ کے فقہائے سبعہ میں سے تھے‘ ان سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ 
آپؒ کے چچا ابو سہیل نافعؒ بھی بلند پایہ محدث تھے۔ ان کے شاگردوں میں امام زہریؒ اور امام اسماعیلؒ بن جعفر بہت مشہور ہوئے۔ خود امام مالک ؒ مدینتہ الرسولﷺ جیسے علمی مرکز میں پرورش پا رہے تھے۔ جہاں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ‘ عبداللہ بن عمرؓ ‘ ابو ہریرہؓ ‘ عبداللہ بن عباسؓ ‘ زیدؓ بن ثابت کی مبارک درسگاہیں تھیں۔ جن سے قاسم بن محمد بن ابی بکر‘ عروہ بن زبیرؓ جیسی شخصیتوں نے استفادہ کیا۔ عبداللہ بن عمرؓ سے نافع اور عبداللہ بن دینار نے ‘ زیدؓ بن ثابت سے ان کے بیٹے خارجہ بن زید اور عبداللہ بن عباسؓ نے اور ابو ہریرہؓ سے سعید بن مُسیّب(مشہورتابعی) نے تعلیم پائی۔ اس کے علاوہ امام زہری ؒ ‘ امام جعفرصادقؒ اور ربیعہ رائی ؒ نے مدینہ کے علماء میں بہت شہرت پائی۔ یہ ایسا علمی ماحول اور پاکیزہ فضا تھی جس میں امام مالک کی تربیت ہوئی۔ اس وقت تعلیم کا نصاب نہایت سادہ اور مختصر تھا۔ یعنی قرآن مجید‘ حدیث اور فقہ۔ امامؒ صاحب نے بھی ان کے حصول کے لیے کوشش کی ۔ چناچہ قرآن کی قرأت اور سند امام القراء ابو دریم نافع بن عبدالرحمان سے حاصل کی‘جن کی قرأت پر آج تمام دنیائے اسلام کی قرأت کی بنیاد ہے ۔ علم الحدیث کی تعلیم آپ نے شیخ الحدیث نافع ؒ سے حاصل کی‘ خود جنہوں نے تیس۳۰برس عبداللہ بن عمرؓ کی خدمت کر کے علم کا خزانہ سمیٹا اور پھر عمر بھر اسے آگے بانٹتے رہے۔ بڑے بڑے ائمہ حدیث ان کے شاگرد تھے۔ امام مالکؒ نے بھی ابتدائی زمانے میں ان سے تعلیم حاصل کی ۔ خود آپؒ کا بیان ہے ۔ میں نافع ؒ کے پاس آتا تھا تو ایک کمسن لڑکا تھا۔ میرے ساتھ ا یک خادم ہوتا تھا۔ نافعؒ اترکرآتے تھے تو مجھ سے حدیث بیان کرتے تھے۔ 
امامؒ صاحب کو اپنے استاد ؒ کے علم پر اتنا بھروسا تھا کہ فرماتے ہیں جب میں ابن عمرؓ کی حدیث نافع ؒ کی زبان سے سن لیتا ہوں تو پھر اس کی پروا نہیں کرتا کہ کسی اور سے بھی اس کی تائید سنوں۔ بعد میں ان روایات کو جو امام مالکؒ نے نافعؒ سے اور نافعؒ نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہیں‘ ان کے مصدقہ ہونے کے باعث انہیں طلائی زنجیر کہا جانے لگا۔ 
اس کے علاوہ آپ ؒ نے محمدؒ بن شہاب الزہری کی شاگردی اختیار کی ۔ ان کا رتبہ روایت حدیث میں بہت بلند ہے۔کتبِ ستہ کی احادیث میں ان سے روایت شدہ احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ابو بکرؒ بن حزم کے بعد علم حدیث کے یہ دوسرے مدوّن ہیں۔ ناقد ینِ حدیث امام زہریؒ سے بڑھ کر متن و سند کا حافظ کسی کو نہ سمجھتے تھے۔ ان سے یہ علم امام مالکؒ کو منتقل ہوا۔ زہری ؒ کے بے شمار شاگردوں میں امام مالکؒ سب سے بلند مرتبہ سمجھے جاتے ہیں۔ علم حدیث کے لیے نافعؒ اور زہریؒ کے علاوہ امام جعفر صادقؒ ‘ محمدؒ بن المنکد ر‘ محمدؒ بن یحییٰ ‘ ابو حازم اور ابو سعیدؒ یحییٰ کی بھی امام مالکؒ نے شاگردی اختیار کی۔ امام مالک ؒ کے اساتذہ کی فہرست کو دیکھا جائے تو تقریباً ۹۳ شیوخ سے آپؒ کے استفادے کی تفصیل ملتی ہے۔ علم الفقہ کی تعلیم خاص طور سے الرّبیعہؒ سے حاصل کی۔ اجتہاد میں ان کا درجہ اتنا بلند تھا کہ رائی ان کا لقب ہو گیا ۔ ربیعہؒ خاص مسجدِ نبویﷺ میں درس دیتے تھے۔ یوں تو ان کے لائق فائق شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن امام مالک ؒ کے ساتھ ربیعہؒ کو ایسا تعلق تھا کہ اسماء الرجال میں شیخ مالک ان کے نام کا جزو بن گیا۔ یہ وہی ربیعہ ہیں جن کی تعلیم و تربیت میں ان کی والدہ کا بے مثال تذکرہ کتابوں میں یوں آتا ہے کہ ربیعہؒ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے والد جنگِ خراسان میں شرکت کی غرض سے چلے گئے اور بیوی کو ۳۰ ہزار دینار دے گئے۔ ۲۷ سال بعد واپس آئے تو ان کے بیٹے ربیعہ جو ان ہو کر صاحب کمال ہو چکے تھے اور مسجد نبوی ﷺمیں درس دیا کرتے تھے۔ ان کے والد نے ان کی یہ شان دیکھی تو بہت مسرور ہوئے ۔ کچھ دن بعد بیوی سے روپیہ کا حساب پوچھا تو بیوی نے پوچھا کہ بیٹے کی یہ شان عزیز ہے یا وہ روپیہ۔ کہنے لگے کہ بیٹے کایہ مرتبہ عزیز ہے‘ بیوی کہنے لگی بس وہ روپیہ سب اس کی تعلیم و تربیت میں خرچ ہو گیا۔
امام مالکؒ نے صرف انہی اساتذہ سے علم سیکھا جو صدق و سچائی اور حفظ و فقہ میں ممتاز تھے۔ خود فرماتے ہیں کہ مدینہ میں بیسیوں اشخاص تھے‘ جن سے لوگ حدیث سیکھتے تھے لیکن میں نے کبھی ان سے اخذِ علم نہیں کیا۔ ان میں سے بعض مغزِ سخن سے ناواقف اور بعض جاہل تھے۔ امام مالکؒ کی اسی احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے شاگرد کسی بھی شیخ کی روایت کو قبول کرتے ہوئے دیکھتے کہ امامؒ صاحب نے بھی ان کا نام لیا ہے یا نہیں۔ اگر امامؒ صاحب کے تذکروں میں ان کا نام پاتے تو قبول کرتے ‘ ورنہ چھوڑ دیتے۔ طلب علم کے لیے آپ سے سفر ثابت نہیں ہے۔ شایداس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو خود مدینہ ہی دینی علوم کا مرجع بنا ہوا تھا‘ پھر تمام دنیائے اسلام کے طالبین علم خود ہی مدینہ حاضر ہوتے تھے اور بڑے بڑے شیوخ بھی زمانہ حج میں خود یہاں تشریف لا کر علم کے موتی بکھیرتے ۔ امامؒ صاحب کے شیوخ میں ان حضرات کے نام بھی ملتے ہیں جو مدینہ میں سکونت نہیں رکھتے تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان سے اخذ و استفادہ مدینہ ہی میں کیا ہو گا۔
امام مالک ؒ قوی الحافظہ تھے ۔ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی چیز میرے خزانہ دماغ میں آکر پھر نہیں نکلتی ۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ حصول علم امام مالکؒ کے لیے کوئی سہل چیز تھی۔ آپ ؒ کا بیان ہے کہ حضرت نافع ؒ سے حدیث سیکھنے کا وقت ٹھیک دوپہر تھا۔ دوپہر کی دھوپ میں بلا سایہ شہر سے باہر بقیع میں جاتا تھا جہاں ان کا مسکن تھا۔ ایک اور شیخ ابن ہر مزؒ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے گھر صبح کو جاتا تو رات کو ہی آتا تھا۔ اس خلوص اور محنت شاقہّ نے جلد ہی آپؒ کو صاحب علم و فضل بنا دیا اور آپؒ کے ہم عصر آپؒ پر رشک کرنے لگے۔ 
مجلسِ درس
امام مالکؒ کم عمری میں ہی درسِ حدیث و فقہ کی مسند پر جا بیٹھے۔ شعبہ ؒ جو کوفہ کے سب سے بلند پایہ محدث سمجھے جاتے تھے۔بیان کرتے ہیں کہ نافع کی وفات کے ایک سال بعد مدینہ آیا تو دیکھا کہ مالکؒ ایک حلقہ کے صدر نشین ہیں۔ اس وقت آپ کی عمر اندازاً ۲۴ برس تھی۔ مستقلاً درس کا حلقہ قائم کرنے سے پہلے خود فرماتے ہیں کہ جب تک ۷۰ مشاہیر علماء نے اس بات کی گواہی نہ دی کہ میں فتویٰ کا اہل ہوں‘ اس وقت تک اس منصب کو اختیار نہ کیا۔ ابھی آپؒ کے استاد ربیعہ رائی زندہ تھے کہ آپؒ حدیث و فقہ میں ماہر سمجھے جانے لگے اور ربیعہؒ کی وفات ۳۶اہجری کے بعد فقہ و اجتہاد کے اما م تسلیم کر لیے گئے۔ 
رسول اللہ ﷺ کی پیشینگوئی آپؒ کی خدمت میں لوگ حصولِ علم کے لیے دور دور سے اونٹنیوں پہ سوار ہو کر آتے تھے۔ اکثر لوگوں کا گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی پیشنگوئی کہ مدینہ کے امام سے علم حاصل کرنے کے لیے ایک زمانے میں دور دور سے لوگ آئیں گے‘ وہ اسی امام مدینہ کی طرف اشارہ تھا‘ جس سے طالبین استفادہ کرتے تھے۔امام مالکؒ کی مجلسِ درس ہمیشہ پرتکلف اور شاندار ہوتی تھی۔ بیش قیمت قالین بچھائے جاتے‘خوشبو مہکائی جاتی‘صفائی کا یہ عالم تھا کہ فرش پر ایک تنکا بھی پڑا دکھائی نہ دیتا تھا۔ امام مالکؒ مجلس کے وسط میں اس جگہ اونچی نشست پر بیٹھتے جہاں امیر المومنین عمر فاروقؓ بیٹھا کرتے تھے۔ پھر حدیث کی سماعت فرماتے تھے۔ مجلس میں ایسی خاموشی ہوتی کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کتاب کے ورق بھی اس ڈر سے نہیں الٹتے تھے کہ کھڑکھڑاہٹ کی آواز نہ ہو۔ اتنی خاموشی اور اتنا سکوت اس پر تھا کہ آپ ؒ کی مجلس میں سینکڑوں طلباء‘ علماء‘ امراء اور سیاح حاضر ہوا کرتے تھے۔ شورو شغب تو دور کی بات ‘ آپؒ کی مجلس میں تو کسی شخص کو بلند آواز سے بولنے کی مجال نہ تھی۔دورانِ درس امام صاحب کا ایسا رعب طاری ہوتا کہ ایک شاعر کے اس بارے میں شعر کا ترجمہ یہ ہے: ’’ اگر امامؒ صاحب جواب دینا چھوڑ دیں تو سب سرنیچا کیے بیٹھے رہیں اور آپؒ کی ہیبت سے دوبارہ پوچھنے کی جرأت نہ کر سکیں۔ وقار آپ ؒ کا ادب کرتا تھا اور آپؒ پرہیزگاری کی بادشاہت پر عزت کے ساتھ متمکن تھے۔‘‘ عجیب بات یہ تھی کہ آپؒ کی ہیبت لوگوں پر پڑتی‘ حالانکہ آپ بادشاہ نہ تھے۔ مجلس میں امیر و غریب اور خاص و عام کی کوئی تمیز نہ تھی۔ البتہ اپنے قریب سمجھدار اور لائق طلبہ کو جگہ دیتے۔ درس شروع کرنے سے قبل فرماتے صاحب فہم لوگ قریب آ کر بیٹھیں۔ آپ ؒ کا طریقہ تدریس یہ تھا کہ شاگرد پڑھتا اور آپؒ سنتے اور بوقتِ ضرورت اصلاح کر دیتے۔ محدثین کی اصطلاح میں اسے قرأۃ التلمیذ علی الشیخ کہا جاتا ہے۔ ایک اور طریقہ جو رائج تھا ‘اس میں استاد پڑھتا اور شاگرد سنتے تھے۔ اس طریقے کو قرأۃ الشّیخ علی التلمیذ کہا جاتا تھا۔ اول الذکر طریقہ امام مالک ؒ کا تھا جو ہر لحاظ سے بہتر اور محفوظ تھا۔ محدث خود قر ات نہ کرتا تھا۔ اس لیے دوبارہ سننے میں اپنے مسودے کی غلطی کی اصلاح کر لیتا۔ پھر شاگردوں کو بھی پتہ چل جاتا کہ حدیث کا اصل متن کیا ہے اور شیخ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے ۔ ورنہ دوسری صورت میں اصل متن حدیث اور شیخ کا کلام خلط ملط ہونے کا خدشہ رہتا۔ آپؒ کے درس میں حدیث کی املاء آہستہ اور سکون سے کی جاتی ۔ ایک حدیث ختم ہوجاتی تو پھر دوسری حدیث شروع کرتے۔ 
احترامِ حدیث اور حبِ رسول ﷺ 
عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن علماء کا اوڑھنا بچھونا درس وتدریس ہو‘ وہ قرآن و حدیث کے بیان میں ضروری احتیاط اور خصوصی اہتمام نہیں کر تے۔ امامؒ صاحب کا معاملہ مختلف تھا۔ آپؒ کے ہاں نبی کریمﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے اقوال کا اتنا ادب کیاجاتا کہ مناسب ہوگا کہ اس پر ایک الگ عنوان کے تحت روشنی ڈالی جائے۔ امام صاحب درس حدیث سے قبل غسل کرتے ‘ خوشبو لگاتے‘ صاف ستھرے اور عمدہ کپڑے زیب تن کرتے۔ پھر حدیث بیان کرتے تو کمالِ ادب کی وجہ سے کبھی پہلو نہ بدلتے ۔ مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب آپ نبی کریم ﷺ کا تذکرہ فرماتے تو آپؒ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا اورحد ادب سے سر جھک جاتا۔ اس ضمن میں ایک مشہور واقعہ آپ ؒ کے شاگرد عبداللہ بن مبارک نے روایت کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک روز جب امام مالک ؒ حدیث روایت فرما رہے تھے‘ ایک بچھو نے آپ ؒ کو کاٹا اور غالباً دس بار ڈنگ مارا ہو گا۔ اس تکلیف کی وجہ سے امامؒ طاحب کا چہرہ زردی مائل ہو گیا۔ مگر انہوں نے سلسلہ حدیث کو منقطع نہ ہونے دیا۔ جب مجلس حدیث ختم ہو گئی اور سب لوگ چلے گئے تو میں نے آپؒ سے عرض کیا کہ آج آپؒ کے چہرے پر کچھ تغیر محسوس ہو رہا تھا۔ اس پر آپؒ نے صورتِ واقعہ بیان کی اور کہا کہ اس قدر صبر کرنا قدرتِ برداشت کی بناء پر نہ تھا بلکہ نبی کریم ﷺ کی حدیث کی تعظیم کی وجہ سے تھا۔ یہ خصوصی اہتمام درس حدیث کے لیے ہی کیا کرتے اور جب فقہ کے لیے تشریف لاتے تو جس حال میں ہوتے‘ بیٹھ جاتے۔ آپؒ کی تمام عمر مدینہ منورہ میں گزری لیکن حرم نبویﷺ کا احترام اس قدر تھا کہ قضائے حاجت کے لیے حدود حرم سے باہر تشریف لے جاتے۔ عمر بھر مدینہ میں سوار ہو کر نہیں پھرے‘ حتیٰ کہ ضعف اور کمزوری کی حالت میں بھی فرماتے کہ مجھ کو شرم آتی ہے کہ میں اپنی سواری کے کھروں سے اس جگہ کو روندوں جس مبارک سر زمین پر حضور ﷺ آرام فرما رہے ہوں۔ اگر کوئی شخص اپنی آواز مسجد نبویﷺ میں بوقت درس حدیث بلند کرتا تو اس کو آواز پست کرنے کو کہتے ‘ اس لیے کہ اللہ کا حکم ہے کہ اے ایمان والو اپنی آواز کو نبیﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔ امام مالک ؒ کا خیال تھا کہ حدیث بیان کرتے وقت زور سے بولنا ایسا ہی ہے جیسا حضورﷺ کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنا۔ایک بار خلیفہ منصور کو مسجد نبوی ﷺ میں زور سے بولنے پر تنبیہ کی۔ مسجد نبویﷺ سے آپؒ کوبہت محبت تھی۔ ایک بار خلیفہ ہارون نے چاہا کہ منبر نبوی ﷺ کو جس پر صرف تین زینے تھے (اضافہ بعد میں کیا گیا تھا ) واپس اس حالت میں لوٹا دیا جائے جیسا وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں تھا۔ امامؒ صاحب کو معلوم ہوا تو اس کو منع کیا کہ منبر کی لکڑی پرانی اور کمزور ہے۔ ایسا نہ ہو کہ تختوں کے ادھر ادھر کرنے سے ٹوٹ جائے اور یہ یادگار نبیﷺ ضائع ہو جائے۔ آپ ؒ کی یہ بات سن کر ہارون باز آ گیا۔ عمر کے آخری حصے میں آپؒ مدینہ سے باہر کا سفر اختیار نہ کرتے۔ اس کے پیچھے یہ تمنا تھی کہ میں یہیں پر مروں اور یہیں پر دفن ہوں۔ زندگی میں بھی جب کبھی مدینہ سے باہر جانے کی بات سامنے آتی تو انکار کر دیتے۔ ایک بار خلیفہ مہدی نے دو ہزار اشرفیاں روانہ کیں اور اپنے ساتھ بغداد لے جانے کے لیے اصرار کرنے لگا ۔ آپ ؒ نے انکار کر دیا تو کسی کے ہاتھ دوبارہ کہلا بھیجا ۔ آپ نے المدینۃ خیرلھم (مدینہ ان کے حق میں بہتر ہے ) والی حدیث نقل فرمائی اور قاصد کو کہا کہ مال کی تھیلی موجود ہے ‘ چاہو تو اٹھا کر لے جاؤ مگر مدینہ سے دور جانا گوارا نہیں ہے۔ اللہ کے نبی کی ذات، آپ ﷺ کے ارشادات اور آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے شدید محبت تھی۔ مختلف روایات میں آتا ہے کہ خواب میں کئی بار آپ کو نبی اکرمﷺ کا دیدار مبارک بھی نصیب ہوا۔ 
سیاسی حالات
امام مالکؒ صاحبِ علم تو تھے ہی‘ صاحبِ بصیرت اور صاحبِ حق بھی تھے۔ اللہ نے آپ ؒ کی زبان پر حق کو جاری کر دیا تھا اور آپؒ کے دل کو حق بات کا محافظ بنایا تھا۔ ایسے مواقع آئے کہ آپؒ نے اپنی جان اور آبرو کی پروا کئے بغیر کلمہ حق بلند کیا۔ قبل اس کے کہ امامؒ صاحب کے اس تاریخی کردار پر روشنی ڈالی جائے‘ اس زمانے کے سیاسی حالات مختصر بیان کرنا مناسب ہو گا۔ چوتھے خلیفہ راشد حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد خلافت بنو امیہ کے پاس چلی گئی لیکن ہاشمیوں نے جن میں سیدہ فاطمہؓ کی اولاد‘ عباسؓ کی اولاد اور عام علوی شامل تھے ‘وہ دل سے ان کی حکومت کو قبول نہ کرتے تھے اور خلافت ہاشمیہ کے قیام کی خفیہ کوششیں جاری رہیں۔ یہ لوگ اپنے سیاسی و دینی مقاصد کے حصول کے لیے امام نامزد کر تے۔ ابتداء میں کسی علوی کو امام نامزد کر دیتے۔ بعد ازاں ابو ہشام کا جب شا م میں انتقال ہوا تو وہاں سوائے عباسؓ کے پڑپوتے محمد کے اور کوئی بھی ہاشمی موجود نہ تھا۔ ابو ہشام نے موت سے قبل اپنی جانشینی کی وصیت محمد کے حق میں کی۔ یہ پہلا دن تھا جب علوی خاندان سے خلافت کا دعویٰ خاندان عباس میں منتقل ہوگیا۔ محمد کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم امام بنے اور ان کے بعد ابو العباس سفاح بنو ہاشم کا سرخیل ہوا۔۳۲ا ہجری میں سفاح بنو امیہ سے حکومت چھیننے میں کامیاب ہو گیا۔ مروان جو بنو امیہ کا حاکم تھا ‘ بنو عباس سے شکست کھا کر بھاگا اور بالآخر مارا گیا۔ مروان کے قتل اور اموی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی بنو عباس کے جذبہ انتقام کو تسکین نہ ملی اور انہوں نے عوام کے دلوں پر اپنا رعب بٹھانے کے لیے نہایت بیدردی سے اموی خاندان کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کی۔یہاں تک کہ اموی خلفاء کی قبریں کھدوا کر ان کی خاک برباد کی۔ حکومت ملنے کے بعد ابوالعباس سفاح نے حقِ خلافت کو بنو ہاشم میں سے صرف بنو عباس کے لیے مخصوص کر دیا۔ 
ایک طرف بنو امیہ کی بیخ کنی میں ظلم و ستم کی تمام حدیں توڑ دی گئیں تو دوسری طرف فاطمی اور علوی بھی خلافت کو بنو عباس تک محدود کرنے پر سخت ناراض تھے۔ سفاح کی خلافت کا ساڑھے چار سالہ دور خانہ جنگیوں کی نذر ہو گیا۔ ابو مسلم خراسانی جو عباسی تحریک کا روحِ رواں تھا ، دراصل پارسی نژاد نو مسلم تھا اور انتہائی تیز طرار اور زبردست ذہن کا مالک تھا۔ اس نے اپنی کارگزاریوں اور حسن خدمت سے ایک طرف تو عباسیوں میں رسوخ حاصل کر لیا تھا تو دوسری طرف عربوں سے شدید نفرت کے باعث ان کو لڑانے کے درپے رہتا۔ اس کو اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل ہوئی اور عرب قبیلے آپس میں الجھ پڑے جس سے ان کی طاقت پارہ پارہ ہو گئی۔ 
امام مالک ؒ کی بے نفسی اور علمی انکساری 
ابو العباس سفاح کی موت کے بعد اس کابھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا تو وہ ۴۰اہجری میں حج و زیارت کے لیے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ آیا۔ منصور امام مالک کا زبردست معتقد تھا۔ وہ اس انقلاب سے پہلے مدینہ کی درسگاہ کا ایک طالب علم اورا مام مالکؒ کے حلقے کا ایک شریک صحبت تھا۔ آپ ؒ کی قدرومنزلت سے واقف تھا ۔ اس نے علماء کی محفل میں خاص طو ر سے آپ ؒ کو مخاطب کر کے کہا اے ابو عبداللہ میں اختلافات فقہی سے گھبراگیا ہوں ۔ عراق میں تو کچھ نہیں ہے ۔ شام میں صرف شوقِ جہاد ہے‘ وہاں کوئی بڑا عالم نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ حجاز میں ہے اور حجاز کے علماء کے سرخیل آپؒ ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپؒ کی تصنیف’’ موطاء‘‘ کو خانہ کعبہ میں آویزاں کر دوں تاکہ لوگ اسی کی طرف رجوع کریں اور تمام اطرافِ مملکت میں اس کی نقلیں بھیجوں تاکہ اسی کے مطابق لوگ فتویٰ دیں۔ اس پر امامؒ صاحب نے فرمایا صحابہ تمام اطراف مملکت میں پھیل گئے تھے ۔ ان کے فتاویٰ اور احکام اپنے اپنے مقام میں وراثتاً ان کے فقہا اور علماء تک پہنچے ہیں اور ہر جگہ وہی مقبول ہیں۔ ایسی حالت میں ایک شخص کی رائے و عقل پر جو صحت اور غلطی دونوں کر سکتا ہے ‘ تمام ملک کو مجبور کرنا مناسب نہیں۔ منصور نے کہا اگر آپ ؒ مجھ سے متفق ہوتے تو میںآپ ؒ کی کتاب ’’موطاء ‘‘کے مطابق ہی لوگوں کو فتویٰ دینے کی تاکید کرتا۔ امام مالک ؒ کے اس علمی انکسار کا موازنہ ہمارے یہاں کے طرزِ عمل سے کرنا چاہیے ‘جہاں کیا علماء اور کیا عوام سبھی اپنی فقہ کے بزور نفاذ کے لیے حکام وقت کو دہائیاں دیتے رہتے ہیں بلکہ اس کے لیے تحریک چلانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ منصور امام مالکؒ کی کس قدر عزت کرتا تھا‘ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار سفیان ؒ ثوری منصور سے ملاقات کو گئے اور دیر تک اسے سخت الفاظ میں نصیحت کرتے رہے۔ ایک درباری نے کہا آپؒ ایسے زبان دراز شخص کے قتل کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ منصور نے کہا خاموش‘ سفیان ثوریؒ اور مالکؒ بن انسؒ کے سوا کوئی نہیں جس کا ادب کیاجائے۔ 
صاحب عزیمت 
خلیفہ ء وقت کی یہ قدر شناسی آپؒ کو اپنی طرف مائل کر سکتی تھی مگر حق شناسی اور حق گوئی کی راہ میں نہ ظالم کا ظلم حائل ہوا اور نہ قدر شناس حاکم کی نظرِکرم۔ خلیفہ منصور نے جب دیکھا کہ فاطمی و علوی خلافت کو بنو عباس کے لیے مخصوص کرنے پر خوش نہیں ہیں تو ان کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک اختیار کیا گیا۔ یہاں تک کہ جب ظلم و تعدّی حد سے بڑھ گیا تو سادات میں سے نفس زکیہ نے مدینہ میں خروج کیا۔ امامؒ صاحب نے فتویٰ دیا کہ خلافت نفس زکیہ کاحق ہے ۔ لوگوں نے پوچھا ہم منصور کی بیعت پر حلف اٹھا چکے ہیں۔ امامؒ صاحب نے فرمایا ‘ منصور نے جبراً بیعت لی ہے اور جو کام جبراً کرایاجائے شرع میں اس کا اعتبار نہیں ۔ حدیث ہے کہ اگر جبراً کسی سے طلاق دلائی جائے تو واقع نہ ہو گی۔ مدینہ کے اکثر لوگوں نے نفس زکیہ کا ساتھ دیا مگر ان کو کامیابی حاصل نہ ہوئی اور وہ بڑی بہادری سے میدان جنگ میں لڑتے ہوئے شہیدہوئے۔ ان کے بھائی ابراہیم بھی میدان میں آئے مگر وہ بھی شہید ہوئے ۔ منصور نے اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو مدینہ کا والی مقرر کیا ۔ جعفر نے مدینہ پہنچ کر نئے سرے سے لوگوں سے بیعت لی اور امام مالکؒ کو کہلا بھیجا کہ آئندہ طلاق جبری کے خلاف فتویٰ نہ دیں ورنہ لوگ جبری بیعت کو بھی بے اعتبار ٹھہرائیں گے۔ امامؒ صاحب بھلا حق بات کہنے سے کب رکنے والے تھے ۔ستر کوڑوں کی سزا جس کا ذکر شروع میں آیا ‘اس کا پس منظریہ واقعہ تھا۔
منصور کو ایک بار معلوم ہوا کہ علماء اس کی حکومت سے ناراض ہیں ۔ مشورے کے لیے اس نے رات کے وقت ہی آپ ؒ کو اور چند دیگر علماء کو بلا بھیجا ۔ امامؒ صاحب غسل کر کے اور حنوط مل کر حاضر ہوئے ۔ منصور نے کہا اے گروہ فقہاء تم کو فرض تھا کہ میری اطاعت کرتے مگر تم تو مجھ کو برا بھلا کہتے ہو ۔ اگر مجھ میں کچھ برائی ہے تو تم نصیحت کرتے ۔ پھر امامؒ صاحب سے پوچھا کہ میں تمہارے نزدیک کیسا ہوں۔امامؒ صاحب نے کہا کہ اللہ کے لیے مجھے اس کے جواب سے معاف رکھیے۔ آپؒ کی یہ خاموشی خود آپ ؒ کی رائے کی مظہر تھی۔ پھر دوسرے علماء سے بھی یہ سوال کرتا رہا ۔ جب سب اٹھ کر چلے گئے تو امامؒ صاحب سے پوچھنے لگا کہ کیا وجہ ہے کہ آپؒ کے کپڑوں سے حنوط کی بو آتی ہے۔ امام مالکؒ نے فرمایا میں اس بے وقت حاضر ی کا سن کر اپنی زندگی سے مایوس ہو کر آیا تھا۔منصور نے کہا سبحان اللہ، ابو عبداللہ !کیا میں خود اپنے ہاتھ سے اسلام کا ستون گرا ؤں گا۔ خلفائے وقت میں منصور کے بعد مہدی‘ ہادی اور پھر خود ہارون رشید آپؒ کی مجلس میں شریک ہوئے مگر رواج کے برخلاف امام مالکؒ نے نہ کسی کے ہاتھ چومے اور نہ ہی آپؒ کی جلالت اور رعب کے سامنے کسی کو ہمت ہوئی کہ اس پر اصرار کر سکے۔ 
فتاویٰ میں احتیاط اور تحقیق 
ایک فقیہ کا رتبہ یقیناًایک محدث سے زیادہ ہوتا ہے ۔ محدث علم حدیث پر عبور رکھتا ہے جبکہ ایک فقیہ علم حدیث پر قدرت رکھنے کے ساتھ اجتہاد اور قوانین کی تشریح و تدوین میں بھی کما ل رکھتا ہے۔ اس لیے فقیہ میں اصابتِ رائے اور بصیرت کا ہونا ضروری ہے۔ ہر شخص اس رتبے پر فائز ہونے کا اہل نہیں۔ امام مالکؒ کے نزدیک یہ ایک ایسا اہم منصب تھا کہ خود بتا تے ہیں کہ جب تک ستر فقہا نے اس بات کی گواہی نہ دی کہ میں فتویٰ دینے کے لائق ہوں‘ اس وقت تک فتویٰ دینے کی جرأت نہ کی۔ پھر احتیاط کا یہ عالم تھا کہ محض ظن و گمان پر کبھی فیصلہ نہ دیتے۔ آپؒ کے ایک شاگرد نے کہا کہ اگر میں امامؒ صاحب کے’’ نہیں معلوم ‘‘والے فیصلوں کو لکھتا تو تختیاں بھر جاتیں۔ ابن عبداللہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نہایت دور دراز کی مسافت طے کر کے امامؒ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے ایک مسئلہ پوچھا امامؒ صاحب نے کہا میں اس کو نہیں جانتا سائل نے کہا کہ میں چھ ماہ کی مسافت طے کر کے اس مسئلے کی خاطر حاضرہوا ہوں ۔ آخر میں واپس جا کر کیا جواب دوں گا۔ امام ؒ صاحب نے اطمینان سے جواب دیا ۔ کہہ دینا مالکؒ نے کہا ہے کہ میں اسے نہیں جانتا ۔لوگوں کا آپؒ کی طرف رجوع عام تھا ۔ خود حکومت وقت کی طرف سے خاص اعلان کیا گیا تھا کہ ابن ابی ذئب اور مالکؒ بن انس کے سواء کوئی حج کے موقع پر فتویٰ نہ دے۔ تاہم اس قبول عام کے باوجود آپؒ تلاشِ حق کے لیے علمی جستجو اور محنت میں کمی کرنے کے روادار نہ تھے۔ایک بار کسی نے آپؒ سے کہا کہ فتویٰ دینے کے لیے آپ بہت مشقت برداشت کرتے ہیں‘ یہاں تک کہ خود بتاتے ہیں کہ آپ کی نیند بعض اوقات پریشانی کے باعث غائب ہو جاتی ہے حالانکہ لوگ توآپؒ کی بات کو پتھر پر لکیر سمجھتے ہیں۔ خدا ترس امامؒ نے جواب میں دلسوزی سے کہا اس صورت میں تو مجھے اور بھی محنت کرنی چاہیے۔ امامؒ صاحب اپنی غلطی معلوم ہونے کی صورت میں اس کی اصلاح کرنے میں اپنی علمی وجاہت کو حائل نہ ہونے دیتے ۔ ایک با رآپؒ کے شاگرد ابن وہب نے آپؒ کی تصحیح کی اور آپؒ کو صحیح حدیث پیش کی تو آپ ؒ نے اس کو تسلیم کیا اور پھر آئندہ اس کے مطابق فتویٰ دیا۔
آپ ؒ اپنی رائے لوگوں پر زبردستی ٹھونسنے کے حق میں نہ تھے۔ ہارون الرشید نے بھی خلیفہ منصور کی طرح چاہا تھا کہ تمام مسلمانوں کو فقہی احکا م میں آپؒ کی آراء کا پابند کیاجائے مگر آپؒ نے انکار کر دیا۔ 
فقہ مالکی کی بنیادی خصوصیات
امام صاحب ۶۲برس تک دین کی خدمت‘حدیث نبویﷺ کے درس اور فقہ و فتاویٰ میں مصروف رہے۔ آپ ؒ کی زندگی میں ہی آپ ؒ کی فقہ کو قبو ل عام حاصل ہو رہا تھا ۔ اب ہم مالکی فقہ کی بنیادی خصوصیات کا تذکرہ کریں گے:
ا۔ مالکی فقہ میں اجتہاد کی نوبت کم آتی ہے۔ زیادہ ترانحصار کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ و تابعین پر کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات جو وقوع پذیر ہی نہ ہوئے ہوں‘ امام صاحب ان کا جواب دینے سے احتراز کرتے۔ فرماتے جو ہوتا ہے وہ پوچھو جو نہیں ہوتا اسے چھوڑ دو۔ 
۲۔ کتاب و سنّت اور اجماع و قیاس کے علاوہ اس فقہ میں اہلِ مدینہ کے عمل کو بھی ایک دلیل کا درجہ دیاجاتا ہے۔ کیونکہ مدینہ دارالاسلام اور شریعت و قانون کا منبع تھا ۔ اس لیے مالکی فقہ میں مدنی فتاویٰ کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ 
۳۔ اس فقہ میں مصالحِ مرسلہ (مصلحت عامہ یا PUblic good) کو بھی اصول فقہ میں داخل کیا گیا۔ کسی مسئلے میں امام مالک کواگر کوئی نص نہیں ملتی تھی تو مصلحتِ عامہ کے پیش نظر اجتہاد کرتے۔یہ ایسے اصول ہوتے جن کے ذریعے ان مقاصد کی تکمیل ہوتی جن کے لیے شریعت اسلامی وجود میں لائی گئی ہے۔ اس کے دلیلِ شرعی ہونے کے لیے کم از کم دو شرائط ہیں: 
* مسئلے کا تعلق عبادت سے نہ ہو بلکہ امورِ دنیا سے ہ�ؤ * مصلحتِ عامہ کا تعلق ضروریات زندگی سے ہو نہ کہ تعیشات سے اور ضروریات میں مذہب ‘ جان‘مال‘ نسل اور عقل شامل ہیں۔ 
مصلحت میں فوجی اخراجات اور ملک کے تحفظ کے لیے مالداروں پر ٹیکس لگاناجائز ہے‘چوری کے مال کی برآمدگی نہ ہو تو اس کے بدلے دوسرا مال لینا مصلحت عامہ میں شامل ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ چوری کا مال چور نے کچھ استعمال کر کے اور کچھ کسی کو بخش کر ختم کر دیا ہو۔ مالکی فقہ کے پیرو بعد میں اہلِ حدیث کہلائے۔ اس مذہب میں تصنیف و تالیف کا وہ چرچا نہیں رہا جو حنفی اور شافعی مکاتب میں رہا ہے۔ مالکی فقہ حجاز‘ بصرہ‘ اندلس‘ سوڈان‘ طرابلس‘ مصر‘قطر‘ بحرین اور کویت میں زیادہ پھیلا ۔ افریقہ میں اب تک مالکی مذہب غالب ہے۔ اندلس میں اموی خلافت کا سرکاری مذہب بھی مالکی تھا۔ اہل مغرب جو کہ حجاز والوں کی سادگی سے متاثر تھے ‘ان کا رجحان بھی فقہ مالکی کی طرف ہی زیادہ رہا۔ 
موطا ء امام مالکؒ 
’’موطاء ‘‘امام مالکؒ کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔ ایک روایت کے مطابق امام مالکؒ نے منصور ہی کی تجویز پر’’موطاء‘‘کی تالیف کا کام شروع کیا۔ اس نے فرمائش کی تھی کہ ایک ایسا مجموعہ احکام سامنے آنا چاہیے جس میں ابن عمرؓ کی سختی‘ ابن عباسؓ کی رخصت اور ابن مسعودؓ کے شواذ کے بیچ کی کوئی راہ ہو۔ موطاء کی تالیف ۳۰اہجری سے ۴۰اہجری کے درمیا ن ہوئی۔ موطاء کے اندر احادیث کے علاوہ آثارِ صحابہ و تابعین‘ اقوالِ فقہاء‘ فتاویٰ اور امام مالکؒ کے اجتہاد شامل ہیں۔ ابتداء میں اس میں کم و بیش دس ہزار احادیث شامل کی گئیں۔ تنقید و بحث کے بعد آٹھ ہزارسے زائد خارج کر دی گئیں اور سترہ سو بیس روایات کو برقرار رکھا گیا ۔’’موطاء‘‘ کے معنی روندنے کے ہیں۔’’ موطاء‘‘ اس راستے کو کہتے ہیں جس پر بکثرت لوگ گزرتے ہوں۔سنت کے معنی بھی راستے کے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر حضورﷺ گزرے اور ’’موطا ء‘‘وہ پامال راستہ ہے جس پر حضورﷺ کے بعد صحابہ گزرے۔ غرض ’’موطاء‘‘ کا لفظ اپنی حقیقت کا آپ مفسر ہے۔’’ موطا ء‘‘کا موضوع احکامِ فقہ ہیں‘ اس لیے اس کو کتاب السنن کہا جاتا ہے ۔’ موطا ء‘‘کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ کلام اللہ کے بعد مسلمانوں کے لیے دوسری صحیح کتا ب تھی جواحادیث رسول ﷺ پر مشتمل تھی۔ اس کو ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ بخاری کی بیشتر روایات پانچ یا چھ واسطوں کی ہیں جبکہ موطاء میں نہ صرف ثلا ثیات ہیں بلکہ ثنائیات بھی موجود ہیں۔ ثلاثیات وہ روایات ہیں جن میں حضور ﷺتک صرف تین واسطے ہوں اور ثنائیات وہ روایات ہیں جن میں حضور ﷺ تک صرف دو واسطے ہوں۔ اس کے بارے میں امام شافعی کی یہ گواہی کافی ہے کہ روئے زمین پر کتاب اللہ کے بعد کوئی کتاب ’’موطاء ‘‘امام مالک ؒ سے زیادہ صحیح نہیں ہے۔ اس موقع پر مناسب ہو گا کہ وہ واقعہ بھی بیان کر دیاجائے جو کتاب کی تالیف میں امامؒ صاحب کے خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔ امامؒ صاحب جب موطا ء کی تالیف میں مشغول تھے تو مدینہ کے دیگر علماء نے بھی اپنے اپنے احادیث کے مجموعے تیار کر نا شروع کر دیئے۔ لوگوں نے امامؒ صاحب کو اطلاع دی تو آپ ؒ نے فرمایا:’’صرف حسنِ نیت کو بقاہے۔‘‘ آپ کے اس تاریخی جملے کی سچائی کو وقت نے ثابت کر دیا اور امامؒ صاحب کی پیشنگوئی درست ثابت ہوئی۔ امام ؒ صاحب کی ’’موطا ء‘‘آج تک موجود ہے جبکہ دیگر لوگوں کی کوششوں کا نام و نشان بھی مٹ گیا۔’’موطاء‘‘ کو ایک امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ مہدی‘ہادی‘ ہارون رشید‘ مامون اور امین جیسے حکمرانوں نے اس کو سننے کی خواہش ظاہر کی اور اس کے لیے سفر کیا۔ یہاں تک کہ چھٹی صدی ہجری میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے قاہرہ سے اسکندریہ تک صرف اسی کی خاطر اتنا لمبا سفر گوارا کیا۔ ’’موطاء‘‘ کے علاوہ کافی ساری کتابیں امامؒ صاحب سے منسوب کی جاتی ہیں لیکن علماء کا خیال ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کتب آپؒ کے شاگردوں کی تالیف کردہ ہیں۔ آپؒ کے شاگردوں میں امام شافعیؒ اور محمدؒ بن الحسن کے علاوہ یحییٰ بن یحییٰ لیثی‘ سلیمان بن داؤد طیالسی‘ محمد بن مبار ک اور لیث بن سعد بہت مشہور ہیں۔
وفات
۷۹ا ہجری میں ۸۶برس کی عمر میں آپؒ بیمار ہوئے اور تقریبا تین ہفتے بیمار رہے۔ لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اب آپؒ کا آخری وقت آگیا ہے تو مدینہ کے علماء اور فقہاء آپؒ کے گرد جمع ہوئے ۔ آپؒ کی آنکھوں سے آنسو جا ری تھے۔ لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیاتو فرمایا کہ میں نہ روؤں تو کون روئے ۔ اے کاش مجھ کو میرے ہر فتویٰ کے بدلے ایک کوڑا مارا جاتا اور میں فتویٰ نہ دیتا۔ یہاں امامؒ صاحب کی مراد شاید قیاسی فتوے سے تھی۔ تھوڑی دیر بعد آپؒ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ جنازے میں خلقت کا ہجوم تھا ۔ والیء مدینہ خود پاپیادہ شریک تھا بلکہ جنازے کو کاندھا دینے والوں میں شامل تھا۔ امامؒ صاحب کی آخری آرام گاہ جنت البقیع میں تیار کی گئی۔ پورے عالم اسلام میں آپ ؒ کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی صفِ ماتم بچھ گئی۔ سفیانؒ بن عینیہ نے سنا تو سکتے میں آ گئے اور پھر کہا مالک ؒ نے اپنی کوئی مثال روئے زمین پر نہیں چھوڑی۔
سیرتِ مالکؒ 
امام مالک کا تذکرہ ادھورا رہ جائے گا اگر آپؒ کے ذاتی حالات اور سیرت کو بیان نہ کیاجائے۔ یہاں مختصر اً آپؒ کے اخلاق و عادات اور طرز زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ امام صاحب دراز قد‘ موٹے بدن‘ کشادہ پیشانی والے خوش رنگ آدمی تھے۔ آپؒ بیش قیمت پوشاک استعمال کرتے اور عدن کے بنے ہوئے کپڑے زیب تن کرتے ۔ (عدن جو یمن کا شہر تھا عمدہ اور بیش قیمت لباس کے لیے مشہور تھا) ۔ عطرکا استعمال کرتے۔ آپؒ اس بات کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار انسان کے ظاہری حلیے سے ہونا چاہیے۔ آپؒ جس مکا ن میں رہتے وہ کرائے کا تھا ۔یہ وہ بابرکت گھر تھا جس میں صحابی رسولﷺ عبداللہؓ بن مسعود رہا کرتے تھے۔ آپؒ خاموش طبع تھے۔ سوالوں کا مختصر اور جامع جواب دیا کرتے۔ ایک بار کسی نے سوال کیا’’ جناب نے صبح کس حال میں کی؟ آپ ؒ نے فرمایا ’’عمر میں کمی ہو گئی اور گناہوں میں زیادتی‘‘ ۔ 
عبادت کی کیفیت یہ تھی کہ درس و تدریس سے فراغت کے بعد جو وقت ہاتھ آتا اس میں تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے۔ شبِ جمعہ اور ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تمام رات عبادت میں مصروف رہتے۔طبیعت میں رعب کا غلبہ تھا لیکن فخر و کبر کا نام و نشان نہ تھا۔ امام شافعیؒ جو طلبِ علم کے لیے امامؒ صاحب کے گھر اترے تھے‘ بتاتے ہیں کہ کھانے کے بعد امامؒ مالک مکہ والوں کے حالات پوچھتے رہے۔ جب رات زیادہ ہو گئی تو مجھے آرام کرنے کا کہہ کر چلے گئے۔ میں تھکا ہوا تھا لیٹتے ہی بے خبر سوگیا۔ رات کے آخری حصے میں میری کوٹھڑی پر دستک ہوئی اور آواز آئی کہا ا للہ کی رحمت ہو تم پر نماز کے لیے اٹھ جاؤ۔ میں اٹھ بیٹھا ۔کیا دیکھتا ہوں کہ خو د امام صاحب لوٹا لیے کھڑے ہیں۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی مگر وہ کہنے لگے کچھ خیال نہ کرو‘ مہمان کی خدمت فرض ہے۔ آپ کے مزاج میں انتقام اور نفرت کے بجائے رحم اور درگزر موجود تھا۔ منصور کے گورنر نے آپ کو کوڑے مارے اور پورے شہر کے سامنے بے آبرو کیا۔ منصور کو جب اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو معافی کا خواستگار ہوا اور اپنے گورنر کی نسبت حکم دیا کہ اس کو ذلت و ایذا کے ساتھ گدھے پر بٹھا کر بغداد لے جایا جائے۔ امام ؒ صاحب نے جواباً صرف اتنا کہا کہ اس انتقام کی حاجت نہیں۔رسول اللہﷺ کی قرابت کی خاطر میں اس کو معاف کرتا ہوں۔ 
اپنی رائے منوانے کا آپؒ کو کوئی شوق نہ تھا۔ مختلف روایات کے مطابق دو خلفائے وقت منصوراور ہارون الرشید نے آپ کی تالیف ’’موطاء‘‘ کو حرفِ آخر قرار دینے کی تجویز دی تھی۔ آپؒ نے جواباً کہا ‘ ایسا نہ کرو‘ خود صحابہ کرام فروع میں مختلف ہیں۔ وہ مختلف ممالک میں پھیل چکے ہیں۔ ان میں ہر شخص راہِ صواب پر تھا۔ اپنے فیصلے اور نقطہ نظر سے اختلاف کو برحق سمجھناجماعت علماء میں آج مفقود ہے۔ اس حوالے سے علماء کے لیے امامؒ صاحب کے طرزِ عمل میں بڑا سبق ہے۔ مام مالکؒ علم کے سچے قدر دان تھے۔ علمِ حدیث کی شان کو بلند کرنے کے لیے جو خصوصی اہتمام آپؒ کی مجلس میں ہوتا‘ اس کا تذکرہ گزر چکا ہے ۔ خلیفہ مہدی حج سے واپسی پر مدینہ آیا تو اپنے دونوں بیٹوں موسیٰ اور ہارون کو حکم دیا کہ امامؒ سے’’ موطاء ‘‘سنیں۔ شہزادوں نے امامؒ صاحب کو بلا بھیجا ۔ آپؒ نے فرمایا علم بیش قیمت شئے ہے‘ اس کے پاس خود شائقین آتے ہیں۔آخر کار دونوں شہزادے خود حاضر ہوئے ۔ شہزادوں کے اتالیق نے کہا پڑھ کر سنائیے۔ امام ؒ صاحب نے فرمایا ہمارے علماء کا دستور یہ ہے کہ طلباء پڑھیں اور شیوخ سنیں۔ مہدی کو خبر کی گئی تو اس نے کہا علماء کی اقتداء کرو۔ آخر کارشہزادوں نے پڑھا اور امامؒ صاحب نے سماعت کی۔ 
مہدی کے بعد ہارون رشید بھی حج سے واپسی پر مدینہ پہنچا تو امامؒ صاحب کو’’ موطاء‘‘ کی املاء کے لیے طلب کیا۔ آپ ؒ نے انکار کر دیا اور خود بغیر ’’موطاء ‘‘کے تشریف لائے۔ خلیفہ نے آپؒ سے شکایت کی تو کہنے لگے ہارون!علم تیرے گھر سے نکلا ہے ‘خواہ اس کو ذلیل کر‘ خواہ اس کو عزت دے۔ ہارون لاجواب ہو گیا۔ پھر اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ مجلسِ درس میں حاضر ہوا ۔ طلبا کی بھیڑ دیکھ کر کہنے لگا ‘ان کو الگ کر دیجیے۔ آپؒ نے فرمایا شخصی فائدے کے لیے عوام کے فائدے کو قربان نہیں کیاجاسکتا۔ہارون اس کے بعد مسند پر جا بیٹھا ۔اب پھر امامؒ صاحب سے رہا نہ گیا فرمایا ’’امیر المومنین حلم اور تواضع پسندیدہ عمل ہے۔ آخر کا ر ہارون نے عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر حدیث کی سماعت کی۔ایک طرف بادشاہِ وقت کے لیے آپؒ نے کوئی تخصیص نہ کی اور دوسری طرف جب امام ابوحنیفہ ؒ آپؒ سے ملنے کے لیے تشریف لائے تو آپؒ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی۔ اسی طرح اپنے شاگردوں کے استقبال کے لیے آپؒ شہر سے با ہر تشریف لے جاتے۔عباسی خلفاء کی کمزوریاں اپنی جگہ لیکن اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ وہ انتہائی علم دوست اور علماء و فضلا ء کی قدر کرنے والے تھے۔ امام مالک ؒ نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بارہا خلفاء سے مدینہ کے ناداروں کا حال بیان کیا۔ خلیفہ امامؒ صاحب کی بات کو رد نہ کر تے اور فقرائے مدینہ کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھو ل دیتے۔ 
یوں آپؒ نے اپنی ذات کے لیے فائدہ سمیٹنے کے بجائے امت کے ان خستہ حال لوگوں کے بارے میں فکر کی جونہ ذاتی حیثیت میں ممتاز تھے اور نہ ہی علمی حیثیت کی بناء پر کوئی ان کی حاجت پوری کرنے والا تھا۔ آج ہم میں سے ہر صاحبِ حیثیت اور صاحب رسوخ شخص کے لیے امامؒ صاحب کے اس طرز عمل میں بھی بڑا سبق ہے‘ جو دولت‘ عزت یا شہرت اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے کسی کو نصیب ہوئی ہو اسے مخلوق کی بھلائی اور فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اجتماعی فائدے کاکام دیر پا اور آخر ت میں اجرکا باعث ہے۔ جبکہ شخصی فائدے کے کام وقتی اور ختم ہو جانے والے ہیں۔ امام مالک ؒ کی زندگی کو چند لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تو ذہانت‘ اخلاص‘ علم‘ حق شناسی و حق گوئی اور نبی کریمﷺ سے محبت‘ یہ چند خصوصیات آپ ؒ کا طرہء امتیاز نظر آتی ہیں۔ امام مالکؒ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں زندگی ہی میں قبولِ عام نصیب ہوا اور آپ ؒ الا مام الکبیر‘ امام دارالہجرہ اور امام مدینہ کے القاب سے مخاطب کیے جانے لگے۔ آپؒ کی فقہ تیرہ سو سال سے کروڑوں مسلمانوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔دعا ہے اللہ پاک امامؒ صاحب کو جنّت الفردوس میں نہایت بلند مرتبہ مرحمت فرمائیں۔ آمین۔

Tuesday, 9 September 2014

Abdullah ibn Umar


ساتویں کہانی

حضرت عبداللہ بن عمرؓفقیہ الامت



حضرت سفیان ثوریؒ ‘ امام شعبی ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قریش کے چار نوجوان حرمِ کعبہ میں جمع ہوئے اور چاروں میں طے پایا کہ ہم میں سے ہر شخص رکنِ یمانی پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کرنے کے لیے دعا مانگے۔پہلے ایک جوان اٹھا اور اس نے دعا مانگی۔ الٰہی تو عظیم ہے اور تجھ سے عظیم چیز یں ہی مانگی جاتی ہیں‘اس لیے میں تجھ کو تیرے عرش‘ تیرے حرم‘ تیرے نبیﷺ اور تیری ذات کی حرمت کا واسطہ دے کر دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک ارضِ حجاز پر میری خلافت نہ قائم ہو جا ئے۔ اس کے بعد دوسرے جوان نے رکنِ یمانی پکڑ کر دعا مانگی۔ بارالٰہا !تو کائنات کی ہر شے کا خالقِ ہے ۔ آخر میں ہر چیز کو تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ میں تجھ سے تیری قدرت کا واسطہ دے کر جس کے قبضے میں تمام عالم ہے‘ دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ میں عراق کا والی نہ ہو جاؤں۔پھر تیسرے جوان نے دعا مانگی۔ اے ارض وسماء کے مالک !میں تجھ سے ا یسی چیز مانگتا ہوں جس کو تیرے اطاعت گزار بندوں نے تیرے حکم سے مانگا ہے ۔ میں تجھ سے تیری ذات کی کبریائی کا واسطہ دے کر دعا مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا سے اس وقت تک نہ اٹھا جب تک مشرق و مغرب پر میری حکومت قائم نہ ہو جائے اور جو شخص میرے خلاف کھڑا ہو اس کا سر نہ کچل دوں۔ اس کے بعد چوتھا جوان اٹھا اور اس نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ یہ دعا مانگی۔ اے اللہ !تو رحمن و رحیم ہے‘ میں تیری اس رحمت کا واسطہ دے کر دعا کرتا ہوں جو تیرے غضب پر غالب ہے کہ مجھے آخرت میں رسوا نہ کرنا اور مجھے اس عالم میں جنت عطا فرمانا۔ پہلے جوان حضرت عبداللہ بن زبیرؓ تھے‘ دوسرے ان کے چھوٹے بھائی عروہ بن زبیرؓ ‘ تیسر ا جوان عبدالملک بن مروان تھا اور چوتھے جو ان جن کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا صرف اور صرف آخرت کی بھلائی تھی‘ فقیہ الاُمت حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے۔ 
سیدنا حضرت ابو عبدالرحمن عبداللہ بن عمرؓ کا شمار اساطین امت میں ہوتا ہے ۔ وہ عام طور پر ’’ ابنِ عمرؓ ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ یعنی اس عمرِ فاروقؓ کے فرزند جن کے بارے میں سیدالانبیاء و المرسلین ﷺنے فرمایا تھا کہ لوکان بعدی نبی لکان عمر ( رواہ الطبرانی فی الکبیر(۷ا/۸۰ا) (اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا )حضرت ابنِ عمرؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے۔ عبداللہؓ بن عمرؓ بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی۔ کعب بن لوئی پر ان کا سلسلہ نسب سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کے نسب نامہ سے مل جاتا ہے ۔ ماں کا نام زینبؓ بنت مظعون تھا‘وہ بنو جمح سے تھیں اور شرفِ صحابیت سے بہرہ ور تھیں ۔ ام الموئمنین حضرت حفصہؓ بنتِ عمرؓ ‘ حضرت عبداللہؓ کی حقیقی بہن تھیں۔ حضرت عبداللہؓ تاریخ اسلام کے چار معروف عباداللہ میں سے ایک ہیں۔ باقی تین عبداللہ ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ و بن العاص اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ہیں۔ یہ چاروں نادرِ روزگار شخصیات تھیں۔ 
معتبر روایات کی رو سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ بعثت کے دوسرے سال پیدا ہوئے ۔ حضرت عمرؓ نے سنہ۶ بعد بعثت میں اسلام قبول کیا تو حضرت ابن عمرؓ تقریباً پانچ برس کے بچے تھے۔ والد گرامی کے قبول اسلام کے ساتھ وہ خود بخود ہی اسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہو گئے اور ان کی نشو و نما خالص اسلامی ماحول میں ہونے لگی۔ سنہ ۳ا بعد بعثت میں حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت عبداللہ بھی والد گرامی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے‘اس وقت ان کا سن گیارہ برس کا تھا۔ غزوات کا آغاز ہوا اور سرور عالم حضرت محمدﷺ غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے شوق جہاد سے بے تاب ہو کر حضور سے لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت مانگی لیکن آپ ﷺ کا معمول تھا کہ پندرہ برس سے کم عمر کے لڑکوں کو لڑائی میں شریک ہونے کی اجازت نہ دیتے تھے ۔ چونکہ حضرت ابن عمرؓ کی عمر اس وقت صرف تیرہ برس تھی‘ اس لیے حضورﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا ۔ غزوہ احد میں وہ چودہ برس کے تھے ‘اس لیے اس میں بھی شریک نہ ہو سکے۔سب سے پہلا غزوہ جس میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے داد شجاعت دی ‘ غزوہ احزاب
( سنہ ۵ھ) تھا۔ اس وقت ان کی عمر لڑائی کے قابل ہو چکی تھی۔ سنہ ۶ ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت رضوان میں شریک ہونے کا عظیم شرف حاصل ہوا۔ اس طرح وہ اصحاب الشجرہ میں شامل ہو گئے۔ جنہیں اللہ تعالی نے کھلے لفظوں میں اپنی خوشنودی کی بشارت دی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حسن اتفاق سے بیعت رضوان کا شرف انہیں اپنے جلیل القدر والد سے پہلے حاصل ہو گیا تھا۔ وہ اس طرح کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہؓ کو ایک انصاری سے گھوڑا لانے کے لیے بھیجا۔ حضرت عبداللہؓ باہر نکلے تو حضورﷺ صحابہ کرامؓ سے بیعت لے رہے تھے ‘ انہوں نے لپک کر پہلے خود بیعت کی اور پھر والد گرامی کو جا کر اطلاع دی۔ وہ بھی فوراً بارگاہ رسالت میں پہنچے اور بیعت کی سعادت حاصل کی۔
بیعتِ رضوان کے بعد حضرت ابن عمرؓ نے خیبر‘ فتح مکہ‘حنین ‘ طائف اور تبوک کے غزوات میں سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کی ہمرکابی کا شرف حاصل کیا۔ امام بخاری ؒ نے فتح مکہ کے سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت حضرت ابن عمرؓ کا سن بیس برس کا تھا اور وہ ایک منہ زور تیز رفتار گھوڑے پر سوار تھے۔ ان کے جسم پر ایک چھوٹی سی چادر تھی اور ہاتھ میں ایک بھاری نیزہ ۔ ایک جگہ گھوڑے سے اتر کر اس کے لیے گھاس کا ٹنے لگے ۔ اتفاق سے حضور ﷺ کی نظر ان پر پڑی تو آپﷺ نے مدح و تحسین کے لہجے میں فرمایا۔’’یہ عبداللہ ہے عبداللہ ۔‘‘ اس کے بعد وہ حضورﷺ کے پیچھے پیچھے مکہ میں داخل ہوئے۔ حضرت اسامہؓ بن زیدؓ حضورﷺ کے ساتھ سوار تھے اور حضرت بلالؓ اور حضرت عثمانؓ بن طلحہ آپ ﷺکے پہلومیں تھے۔ خانہ کعبہ کے صحن میں اونٹ بٹھا کر کنجی منگائی گئی اور کعبہ کا دروازہ کھول کر تینوں ایک ساتھ داخل ہوئے ان کے بعد خانہ کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہونے کی سعادت حضرت ابن عمرؓ کو حاصل ہوئی۔
۰ا ہجری میں حضرت ابن عمرؓ نے حجۃ الوداع میں محمدﷺ کی ہمر کابی کا شرف حاصل کیا۔ اا ہجری میں حضور ﷺ کا وصال ہوا تو حضر ت ابن عمرؓ اس قدر ملول اور شکستہ دل ہوئے کہ عمر بھر نہ کوئی مکان بنایا اور نہ کوئی باغ لگایا۔ جب بھی رسول اللہﷺ کی یاد آتی‘ بے قابو ہو کر رونے لگتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کی بے پناہ تڑپ تھی۔ عہد صدیقی میں تو وہ بعض وجوہ کی بنا ء پر مدینہ منورہ سے باہر نہ جا سکے لیکن عہد فاروقی میں ایران‘ شا م اور مصر کی فتوحات میں سرفروشانہ حصہ لیا۔ والد گرامی امیر الموئمنین تھے لیکن وہ ایک عام مجاہد کی حیثیت سے لشکر اسلام میں شریک ہوئے اور کبھی کسی عہدے کی خواہش نہیں کی۔ واقدی نے کئی معرکوں میں ان کی شجاعت اور جانبازی کے واقعات بیان کئے ہیں۔ 
سنہ ۲۳ ہجری کے اواخر میں حضرت عمر فاروقؓ پر قاتلانہ حملہ ہوااور ان کی جانبری کی کوئی امید نہ رہی تو انہو ں نے اپنی جانشینی کا مسئلہ مسلمانوں کی ایک جماعت کے سپرد کر دیا جس میں ا کابر صحابہؓ داخل تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ اگرچہ اپنے علم و فضل اور دوسری صلاحیتوں کی بنا پر ہر طرح سے خلافت کے اہل تھے لیکن حضرت عمرؓ فاروق تقویٰ کے اتنے بلند مقام پر فائز تھے کہ انہیں اپنے فرزند کو خلیفہ نامزد کرنا گوارا نہ ہوا۔ انہو ں نے وصیت کر دی کہ وہ خلیفہ کے انتخاب میں مشیر کی حیثیت سے تو شریک ہو سکتے ہیں لیکن خلافت کے لیے ان کے نام پر کسی صورت میں غور نہ کیاجائے ۔ حضرت عثمان ذوالنورینؓ نے اپنے عہد خلافت میں حضرت ابن عمرؓ کو قضاء کا عہدہ پیش کیا لیکن انہوں نے اس کو قبول کرنے سے معذرت کر دی۔ علامہ بلا ذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ ۲۷ ہجری میں حضرت عثمانؓ نے افریقہ (تیونس، الجزائر اور مراکش ) پر فوج کشی کی تو حضرت ابن عمرؓ لشکر اسلام میں شریک ہو گئے اور جہاد فی سبیل اللہ میں پر جوش حصہ لیا ۔ ابن اثیرؓ کے بیان کے مطابق سنہ ۳۰ ہجری میں انہوں نے خراسان اور طبرستان کے معرکوں میں بھی حصہ لیا۔ 
حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے عہد میں فتنوں نے سر اٹھا یا تو حضرت ابن عمرؓ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی کیونکہ انہیں مسلمانوں کا ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہونا کسی صورت میں گوارانہ تھا۔ ابن سعد ؒ کا بیان ہے کہ امیر الموئمنین حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد لوگوں نے خلافت ان کے سپرد کرنا چاہی لیکن انہوں نے یہ بار گراں اٹھانے سے صاف انکار کر دیا۔ امام حاکم نے اپنی مستدرک میں غسان بن عبدالحمید کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت علیؓ سر یر آرائے خلافت ہوئے تو حضرت ابن عمرؓ نے اس شرط پر ان کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ خانہ جنگی میں شریک نہ ہوں گے۔ چنانچہ وہ جنگ جمل اور جنگِ صفین سے بالکل کنارہ کش رہے لیکن بعد میں ہمیشہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی عملاً حمایت کیوں نہ کی ۔ حضرت علیؓ کی شہادت اور حضرت حسنؓ کی خلافت سے دستبرداری کے بعد انہوں نے حضرت امیر معاویہؓ کی بیعت کر لی اور قسطنطنیہ کی مہم میں بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ شریک ہوئے۔ حضرت امیر معاویہؓ کے بعد یزید تخت حکومت پر بیٹھا تو بقول ابن سعد ؒ انہوں نے اختلاف امت کے فتنہ سے بچنے کے لیے یہ کہہ کر اس کی بیعت کر لی کہ اگر یہ خیر ہے تو ہم اس پر راضی ہیں اور اگر بلا ہے تو ہم نے صبر کیا ۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ فان تولو فانما علیہ ماحمل وعلیکم ما حملتم ۔ (پھر اگرانہوں نے منہ پھیرا تو اس کے ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا گیااور تمہارے ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا گیا ہے۔)یزید کے بعد معاویہ ثانی اور مروان بن الحکم مسند حکومت پر بیٹھے، سنہ۶۵ہجری میں مروان نے وفات پائی تو اس کا بیٹا عبدالملک خلیفہ بنا۔ حضرت ابن عمرؓ نے اس کو تحریری بیعت نامہ بھیج دیا جس میں لکھا کہ میں اور میرے لڑکے اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی سنت پر امیر المومنین عبدالملک کی سمع و اطاعت کا بقدر استطاعت عہد کرتے ہیں۔ 
حضرت ابن عمرؓ نے عبدالملک ہی کے عہد خلافت میں 74ہجری میں بعمر چوراسی سال وفات پائی۔ اہل سیر نے ان کی وفات کے بارے میں مختلف روایتیں بیان کی ہیں۔ ابن سعد ؒ نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف خطبہ دے رہا تھا‘ اس میں اس نے اپنے حریف حضرت عبداللہ بن زبیرؓ پر تہمت لگائی کہ انہوں نے قرآن حکیم میں تحریف کی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بھر ے مجمع میں کڑک کر کہا‘ تو جھوٹ بولتا ہے‘نہ ابن زبیرؓ میں اتنی طاقت ہے اور نہ تجھ میں یہ مجال کہ کلام اللہ میں تحریف کر سکو۔ حجاج کو حضرت ابن عمرؓ کی یہ ڈانٹ سخت ناگوار گزری لیکن علانیہ ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ ہوئی ۔البتہ ایک شامی کو اس بات پر مقرر کر دیا کہ حج کے موقع پر نیزہ کی زہر آلود نوک ان کے پاؤں میں چبھو دے اس نے ایسا ہی کیا۔ زہران کے جسم میں سرایت کر گیا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ 
امام حاکم نے اپنی مستدرک میں بیا ن کیا ہے کہ جب حجاج ابن زبیرؓ سے لڑنے کے لیے مکہ معظمہ آیا اور منجنیق نصب کر اکر خانہ کعبہ کو سنگباری کا نشانہ بنایا تو وہ سخت برہم ہوئے اور حجاج کو بہت برا بھلا کہا ۔ اس پر وہ غضب ناک ہو گیا اور اس کے اشارے پر ایک شامی نے ان کو اپنے نیزے کی زہر آلود نوک سے زخمی کر دیا۔ جب وہ بیمار ہوئے تو حجاج ان کی عیادت کے لیے آیا اور کہا کاش مجھ کو مجرم کا پتہ چل جاتا تو میں اس کا سر اڑا دیتا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا‘ یہ سب کچھ تمہارا ہی کیا دھرا ہے نہ تم حرم میں ہتھیار لانے کی اجازت دیتے اور نہ یہ واقعہ پیش آتا۔ ابن زبیرؓ کا بیان ہے کہ ایک دن حجاج خطبہ دے رہا تھا ۔ اس کو اتنا طول دیا کہ عصر کا وقت تنگ ہو گیا۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا آفتاب تیرا انتظار نہیں کر سکتا ۔اس پر حجاج برافروختہ ہو گیا اور ان کا دشمن ہو گیا۔ 
ابن خلکان نے لکھا ہے کہ عبدالملک نے فرمان جاری کیا کہ تمام مناسک حج حضرت ابن عمرؓ کی اقتدا میں ادا کئے جائیں۔ حجاج بن یوسف کو یہ حکم سخت ناگوار گزرا لیکن خلیفہ کے حکم سے مجبور تھا ۔ اس نے اپنے دل کی بھڑاس اس طرح نکالی کہ حضرت ابن عمرؓ کو نیزے کی زہر آلود نوک سے زخمی کرا دیا۔ ابن سعدؒ نے یہ واقعہ بھی بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ حجاج کوخطبہ دیتے دیتے شام ہو گئی نماز کا وقت آیا تو حضرت ابن عمرؓ نے کہا اے شخص نماز کا وقت آ گیا ہے اب بیٹھ جا۔ ان الفاظ کا تین بار اعادہ کیا لیکن اس نے خطبہ جاری رکھا۔ چوتھی بار انہوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں اگر اٹھ جاؤں تو تم لوگ اٹھنے کے لیے تیار ہو۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم تیار ہیں۔ یہ کہہ کر اٹھے اور حجاج سے کہا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں نماز کی ضرورت نہیں ہے۔ اب حجاج منبر سے اتر آیا اور نماز پڑھی ۔ نماز کے بعد حضرت ابن عمرؓ کو بلا کر پوچھا کہ آپ نے ا یسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا ہم نماز کے لیے آتے ہیں‘ اس لیے جب نماز کا وقت آ جائے تو ٹھیک وقت پر نماز پڑھ لو اس کے بعد جو چاہو کہتے رہو۔ حضرت ابن عمرؓ کی اسی صاف گوئی کی وجہ سے حجاج ان کا دشمن بن گیا اور زہر آلود نیزہ سے حج کی بھیڑ بھاڑ میں انہیں زخمی کر دیا۔ حضرت ابن عمرؓ کی دلی تمنا تھی کہ وہ مدینہ منورہ میں وفات پائیں لیکن قدرت نے ان کی وفات مکہ معظمہ میں لکھ رکھی تھی۔ وفات سے پہلے اپنے فرزند سالم کو وصیت کی کہ اب میں یہاں وفات پا رہا ہوں تو مجھے حدود حرم کے باہر دفن کر نا۔ انہوں نے والد گرامی کی وصیت پر عمل کرنا چاہا لیکن حجاج نے مداخلت کی اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھا کر فخ مہاجرین کے قبرستان میں سپر د خاک کیا۔ 
علم و فضل کے اعتبار سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا شمار ان صحابہؓ کبار میں ہوتا ہے ۔جو جملہ دینی علوم کا بحربے پایاں تھے۔ انہیں نہ صرف سالہا سال تک فیضان نبوی ﷺسے براہ راست بہرہ یاب ہونے کا موقع ملا بلکہ سیدنا فاروق اعظمؓ جیسے نابغہ عصر والد کی تعلیم و تربیت بھی میسر آئی۔ اس طرح وہ فضل و کمال کے اتنے بلند مقام پر فائز تھے کہ بڑے بڑے فضلا ء صحابہؓ ان پر رشک کیا کرتے ۔ قرآن حکیم اور اس کی تفسیر سے اتنا شغف تھا کہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ قرآنی سورتوں اور آیات پر فکر و تدبر میں گزارتے تھے۔ ’’موطاء امام مالک‘‘ میں ہے کہ انہوں نے صرف سورہ بقرہ پر فکر و تدبر میں چودہ برس صرف کئے۔ عہد رسالت ﷺمیں انہیں اکابر صحابہؓ کے ساتھ اکثر سرور عالم حضرت محمدﷺ کی علمی مجلسوں میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوتی تھی۔ اس طرح ان کو قرآن حکیم کی تفسیر اور تفہیم میں غیر معمولی بصیرت حاصل ہو گئی تھی۔ 
صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ صحابہ کرامؓ کے مجمع میں رونق افروز تھے ۔ حضرت ابن عمرؓ بھی موجود تھے۔ حضورﷺ نے قرآن حکیم کی یہ آیت پڑھی ۔ الم ترکیف ضرب اللّٰہ مثلاکلمۃً طیبۃ کشجرتہ طیبۃ اصلھا ثابت فی الارض وفرعھا فی السمآo توتی اکلھا کل حین باذن ربھا ۔ (سورہ ابراہیم)(کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں آسمان تک اور وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ 
پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ اس آیت میں کس درخت کی مثال دی گئی ہے؟تمام صحابہ کرامؓ خاموش رہے تو آپ ﷺ نے خود بتایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ بعد میں حضر ت ابن عمرؓ نے اپنے والد گرامی حضرت عمرؓ کو بتایا کہ میں سمجھ چکا تھا کہ یہ کھجور کے درخت کی مثال ہے لیکن بزرگ صحابہؓ کی خاموشی کی وجہ سے چپ رہا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا بیٹے !اگر تم اس مجلس میں بتا دیتے تو مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ مجبوب ہوتا ۔ قرآن حکیم کے فہم و بصیرت کے علاوہ حضرت ابن عمرؓ کو حدیث سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ ان سے ایک ہزار چھ سو تیس احادیث مروی ہیں۔ ان میں ۷۰امتفق علیہ ہیں، ا۸میں بخاری اورا۳میں مسلم منفرد ہیں۔ وہ حضور ﷺ کے نہ صرف ان ارشادات کو جو آپ ﷺ سے براہ راست سنتے تھے‘ حرزِ جان بنا لیتے تھے بلکہ ان کو بھی یاد کر لیتے تھے جو دوسروں کی وساطت سے ان تک پہنچتے تھے ۔ اس طرح حفاظِ حدیث میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہو گیا تھا۔ بایں ہمہ وہ روایت حدیث میں بہت محتاط تھے اور اسی وقت کوئی حدیث بیان کرتے تھے جب پورا یقین ہوتا تھا کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہے۔ اسی شدت احتیاط کی بنا پر ان کی مرویات کو بہت مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے اساتذہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ ‘ حضرت عمر فاروقؓ ‘ حضرت عثمان ذوالنورینؓ ‘ حضرت علیؓ ‘ اُم المو منین عائشہ صدیقہؓ ‘ اُم المومنین حضرت حفصہؓ ‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ‘ حضرت بلال حبشیؓ ‘ حضرت صہیب رومیؓ ‘ حضرت زیدؓ بن ثابت اور حضرت رافعؓ بن خدیج جیسے عظیم المرتبت صحابہؓ و صحابیات شامل ہیں۔ ان کے ارشد تلاندہ میں سالم ؒ ‘ عبداللہ‘ محمدؓ نافع حفص ‘ عروہ بن زبیر‘ موسیٰ بن طلحہؓ ‘ ابو سلمہؓ بن عبدالرحمان‘ سعیدؓ بن مسیب ‘ قاسمؓ ‘ ابو بردہؓ بن ابو موسیٰ اشعریؓ ‘ سعید بن یسار‘ عکرمہ ؒ مجاہد ؒ سعید بن جبیر ؒ ‘ طاؤس‘ عطاؒ ‘ ابو الزبیر ؒ اور ابی ملیکہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کو فقہ میں بھی درجہ تبحر حاصل تھا‘ انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ تعلیم و تعلم اور درس و افتاء میں گزارا۔ حافظ ابن قیم ؒ کہتے ہیں کہ اگر ابن عمرؓ کے فتاویٰ جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ فقہ مالکی کا تمام تر دارومدار حضرت ابن عمرؓ ہی کے فتاویٰ پر ہے۔ امام مالک ؒ کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ آئمہ دین میں سے تھے۔ اپنے تفقہ فی الدین کی بنا پر حضرت ابن عمرؓ فقیہ الامت کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے ۔ بایں ہمہ وہ فتویٰ دینے میں بے حد محتاط تھے۔ اگر کسی بات میں ذرا بھی شبہ ہوتا تو ہر گز فتویٰ نہ دیتے اور مستفتی کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ یہ مسئلہ مجھے معلوم نہیں ۔ قیاس و اجتہاد میں بھی خداداد ملکہ حاصل تھا لیکن ان سے اسی وقت کام لیتے جب کتاب و سنت میں کسی مسئلہ کے بارے میں واضح احکام نہ ملتے۔ ایسا کرتے وقت وہ مستفتی سے صاف صاف کہہ دیتے کہ ’’یہ میرا قیاس ہے‘‘ اس کے باوجود بڑے بڑے آئمہ ان کی رائے کے بعد پھر کسی دوسری رائے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔ 
دینی علوم کے علاوہ حضرت ابن عمرؓ عرب کے دیگر علوم شاعری‘خطابت اور نسابی میں بھی درک رکھتے تھے لیکن ان میں اپنا وقت صرف کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ بحیثیت مجموعی وہ علم و فضل کے مجمع البحرین تھے اور بقول ا بن سعد ؒ ایک زمانہ میں لوگ دعا مانگا کرتے تھے کہ الٰہی ہماری زندگی میں ابن عمر ؒ کو زندہ رکھ تاکہ ہم ان کے چشمہ فیض سے سیراب ہوتے رہیں۔ آج ان سے زیادہ عہد رسالت کا کوئی واقف کا ر نہیں۔ 
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے گلشن اخلاق میں حُبِ رسولﷺ ‘اتباعِ سنت ‘خشیتِ الٰہی‘ شوقِ جہاد و عبادت و زہد و تقویٰ‘ فیاضی و ایثار‘ تواضع و انکسار ‘ استغنا و قناعت ‘ سادگی اور حق گوئی و بیباکی سب سے خوش رنگ پھول ہیں۔ حُبِ رسول ﷺ کی یہ کیفیت تھی کہ عہد رسالت میں زیادہ سے زیادہ وقت بارگاہ رسالت میں حاضر رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضورﷺ کا وصال ہوا تو وہ اس قدر مغموم اور شکستہ دل ہوئے کہ عمر بھر نہ کوئی مکان بنایا اور نہ کوئی باغ بنایا ۔ جب بھی زبان پر رسول اللہ ﷺ کا اسم گرامی آتا تو آنکھوں سے آنسو ؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ جب غزوات رسول ﷺ کے مقامات سے گزر ہوتا تو آنکھوں کے سامنے عہد رسالت کا نقشہ کھنچ جاتا اور اشکبار ہو جاتے۔ کوئی ان کے سامنے حضور ﷺ کا ذکر کرتا تو بے قابو ہو کر رونے لگتے۔ یحییٰ بن یحییٰ ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ بعض لوگ حضرت ابن عمر ؒ کے عشق رسول ﷺکی کیفیت دیکھ کر انہیں مجنوں تک کہنے لگے تھے۔ دراصل حضرت ابن عمرؓ کو عشق رسول ﷺ کی بنا پر پابندی سنت کا والہانہ جنون تھا اور ان کی زندگی رسول اللہ ﷺ کی حسین و دلکش زندگی کا پرتو جمیل بن گئی تھی۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی نہایت شدت کے ساتھ اتباعِ سنت کا التزام کرتے تھے حتیٰ کہ اتفاقی اور بشری عادات میں بھی وہ حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے تھے۔ سفر و حضر میں حضور ﷺ نے جہاں کبھی نماز ادا کی‘ حضر ت ابن عمرؓ بھی وہاں نماز ادا کرتے تھے‘جہاں آپﷺ نے آرام فرمایا‘ وہاں آرام کرتے تھے۔ جہاں آپ ﷺ نے تھوڑی دیر کے لیے قیام فرمایا‘ حضرت ابن عمر ؒ نے بھی وہاں ضرور قیام کیا۔جن درختوں کے سایہ میں حضور ﷺ نے کبھی آرام فرمایا تھا‘ حضرت ابن عمرؓ ان کو پانی دیتے رہتے تھے تاکہ خشک نہ ہونے پائیں اور وہ بھی ان کے سایہ میں آرام کر کے سنت کی پیروی کر سکیں۔ جب سفر سے لوٹتے تو سب سے پہلے روضہ نبوی ﷺ پر حاضر ہوتے اور سلام کہتے۔ مدینہ منورہ سے اس قدر محبت تھی کہ کسی حالت میں بھی وہاں سے نکلنا گوارا نہ تھا۔ ایک مرتبہ ان کے غلام نے تنگدستی کی بنا پر مدینہ چھوڑنے کی اجازت چاہی‘فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ کے مصائب پر صبر کرے گا‘ قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔ 
سرورِ عالم حضرت محمد ﷺ کی آل واولاد سے بھی غیر معمولی محبت تھی اور وہ لوگوں کو اکثر ان کے فضائل سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ عام طور پر معلوم ہے کہ حضرت ابن عمرؓ مناسکِ حج کے سب سے بڑے عالم تھے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ مناسکِ حج میں رسول اللہ ﷺ کے تمام سنن کا بدرجہ غایت لحاظ رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جہاں جہاں طہارت کی تھی‘ وہاں وہ بھی ضرور طہارت کرتے تھے۔ حج کے سفر میں وہی راستہ اختیار کرتھے تھے جو حضور ﷺ نے اختیار کیا تھا۔ حضور ﷺ نے ذوالحلیفہ میں اتر کر نماز پڑھی ‘ حضرت ابن عمرؓ بھی ذوالحلیفہ میں ضرور نماز پڑھتے تھے۔ حضور ﷺ نے جن مقامات پر منزل کی تھی وہ بھی وہاں منزل کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ مسجد قبا میں کبھی پاپیادہ اور کبھی سواری پر تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔حضو ر ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے قبل بطحا میں تھوڑا سا سو لیتے تھے‘حضرت ابن عمرؓ کا بھی یہی معمول تھا۔ حضور ﷺ اپنے جان نثاروں کی دعوت ہمیشہ قبول فرما لیا کرتے تھے حضرت ابن عمرؓ بھی کسی کی دعوت رد نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ روزہ کی حالت میں بھی دعوت میں تشریف لے جاتے تھے۔ گو کھانے میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ غرض وہ تمام کاموں میں اسوہ نبوی ﷺکو پیش نظر رکھتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ نے نہایت نرم اور دردمند دل پایا تھا، خوفِ خدا اور روزِ جزاسے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتے تھے۔ کوئی آیت جس میں محاسبہ آخرت کا ذکر ہوتا سنتے تو لرزہ براندام ہو جاتے اور رونے لگتے ۔ ایک دن عبیدؓ بن عمر سے یہ آیت سنی:
فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علٰی ھٰوٰلآء شھیدا 
( اے رسول ﷺ آخرت کے اس دن کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لا کھڑا کریں گے اور آپ ﷺ کو ان سب پر گواہ لائیں گے۔) آیت سنتے ہی بے اختیار رونے لگے‘ یہاں تک کہ داڑھی اور گریبان آنسوؤں سے بھیگ گئے۔ خشیتِ الٰہی نے ان کے د ل میں جہاد اور عبادت کا ایسا شوق پیدا کر دیا تھا کہ ان کے بغیر رہ ہی نہیں سکتے تھے۔ پندرہ برس کی عمر سے لے کر بڑھاپے تک جہادفی سبیل اللہ میں برابر حصہ لیتے رہے۔ عبادت کی یہ کیفیت تھی کہ قائم اللیل اور دائم الصوم تھے۔ (نہایت کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے اور نہایت کثرت سے روزے رکھتے تھے)۔ بعض اوقات ایک رات میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ساٹھ حج کئے اور ایک ہزار عمرے۔ زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے ۔ حافظ ابن حجرؒ نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ جو انان قریش میں عبداللہ بن عمرؓ سے زیادہ کوئی شخص اپنے نفس پر قابو رکھنے والا نہیں تھا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عمرؓ آغازِ شباب ہی میں مسجد میں جا کر سویا کرتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے خواب میں دوزخ کے فرشتوں کو دیکھا ۔ دوسرے دن اس کا ذکر اپنی بہن ام الموئمنین حضرت حفصہؓ سے کیا ۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺسے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا عبداللہ بہت اچھے آدمی ہیں بشرطیکہ رات کو نماز(تہجد)پڑھیں۔(صحیح البخاری)۔حضرت جابرؓ بن عبداللہ انصاریؓ فرمایا کرتے تھے کہ ہم میں سوائے ابن عمرؓ کے کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کو دنیا کی دلفریبیوں نے اپنی طرف مائل نہ کیا ہو لیکن عبداللہ وہ تھے جن کا دامن کبھی دنیا سے آلودہ نہ ہوا ۔ جو شخص حضور ﷺ کے کسی ایسے صحابی کو دیکھنا چاہے جس کی شخصیت میں آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی مطلقاًکوئی تغیر نہیں ہوا تو وہ ابن عمرؓ کو دیکھے۔ ایک دفعہ کوئی شخص ان کی خدمت میں جوارش (یا چورن) لے کر حاضر ہوا۔ پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا ہاضم طعام ۔ انہوں نے فرمایا مجھے اس کی کیا ضرورت ہے‘ میں نے تو مہینوں سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ ایک مرتبہ کسی سے پانی مانگا ۔ اس نے شیشے کے پیالے میں لا کر پیش کیا۔ انہوں نے پینے سے انکار کر دیا۔ پھر ان کے سامنے لکڑی کے پیالے میں پانی پیش کیا گیا تو انہوں نے پی لیا۔ پانی پی کر وضو کے لیے برتن مانگا توان کے سامنے طشت و آفتابہ لایا گیا۔انہوں نے صاف انکار کر دیا اور لوٹے سے وضو کیا۔ میمون بن مہرانؒ کا بیان ہے کہ میں ایک دفعہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے تمام اثاث البیت کی قیمت لگائی تو سو درہم سے زیادہ کا سامان نہ تھا۔ اس میں بستربھی شامل تھا۔ 
حضرت ابن عمرؓ کے پاس دنیا کئی با رپورے سازو سامان کے ساتھ آئی لیکن انہوں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ان کو بارہا ایسے موقعے ملے کہ اگر چاہتے تو بڑے سے بڑا عہدہ کیا‘ مسندِ خلافت تک پہنچ سکتے تھے۔ زرو جواہر سمیٹنا چاہتے تو اپنے دور کے متمول ترین آدمی بن سکتے تھے لیکن انہوں نے زہد و تقوٰ ی کی زندگی اختیار کر کے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی۔ان کے زمانے میں جو سیاسی لڑائیاں ہوئیں‘ انہوں نے ان میں مطلق کوئی حصہ نہ لیا۔ سادگی کا یہ عالم تھا کہ تمام کام جو خود کر سکتے تھے اپنے ہی ہاتھ سے انجام دیتے حتّیٰ کہ اونٹنی وغیرہ بٹھانے میں بھی دوسروں سے مدد نہ لیتے تھے۔ لباس عموماًنہایت معمولی پہنتے تھے البتہ کبھی کبھار عمدہ لباس بھی زیب تن کر لیتے تھے وہ بھی اس لیے کہ ایک دو مرتبہ حضورﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا ۔ لباس قمیص ‘ازاراور سیاہ عمامہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ ازار نصف ساق تک ہوتا تھا۔ دستر خوان بھی تکلفات سے خالی ہوتا تھا۔ بعض اوقات ایک بڑے تھال میں کھانا رکھ دیاجاتا تھا ‘ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اس کے گرد بیٹھ کر کھا لیتے تھے۔ انہیں ہر وہ چیز ناپسند تھی جس میں کسی قسم کی نمائش یا تکلف کی آمیزش ہوتی یہاں تک کہ جمعہ کے د ن کے سوا کبھی سر‘ ڈاڑھی اور کپڑوں میں خوشبو نہیں لگائی۔ 
دنیو ی حیثیت سے حضرت ابن عمرؓ بہت مرفہ الحال تھے۔ دینی خدمات کی بنا پر ان کا ڈھائی ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر تھا۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری کے مطابق وہ بہت سی لگانی زمینوں کے مالک بھی تھے۔ لیکن وہ اپنے مال کو بے دریغ اللہ کی راہ میں لٹاتے رہتے تھے ۔ ایک ہزار سے زیادہ غلام آپؓ نے آزاد کئے۔ فیاضی اور سیر چشمی ان کی گھٹی میں پڑی تھی ۔ کسی سائل کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ نہ جانے دیتے تھے۔ بیسیوں فقراء و مساکین ان کے دستر خوان پر پرورش پاتے تھے ۔ آپؓ عموماً کسی مسکین کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھائے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے بلکہ بعض اوقات اپنے حصے کا کھانا بھی مسکینوں کو کھلا دیتے اور خود بھوکے رہتے۔ ایک مرتبہ ان کو مچھلی کی خواہش ہوئی ‘جب مچھلی بھون کر ان کے سامنے رکھی گئی تو ایک سائل کا گزر ہوا۔ا نہوں نے مچھلی اٹھا کر اس کو دے دی۔ ایک دفعہ علیل ہوئے اور ان کے لیے انگور کے چند دانے ایک درہم میں خریدے گئے‘ اتفاق سے ایک سائل آ گیا۔ انہوں نے حکم دیا یہ انگور اس کو دے دو ‘اہل خانہ نے عرض کیا آپ ان کو کھا لیں‘ ہم اس کو کچھ اور دے دیں گے لیکن وہ مصر ہوئے کہ یہ انگور سائل کو دے دو۔ مجبوراً وہی دینے پڑے اور پھر اس سے خرید کر ان کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ ایک مرتبہ سفر میں ایک ہی کھجور تھی‘منہ تک لے جانے بھی نہ پائے تھے کہ ایک سائل کا گزر ہوا انہوں نے وہ کھجور اس کو دے دی۔ 
طبقاتِ ابن سعد میں حضرت ابن عمرؓ کے غلام اور شاگرد نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کے پاس ہزار درہم( یا دینار اس کی تصریح نہیں کی گئی )آئے۔ ا نہوں نے دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو دینے شروع کیے‘ یہاں تک کہ سب ختم کر ڈالے ۔ تقسیم ہو جانے کے بعد جو لوگ آئے‘ ان کو دوسرے لوگوں سے جنہیں پہلے دے چکے تھے قرض لے کر دیئے۔کہیں قیام ہوتا تو اکثر روزہ رکھتے تھے لیکن کو ئی مہمان آ جاتا تو روزہ توڑ دیتے اور فرماتے کہ مہمان کی موجود گی میں نفلی روزہ رکھنا فیاضی سے بعید ہے۔ حافظ ابن حجرؓ نے ’’اصابہ ‘‘میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عمرؓ دو دو تین تین ہزار کی رقمیں تو آئے دن خیرات کرتے رہتے تھے لیکن بعض اوقات بیس بیس اور تیس تیس ہزار کی رقمیں بھی یکمشت اللہ کی راہ میں لٹا دیتے تھے۔ اگر کبھی کوئی غلام یا لونڈی بہت پسند ہوتی یا اپنے کسی غلام کو بہت عبادت گزار دیکھتے تو اس کو آزاد کر دیتے ۔
ایک دفعہ سفر حج کے لیے ایک اونٹنی خریدی‘ سوار ہوئے تو اس کی چال بہت پسند آئی‘ فوراً اتر پڑے اور حکم دیا کہ سامان اتار لو اور اس کو قربانی کے اونٹوں میں شامل کر دو۔ ایک مرتبہ چند دوستوں کے ساتھ مدینہ کے ایک نواحی علاقے میں تشریف لے گئے۔ ایک مقام پر دستر خوان بچھایا گیا تو ایک چرواہا ادھر آ نکلا ۔ اس نے سلام کیا ۔حضر ت ابن عمرؓ نے اس کو کھانے کی دعوت دی۔ اس نے عذر کیا کہ میں روزے سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا‘ اتنی گرمی میں روزہ رکھتے ہو اور پھر بکریاں بھی چراتے ہو ؟ پھر اس سے پوچھا کیا یہ بکریاں ہمارے ہاتھ فروخت کر سکتے ہو؟‘ ہم تمہیں نقد قیمت بھی دیں گے اور افطار کے لیے گوشت بھی۔ چرواہے نے عرض کیا یہ بکریاں میری نہیں ہیں‘ ان کا مالک میرا آقاہے۔ حضرت ابن عمرؓ نے (اس کے تقویٰ کا امتحان لینے کی خاطر) فرمایا:تو تمہارا آقا کیا کر لے گا؟چرواہے نے آسمان کی طرف انگلیاں اٹھائیں اور این اللہ این اللہ (اللہ کہاں ہے اللہ کہاں ہے) کہتا ہوا چلاگیا (مطلب یہ تھا کہ اللہ تو اس بددیانتی کو جان لے گا) ۔ حضرت ابن عمرؓ کو اس کا یہ قول بہت پسند آیا اور اس کو بار بار دہراتے رہے ۔ چونکہ اس کی دیانت اور خدا خوفی سے بے حد خوش ہوئے تھے اس لیے جب مدینہ آئے تو اس کے آقا سے اس کی بکریوں سمیت اسے خرید لیااور آزاد کر دیا اور تمام بکریاں بھی اس کو بخش دیں۔ 
ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک بدّو ملا۔ حضرت ابن عمرؓ نے اس کو سلام کیا اور سواری کا گدھا اور سر کا عمامہ اتار کر اس کو دے دیا۔ ابن دیناؓر ساتھ تھے‘انہوں نے عرض کیا اللہ آپؓ کونیکی کی توفیق دے ‘یہ بدو تو معمولی چیزوں سے خوش ہو جاتے ہیں۔ (گدھا اور عمامہ دینے کی کیا ضرورت تھی) فرمایا‘ اس کے والد میرے والد کے دوست تھے ۔ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کے بعض غلام آزاد ہونے کے لیے بڑے عبادت گزار بن جاتے تھے۔ ان کے بعض احباب نے عرض کیا کہ یہ لوگ عبادت میں مخلص نہیں ہیں اور آپؓ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ فرمایا:جو شخص ہم کو اللہ کے ذریعے دھوکا دیتا ہے ہم اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ سے جو مال نکل جاتا تھا‘ اس کو پھر وا پس نہیں لیتے تھے۔ عطاءؒ کا بیان ہے کہ ایک بار میں نے ان کو دو ہزار درہم قرض دیئے ۔ انہوں نے جب اس قرض کو چکایا تو میں نے ان کے درہموں کا وزن کیا‘ وہ وزن میں دو سو درہم زیادہ نکلے۔ میں نے یہ دو سو درہم واپس کرنے چاہے تو فرمایا: اب یہ تمہارے ہیں۔ چونکہ اکثر اپنا کھانا مسکینوں کو کھلا دیتے تھے ‘ اس لیے بہت لاغر ہو گئے تھے۔ لوگوں نے ان کی اہلیہ سے کہا کہ آپ ان کی خدمت اچھی طرح نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا میں کیا کروں‘ جب ان کے لیے کوئی کھانا پکتا ہے تو وہ مساکین کو کھلا دیتے ہیں۔ ان کی اس عادت کی بناء پر جب وہ مسجد سے نکلتے تو فقراء و مساکین ان کے راستے میں آ بیٹھتے۔ وہ انہیں اپنے ساتھ لے آتے اور کھانا کھلاکر بھیجتے ۔ ایک دن ان کی بی بی نے ان فقراء کے گھروں میں کھانا بھجوا دیا اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ ان کے راستے میں مت بیٹھنا اور وہ بلائیں بھی تومت آنا۔ حضرت ابن عمرؓ اس دن مسجد سے نکلے تو کسی فقیر کو راستے میں بیٹھا نہ پایا‘گھر آئے تو واقعہ معلوم ہوا ۔ غصہ سے فرمایا کیا تم چاہتی ہو کہ مساکین میرے دستر خوان پر نہ ہوں اور میں رات فاقہ سے بسر کروں ۔ چنانچہ اس رات کو کھانا نہ کھایا اور بھوکے پڑے رہے۔ 
اپنی جلالتِ قدر کے باوجود حضرت عبداللہ بن عمرؓ تو اضع ‘ انکسار اور اخلاقِ حسنہ کا مجسمہ تھے۔ لوگوں کو سلام کرنے میں ہمیشہ پہل کیا کرتے تھے‘ اس میں امیر و غریب کی بالکل تفریق نہ کرتے تھے ۔ فرماتے تھے کہ میں بازار میں اس لیے نکلتا ہوں کہ لوگوں کو سلام کروں اور جواب میں مجھے سلام کیاجائے۔ اگر کسی کو سلام کرنا بھول جاتے تو پلٹ کر سلام کرتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ سفر میں ہوتا تھا‘ جہاں تک ممکن ہوتا وہ اپنا کام خود کرتے تھے‘یہاں تک کہ خود اونٹ کا پاؤں دباتے تو میں اس پر سوار ہوتا۔ مسند احمد میں ہے کہ اپنی تعریف سننا ان کو سخت ناپسند تھا۔ ایک مرتبہ کوئی شخص ان کی تعریف کررہا تھا انہوں نے اس کے منہ پر مٹی جھونک دی اور فرمایا کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا ہے کہ منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالا کرو۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ انہوں نے جواب میں صرف اتنا فرمایا:بھائی ہم لوگ عالی نسب ہیں‘ گالی کا جواب نہ دیا۔
ایک دفعہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپؓ کون ہیں؟ فرمایا جو تم کہومیں وہی ہوں‘اس نے کہا آپ سبط ہیں‘ آپ وسط ہیں۔ فرمایا سبحان اللہ‘ سبط تو بنی اسرائیل تھے اور وسط تمام امتِ محمدیہ ﷺہے البتہ ہم قبیلہ مضر کے اوسط ہیں۔ اس سے زیادہ رتبہ کوئی ہمیں دیتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ 
وہ ہمیشہ اس کو مکر وہ سمجھتے تھے کہ کوئی ان کو وضو کرائے۔ ایک دفعہ کسی نے ان کو نہایت بیش قیمت ہروی کپڑے ہدیتہ پیش کیے۔ انہوں نے ان کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں تھا لیکن ہم کبرو غرور کے خوف سے ان کو نہیں پہن سکتے۔ایک دفعہ حالت احرام میں سردی محسوس ہوئی تو اپنے ایک شاگرد قرعہ عقیلی سے فرمایا: میرے اوپر چادر ڈال دو۔ انہوں نے چادر اوڑھا دی ۔ بیدار ہوئے تو اس کے نقش و نگار اور بوٹوں کو جو ریشمی تھے‘ دیکھنے لگے ۔ پھر فرمایا اگر یہ بوٹے نہ ہوتے تو اس کے اوڑھنے میں کوئی مضائقہ نہ تھا۔ اگر کسی ایسی جگہ تشریف لے جاتے جہاں لوگ انہیں دیکھ کر ازراہِ تعظیم کھڑے ہو جاتے تو وہاں نہ بیٹھتے تھے۔ (ابن سعد)
غلاموں کے ساتھ ان کا سلوک نہایت مشفقانہ بلکہ مساویانہ ہوتا تھا۔ انہیں اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر کھانا کھلاتے تھے اور اپنے اہل و عیال کی طرح ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ان لوگوں کو کھانا کھلانے میں دیر ہو گئی ‘حضرت ابن عمرؓ کو معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور حکم دیا کہ انہیں فوراً کھانا کھلایا جائے پھر فرمایا انسان کے لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ اپنے غلاموں کے کھانے پینے کا خیال نہ رکھے۔(مسلم)۔ دستر خوان پر بیٹھے ہوتے اور کسی دوسرے کا غلام وہاں آ جاتا تو اس کو بھی شریکِ طعام کر لیتے۔ انہوں نے اپنے غلاموں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ جب مجھے خط لکھو تو اس میں میرے نام سے پہلے اپنا نام لکھو حالانکہ اس وقت کے رواج کے مطابق آقا کا نام پہلے لکھا جاتا (ابن سعد)۔غلاموں کو نہ کبھی سخت سست کہتے تھے اور نہ کبھی ان پر ہاتھ اٹھاتے تھے۔ اگر کبھی ایک آدھ مرتبہ غصہ کی حالت میں کسی غلام پر سختی کر بیٹھتے تو کفارہ کے طور پر اس کو آزاد کر دیاجاتا۔ (صحیح مسلم)
اپنے اخلاق حسنہ‘ تواضع اور انکسار کی بدولت انہیں عوام الناس میں درجہء محبوبیت حاصل ہو گیا تھا۔ لوگ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے۔ گھر سے باہر نکلتے تو قدم قدم پر لوگ ان کو سلام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مجاہد ساتھ تھے‘ ان سے مخاطب ہو کر تحدیثِ نعمت کے طور پر فرمایا‘ لوگ مجھ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ اگر سونے چاندی کے بدلے میں بھی محبت خریدنا چاہتا تو اس سے زیادہ نہ مل سکتی۔ (طبقات ابنِ سعد)۔
حضرت ابن عمرؓ کی طبیعت میں استغنا اور قناعت کا مادہ بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ اگر چہ وہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہدیہ قبول کر لیتے تھے لیکن کسی کے سامنے کبھی دستِ سوال دراز نہیں کیا۔ علامہ ابنِ سعد ؒ نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میں کسی سے مانگتا نہیں لیکن جو اللہ تعالی دیتا ہے اس کو رد بھی نہیں کرتا۔ ایک دفعہ ان کی پھوپھی رملہؓ نے دو سو دینار بھیجے ۔ انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لئے اور انہیں دعا دی۔ ایک مرتبہ عبدالعزیز بن ہارون نے ان کو لکھا کہ آپ کی جو حاجت ہو‘ مجھ سے طلب فرمایئے ۔ انہوں نے جواب میں لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ اپنے اہل و عیال سے (لینے دینے کی)ابتدا کرو اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میرا خیال ہے کہ دینے والا ہاتھ اوپر کا ہے اور لینے والا نیچے کا ۔ میں آپ سے نہ سوال کروں گا اور نہ اس کو رد کروں گا جس کو اللہ نے میری طرف بھیجا ہے۔ 
ایک مرتبہ امیر معاویہؓ نے ایک لاکھ کی رقم ایک خاص مقصد کے لیے انہیں بھیجی لیکن انہوں نے یہ رقم قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ مال و دولت ان کے نزدیک بالکل بے حقیقت شئے تھی۔ اگر ذرا بھی شبہ ہو جاتا کہ مالی ہدیہ خلوص سے نہیں بلکہ کسی ذاتی غرض سے پیش کیا گیا ہے تو اس کو قبول نہ کرتے ۔ اسی طرح کسی چیز میں صدقہ کے شائبہ کا بھی خیال ہوتا تو اس کو استعمال نہ کرتے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنی والدہ کو ایک غلام دیا ۔اتفاق سے اس غلام کے ساتھ بازار گئے وہاں ایک شیر دار بکری فروخت ہو رہی تھی۔ انہوں نے غلام سے کہا‘ اپنے مال سے اس کو خرید لو۔ اس نے خرید لی اور افطار کے وقت اسی بکری کا دودھ ان کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا یہ دودھ بکری کا ہے‘ بکری غلام کے مال کی ہے اور غلام صدقہ کا ہے۔ اس کو ہٹاؤ میں نہیں پیوں گا۔ مشتبہ چیزوں سے سخت اجتناب کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے کھجور کا سرکہ بطور ہدیہ بھیجا ۔پوچھا کیا چیز ہے؟ معلوم ہوا کھجور کا سرکہ ہے۔ انہوں نے اس کو فوراً گرا دیا کیونکہ اس کے استعمال سے سکر(نشہ) پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ 
ابن سعد ؒ کا بیان ہے کہ وہ ککڑی اور خربوزہ صرف اس لیے نہیں کھاتے تھے کہ ان میں گندی چیزوں کی کھاد دی جاتی ہے۔ (یہ ان کی شدتِ احتیاط تھی ورنہ ان چیزوں کے استعمال میں کوئی کراہیت نہیں)۔ مروان بن الحکم نے اپنے زمانہ میں راستوں پر میل کے سنگی نشان نصب کرائے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ ان پتھروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے تھے اور ان سے ہٹ کر نماز پڑھتے تھے کیونکہ ان زمانوں میں پتھروں کے بتوں کے خاتمے کو زیادہ وقت نہ گزراتھا‘ پتھر کے بت کی پوجا کے شبہ سے احتیاط کرنا پسند کرتے۔ 
حضرت ابن عمرؓ کی زندگی ہمیشہ مصالحانہ رہی۔ انہوں نے مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں میں حصہ لیا نہ حکومتِ وقت کے خلاف کسی سرگرمی میں شامل ہوئے‘ تاہم جس بات کو حق سمجھتے تھے‘ اس کا برملا اظہار کرتے تھے ‘خواہ حاکمِ وقت کی پیشانی پر بل ہی کیوں نہ پڑ جائیں۔ ان کی حق گوئی اور بے باکی کے کچھ واقعات اوپر بیان کئے جا چکے ہیں ۔ اکثرمؤرخین کی رائے میں ان کی یہی حق گوئی ان کی شہادت کا باعث بنی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ مچھر کے خون کا کفارہ کیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا تم کون ہو؟ اس نے کہا ‘ عراقی۔ فرمایا: لوگو ذرا اس کو دیکھنا یہ شخص مجھ سے مچھر کے خون کا کفارہ پوچھتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشہ کو شہید کیا ہے‘ جن کے بارے میں حضور ﷺ فرماتے تھے کہ یہ دونوں حسنؓ اور حسینؓ میرے باغِ دنیا کے دو پھول ہیں۔ سانحہ کربلا کے بارے میں اس طرح کے جذبات کااظہار ارباب اقتدار کو مشتعل کر سکتا تھا لیکن حضرت ابن عمرؓ نے اس کی کبھی پروا نہیں کی‘ جو دل میں ہوتا وہ بلا جھجک زبان پر لے آتے۔
حضرت ابن عمرؓ نہایت صائب الرائے اور دانا تھے۔ اہل سیر نے ان کے متعدد حکیمانہ اقوال نقل کئے ہیں جن سے ان کی غیر معمولی بصیرت و حکمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں۔ 
* سب سے آسان نیکی خندہ پیشانی اور شیریں کلامی ہے۔ 
* علم تلاش کرو چاہے وہ دشمن کے پاس ہو۔ 
* دوسروں کے عیوب ڈھونڈنے سے پہلے اپنے عیوب پر نظر ڈالو۔
* جس طرح میٹھا شربت پی جاتے ہو‘ اسی طرح غصہ بھی پی جا یا کرو۔ 
* بندہ خواہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ ہی کیوں نہ ہو مگر جب اس کو دنیا کا کچھ حصہ مل جاتا ہے تواللہ کے یہاں اس کا کوئی نہ کوئی درجہ ضرور گھٹ جاتا ہے۔ 
* آدمی اس وقت اہلِ علم کی جماعت میں شمار ہونے کے قابل ہو گا جب وہ اپنے سے بلند آدمی پر حسد نہیں کرے گا‘اپنے سے کم تر کو حقیر نہ سمجھے گااور اپنے علم کی قیمت نہ لے گا۔ 
* اخلاق خراب ہیں تو ایمان بھی خراب ہو گا۔
* گناہ کرنا چاہتے ہو تو وہ جگہ تلاش کرو جہاں اللہ موجود نہ ہو۔ 
* عبادت کی لذت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تنہائی ڈھونڈو، دوستوں اور واقف کاروں سے علیحدگی اختیار کرو مگر یہ اس وقت ہو گاجب روزی تلاش کر لو اور اہل و عیال کو میٹھی نیند سو لینے دو۔ 
* میں پہلے خود حدیث پر عمل کرتا ہوں اور پھر لوگوں کو سناتا ہوں۔ 
سید نا ابن عمرؓ شکل و صورت میں اپنے جلیل القدر والد حضرت عمر فاروقؓ کے مشابہ تھے۔ دراز قد‘گندمی رنگ اور بھاری بھر کم جسم‘ کندھوں تک کاکلیں تھیں جن میں کبھی کبھی مانگ نکالا کرتے تھے ۔ داڑھی بقدر یک مشت‘مونچھیں بہت باریک کترواتے تھے ۔ بقول ابن سعدزرد خضاب استعمال کرتے تھے۔ تمام صحابہؓ و تابعین جنھوں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھاتھا‘ بالاتفاق ان کے اوصاف حمیدہ ‘ تبحّرِ علمی اور جلالت قدر کے معترف اور مداح تھے۔ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرمایا کرتی تھیں کہ عہد رسالت کی حالت و کیفیت کا عبداللہ بن عمرؓ سے زیادہ پابند کوئی نہیں رہا۔ حضرت حذیفہ بن ا لیمانؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ہر شخص کچھ نہ کچھ بدل گیا مگر عمرؓ اور ان کے بیٹے عبداللہؓ نہیں بدلے۔ حضرت سعید بن مسیبؓ کہا کرتے تھے کہ اگر میں کسی کے جنتی ہو نے کی گواہی دے سکتا ہوں تو وہ ابن عمرؓ ہیں۔ میمون بن مہران ؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمرؓ سے بڑھ کر کوئی متقی اور پرہیزگار نہیں دیکھا ۔ حضرت سلمہؓ بن عبدالرحمان فرماتے تھے کہ میں نے ابن عمرؓ کی وفات کے بعد ان جیسا کوئی نہیں دیکھا‘ وہ فضیلت میں اپنے والد کے قریب تھے۔ حضرت علی بن حسینؓ زین العابدین فرماتے تھے کہ عبداللہ بن عمرؓ کو زہد و تقویٰ اور اصابتِ رائے میں ہم سب پر برتری حاصل تھی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللھم اغفرلہ واسکنہ فی الجنّتہ لفردوس۔ آمین!ایں دعااز من واز جملہ جہاں آمیں باد۔