Tuesday, 26 August 2014

Hazrat Asma bint e Abubakr


چھٹی کہانی 


حضرت اسمآءؓ بنت ابی بکرؓ

یہ کہانی حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓ کی ہے جنہوں نے سو سال کی عمر پائی ‘ ان میں سے ہر سال ان کے لیے نئے سے نئے تحارب اور نئے سے نئے امتحان لئے آیا۔ ثابت قدمی ایسی کہ ہر منزل سے سرخرو گزریں ۔ ان محترم صحابیہؓ نے تمام اطراف سے شان اور فضیلت حاصل کی ۔وہ اس طرح کہ خود صحابیہ ‘والد ابو بکرؓ صدیق صحابی‘ دادا صحابی‘ بہن صحابیہ‘ ان کا خاوند صحابی اورپھر بیٹا صحابی۔ بلاشبہ یہ مجدو شرف ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے والد صدیق اکبرؓ تھے جنہیں زندگی میں رسول اللہﷺ کا خلیل اور وصال کے بعد ان کا خلیفہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ دادا ابو قحافہؓ صدیق اکبرؓ کے گرامی قدر والد تھے۔ ان کی بہن ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ تھیں۔ ان کے خاوند حواریِ رسول اللہ ﷺ حضرت زبیرؓ بن عوام تھے اور ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ تھے جو سب کے سب اللہ اور رسول اللہ ﷺکی پسندیدہ ہستیاں تھیں۔ قصہ مختصر یہ حضرت اسماؓ بنت ابی بکرؓ اونچے حسب و نسب اور نہایت بلند شرف والی خاتون تھیں۔ 
ایسی مبارک ہستی کے لیے اللہ پاک نے بچپن ہی میں چند سعادتیں مقدر فرما دی تھیں۔ پہلی یہ کہ جس رات مشرکین کا حضور ﷺ کے(نعو ذبااللہ) قتل کا منصوبہ ناکام ہوا اور حضورﷺ اپنے بستر پر علیؓ کو سلا کر قاتلوں کے درمیان سے نکل کر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ غارِ ثور میں جا تشریف فرما ہوئے تو ابو جہل نے ابو بکر صدیقؓ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جواب میں باہر نکلنے والی لڑکی اسماؓء سے کڑک کر پوچھا ۔ لڑکی! تمہارا باپ کدھر ہے؟ اس نے کہا’’میں کیا بتا سکتی ہوں ‘‘یہ سن کر ابو جہل نے اس کے چہرے پر اس زور سے تھپڑ مارا کہ ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر دور جا پڑی۔ مظلوم لڑکی بڑے صبر اور خاموشی سے گھر کے اندر چلی گئی۔ اس نے ابو جہل کے قہر و غضب کی مطلق پروا نہ کی اور ہجرت کے پرخطر راز کو چھپائے رکھا۔ دوسری سعادت یہ کہ وہ روزانہ رات کو اپنے بھائی عبداللہؓ بن ابی بکرؓ کے ساتھ خفیہ طور پر غار ثور میں جا کر حضورﷺ اور اپنے والد کو تازہ کھانا کھلا کر واپس آتیں۔ تیسری سعادت یہ کہ اس لڑکی نے دوتین دن کا کھانا دورانِ سفر کے لیے تیار کر کے ایک تھیلے میں ڈالا اور ایک مشکیزے میں پانی ڈالا اور انہیں جب زادِ راہ اور مشکیزے کو باندھنے کے لیے کوئی رسی نہ ملی تو انہوں نے ازار بند کے دو حصے کئے ایک کے ساتھ زادِ راہ کا تھیلا باندھ دیا اور دوسرے کے ساتھ مشکیزے کا منہ کس دیا، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا کی اور فرمایا تجھے اللہ تعالی اس کے بدلے جنت میں دو نطاق عطا فرمائے ‘ اس سے ان کا لقب ذات النطاقین پڑ گیا اور یہ خاص طور پر آپؓ کے جنت میں داخلے کی بشارت بھی تھی۔حضرت اسماءؓ ان خوش نصیب خواتین میں سے ہیں جنہیں اسلام قبول کرنے میں سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہوا ۔ان سے پہلے صرف سترہ مرد اور عورتیں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔
حضرت زبیرؓ بن عوام نے جب ان سے شادی کی‘ اس وقت ان کی حالت بہت کمزور تھی‘ نہ تو ان کے پاس کوئی خادم تھا اور نہ ہی کوئی مال۔ ملکیت میں صرف ایک گھوڑا تھا اور ایک اونٹ ۔ حضرت اسماءؓ ان کے لیے بڑی نیک اور خدمت گزار بیوی ثابت ہوئیں ‘ ان کا بھی خیال رکھتیں اور ان کے گھوڑے کے لیے چارے کا بھی بندو بست کرتیں‘ یہاں تک کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کے دروازے کھول دیئے اور زبیرؓ بھی صحابہ میں بہت مالدار بن گئے۔ جب حضرت اسماءؓ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی فرصت ملی اس وقت یہ حاملہ تھیں اور وضع حمل کے دن بالکل قریب تھے لیکن یہ کیفیت دشوار گزار اور طویل سفر اختیار کرنے میں رکاوٹ ثابت نہ ہوئی ۔ جب یہ وادی قباء میں پہنچیں تو انہوں نے اپنے بچے عبداللہ بن زبیر کو جنم دیا۔ مسلمانوں نے عبداللہ بن زبیرؓ کی ولادت پر بہت خوشی کا ا ظہار کیا ‘اس لیے کہ مدینہ منورہ میں مہاجرین کے ہاں یہ پہلا بچہ ہے‘ جس نے جنم لیا۔ والدہ اس نومولود کو گود میں اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺنے اسے اپنی گود میں لیا ‘ اپنے مبارک لعابِ دہن کی بچے کو گھٹی دی اور اس کے لیے خیر و برکت کی دعا کی۔ اس طرح سب سے پہلے جو چیز اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہﷺ کا لعابِ دہن تھا۔ اس بچے کا نام عبداللہ رکھا گیا اور حضرت عائشہؓ نے اسی بچے کے نام سے جو ان کا بھانجا تھا ‘اپنی کنیت امّ عبداللہ اختیار کی۔ اسماء بنت ابی بکرؓ میں جو بے شمار خوبیاں بیک وقت جمع ہو گئیں تھیں‘ وہ شاذو نادر ہی کسی اور خاتون کی ذات میں جمع ہوئیں آپؓ سخی اتنی بڑی تھیں کہ ان کی سخاوت کی مثال دی جاتی تھی۔ ان کے بیٹے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ عائشہؓ اور اپنی امی اسماءؓ سے بڑھ کر کسی عورت کو سخاوت کرتے نہیں دیکھا۔ لیکن ان دونوں کی سخاوت کا انداز مختلف تھا۔ خالہ عائشہ ؓ تو اشیاء جمع کرتی رہتیں اور جب بہت سی اشیاء جمع ہو جاتیں تو انہیں غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیتیں‘ لیکن میری امی کے ہاتھ میں جب بھی کوئی چیز آتی وہ کسی نہ کسی مستحق کو فوراً دے دیتیں۔ کل کے لیے کسی چیز کو اپنے پاس باقی نہ رکھتیں۔ 
حضرت اسماءؓ بڑی زیرک اور دانشمند خاتون تھیں‘ تنگ و ترش حالات میں نہایت عقلمندی سے تصرف کیا کرتی تھیں۔ جب صدیق اکبرؓ رسول اللہﷺ کے ہمراہ ہجرت کے لیے نکلے تو اپنے ساتھ اپنا سارا مال لے لیا‘وہ تقریباً چھ ہزار درہم تھے۔ اپنے اہل و عیال کے لیے کچھ نہ چھوڑا۔ جب ان کے بوڑھے باپ ابو قحافہ (جو نابینا تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) کوبیٹے کے کوچ کر جانے کا علم ہواتووہ بیٹے کے گھر آئے اور پوتی حضرت اسماؓء سے کہا بخدا میرے بیٹے نے تمہارا مالی نقصان بھی اسی طرح کیا ہے جس طرح اس نے اپنا جانی نقصان کیا ہے۔ حضرت اسماءؓ فوراً بولیں نہیں دادا جان ! وہ تو ہمارے لیے بہت سا مال چھوڑ کر گئے ہیں۔ پھر کچھ کنکریاں اس طاقچے میں رکھیں جس میں صدیق اکبرؓ مال رکھا کرتے تھے۔ اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور پھر اپنے نابینا دادا کا ہاتھ پکڑا اور وہاں لے گئیں اور کہا دادا جان !دیکھیں ‘ہاتھ لگائیے‘ ابا جان ہمارے لیے کتنا مال چھوڑ کر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ لگایا اور فرمایا : ۔خوب اگر اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو پھر کوئی پروا نہیں ۔ اس نے بہت اچھا کیا۔ حضرت اسماءؓ نے چاہا کہ دادا جان کو تسلی ہو جائے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ کہیں دادا جان ترس کھا کر اپنے پاس سے مجھے مال عطا نہ کردیں۔ وہ ان کا مال لینا نہیں چاہتی تھی کیونکہ ابھی تک وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ پوتی اسماءؓ کسی غیر مسلم کا مال استعمال نہ کرنا چاہتی تھی‘ اگرچہ وہ اس کے حقیقی دادا ہی کا کیوں نہ ہو۔ ہجرت کے بعد رحمت عالم ﷺ نے چند دن قباء میں قیام فرمایا اور پھر مدینہ منورہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمایا۔ چند ماہ بعد حضورﷺنے حضرت زیدؓ بن حارث اور حضرت ابورافعؓ کو مکہ بھیجا کہ وہ آپ کے اہل خانہ اور متعلقین کو مدینہ لے آئیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے ان دونوں کے ساتھ عبداللہ بن اریقط کو اپنے صاحبزادے عبداللہ کے نام خط دے کر بھیجا تھاکہ وہ بھی اپنی والدہ ام رومانؓ اور بہنوں کو مدینہ لے آئیں۔ چنانچہ حضرت زیدؓ اور حضرت ابو رافعؓ ام المومنین حضرت سودہؓ ‘ حضرت فاطمہؓ ‘ حضرت ام کلثومؓ ‘ حضرت ام ایمنؓ زوجہ حضرت زیدؓ کو لے آئے اور حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ حضرت ام رومانؓ حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ پہنچے۔ صحیح بخاری میں حضرت عروہؓ بن زبیر سے روایت ہے کہ ہجرت نبوی سے کچھ عرصہ پہلے حضرت زبیرؓ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام گئے ہوئے تھے۔ حضورﷺ کے سفر ہجرت کے دوران وہ شام سے پلٹ رہے تھے ۔ راستے میں کسی جگہ رسو ل اکرمﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے حضور ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ اپنے خسر کی خدمت میں کچھ سفید کپڑے بطورتحفہ پیش کئے اور آپ یہی کپڑے زیب تن فرما کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے ۔ مکہ واپس پہنچ کر حضرت زبیرؓ نے بھی ہجرت کی تیاری کی اور اپنی والدہ حضرت صفیہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قباء میں مستقل اقامت اختیار کر لی اور حضرت اسماءؓ کو بھی مدینہ منورہ سے وہیں بلا لیا۔ مدینہ منورہ (قباء )میں اقامت گزین ہونے کے بعد حضرت اسماءؓ نے پہلے چند سال بڑی تنگی ترشی میں بسر کئے ۔ اس زمانے میں ان کے شوہر حضرت زبیرؓ بہت مفلس اور تنگ دست تھے ۔ ان کی ساری متاع اب تک صرف ایک گھوڑے اور ایک اونٹ پر مشتمل تھی۔ حضور ﷺنے انہیں نخلستان بنو نضیر میں کچھ زمین بطور جاگیر عطا فرمائی تھی۔ چنانچہ شروع شروع میں وہ اس میں کاشت کر کے اپنی معاش کا سامان پیدا کرتے تھے۔ یہ زمین مدینہ منورہ سے تین فرسخ دور تھی۔ حضرت اسماءؓ روزانہ وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں جمع کر کے لاتیں ‘ انہیں کوٹ کر اونٹ کو کھلاتیں‘ گھوڑے کے لیے گھاس مہیا کرتیں‘ پانی بھرتیں‘ مشک پھٹ جاتی تو اس کو سیتیں ۔ ان کاموں کے علاوہ گھر کا دوسرا سب کام بھی خود ہی انجام دیتی تھیں۔ روٹی اچھی طرح نہ پکا سکتی تھیں۔ پڑوس میں چند انصاری خواتین تھیں وہ ازرا ہِ محبت و اخلاص ان کی روٹیاں پکا دیتی تھیں۔ صحیح بخاری میں خود حضرت اسماءؓ سے روایت ہے ۔ زبیرؓ نے مجھ سے نکاح کیا ‘ اس وقت نہ تو ان کے پاس زمین تھی نہ غلام اور نہ کچھ اور سوائے ایک اونٹ اور ایک گھوڑے کے ۔ میں ان کے گھوڑے کو دانہ کھلاتی تھی‘ پانی بھرتی تھی‘ ڈول سیتی تھی‘ آٹا گوندھتی تھی۔ انصار کی چند عورتیں جو میری ہمسایہ تھیں‘ روٹی پکا دیتی تھیں۔ وہ عورتیں مخلص تھیں۔ میں زبیرؓ کی زمین سے جو انھیں رسول اللہ ﷺنے عطا فرمائی تھی‘ سرپر گٹھلیاں رکھ کر لاتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے تین فرسخ کی مسافت پر تھی۔ 
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور طبرانیؒ نے حضرت اسماءؓ کی تنگدستی کے زمانے کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جو خود حضرت اسماءؓ کی زبانی مذکور ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں اس زمین میں تھی جو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سلمہؓ اور حضرت زبیرؓ کو عطا فرمائی تھی ۔یہ بنو نضیر والی زمین کہلاتی تھی۔ ایک دن زبیرؓ رسول اکرمﷺ کے ساتھ کہیں باہر گئے ۔ ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا‘ اس نے ایک بکری ذبح کی اور بھونی ۔ اس کی خوشبو جب میری ناک میں پہنچی تو مجھے ایسی سخت اشتہا پیدا ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ان دنوں میری بیٹی خدیجہ پیدا ہونے والی تھی‘ مجھ سے صبر نہ ہو سکا‘ میں یہودی عورت کے پاس آگ لینے کے لیے گئی اس ارادہ سے کہ شاید وہ مجھ سے کھانے کی بات پوچھے ورنہ مجھے آگ کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ وہاں پہنچ کر خوشبو سے میری اشتہا میں اور اضافہ ہو گیا لیکن یہودیہ نے کھانے کی بات ہی نہ کی۔ میں آگ لے کر اپنے گھر آ گئی اور کچھ دیر بعد پھر یہودیہ کے گھر گئی پھر بھی اس نے کھانے کی بات نہ کی۔ تیسری مرتبہ میں نے پھر اس کے گھر پھیرا ڈالا لیکن کسی نے بات نہ پوچھی ۔ اب میں اپنے گھر میں بیٹھ کر رونے لگی۔ اور اللہ سے دعا کی کہ الٰہی میری اشتہا کا سامان مہیا کر دے۔ اتنے میں اس یہودیہ کا شوہر اپنے گھر آیا اور آتے ہی پوچھا ، کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟ یہودیہ نے کہا ، ہاں پڑوس کی عرب عورت آئی تھی۔ یہودی نے کہا جب تک اس گوشت میں سے تو اس کے پاس کچھ نہ بھیجے گی میں ہر گز اس کو نہ کھاؤں گا۔ کیونکہ اس کو ڈر تھا کہ کہیں کھانے کو نظر نہ لگ گئی ہو۔ چنانچہ اس نے میرے پاس گوشت کا ایک پیالہ بھیج دیا۔ اس زمانے میں میرے لیے اس جگہ اس سے زیادہ پسندیدہ اور عجیب کوئی کھانا نہ تھا۔ یہ روایت حضرت اسماءؓ کی صاف گوئی پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی عسرت اور ایک بشری کمزوری کا حال صاف صاف بیان کر دیا۔ 
اسی زمانے میں ایک دن حضرت اسماءؓ کھجور کی گٹھلیوں کا گٹھا سر پر لادے چلی آ رہی تھیں کہ راستے میں رسول اللہ ﷺ کچھ اصحاب کے ہمراہ مل گئے۔ حضورﷺ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور چاہا کہ اسماءؓ اس پر سوار ہو جائیں ۔لیکن حضرت اسماءؓ شرم کی وجہ سے اونٹ پر نہ بیٹھیں اور گھر پہنچ کر حضرت زبیرؓ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ سبحان اللہ! سر پر بوجھ لادنے سے شرم نہ آئی لیکن رسول اللہ ﷺ کے اونٹ پر بیٹھنے میں شرم و حیا مانع ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت زبیرؓ اور اسماءؓ کو ایک غلام عطا کیا جس نے گھوڑے اور اونٹ کی نگہداشت سنبھال لی اور حضرت اسماءؓ کی مصیبت کم ہوئی۔ 
شروع شروع میں حضرت اسماء !ؓ افلاس کی وجہ سے ہر چیز ناپ تول کر خرچ کر تی تھیں ۔ سرکار دوعالمﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے حضرت اسماءؓ سے فرمایا۔ ’’اسماءؓ ناپ تول کر مت خرچ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی نپی تلی روزی دے گا‘‘۔ حضرت اسماءؓ نے حضورﷺ کے ارشاد کو حرزِ جان بنا لیا اور کھلے دل سے خرچ کرنے لگیں۔اللہ کی قدرت‘ اسی وقت سے حضرت زبیرؓ کی آمدنی بڑھنے لگی اور تھوڑی ہی مدت میں ان کے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ آسودہ حالی کے بعد بھی حضرت اسماءؓ نے اپنی سادہ وضع ترک نہ کی۔ ہمیشہ روکھی سوکھی روٹی سے شکم پری کرتیں اور موٹا جھوٹا کپڑا پہنتیں ‘ البتہ اپنی دولت کو خیرات کے کاموں میں بے دریغ صرف کرتی تھیں۔ جب کبھی بیمار ہوتیں تو تمام غلامو ں کو آزاد کر دیتیں۔ اپنے بچوں کو ہمیشہ ہدایت کیا کرتی تھیں کہ مال جمع کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ حاجت مندوں کی امداد کے لیے ہوتا ہے۔ اگر تم بخل کرو گے تو اللہ بھی تمہیں اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا ۔ہاں جو صدقہ کرو گے اور اللہ کی را ہ میں خرچ کرو گے وہ تمہارے کام آئے گا کہ اس ذخیرہ کے ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں۔حضرت اسماءؓ نے اپنی سادہ اور درویشانہ وضع آخر دم تک برقرار رکھی ۔ علامہ ابن سعدؒ نے طبقات میں لکھا ہے کہ ان کی زندگی کے آخری دور میں ان کے صاحبزادے منذر بن زبیر عراق کی فتح کے بعد لڑائی کے میدان سے واپس آئے تو ان کے مال غنیمت کے حصے میں کچھ قیمتی زنانہ کپڑے بھی تھے ۔ انہیں لے کر اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت اسماءؓ نے یہ کپڑے قبول کرنے سے انکا ر کر دیا اور فرمایا بیٹا مجھے تو موٹا کپڑا پسند ہے۔ چنانچہ منذر ان کے لیے موٹے کپڑے لائے جو انہوں نے خوشی سے قبول کر لئے اور فرمایا بیٹا مجھے ایسے ہی کپڑے پہنایا کرو۔ حضرت اسماءؓ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ترکے سے ایک جائیداد پائی تھی۔ اس کو انہوں نے ایک لاکھ درہم میں فروخت کر دیا اور ساری رقم قاسم بن محمد ا ور ا بن ابی عتیق ؒ کو جو ان کے قرابت دار تھے دے دی کیونکہ وہ حاجت مند تھے۔ 
حضرت اسماءؓ کا دست سخاوت بے حد کشا دہ تھا لیکن حضرت زبیرؓ کے مزاج میں ذرا سختی تھی ۔ حضرت اسماءؓ نے ایک دن سرور کائنات محمد ﷺ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ ﷺ! کیا میں شوہر کے مال میں سے ان کی اجازت کے بغیر یتیموں مسکینوں کو کچھ دے سکتی ہوں۔ حضور ﷺنے فرمایا ہاں دے سکتی ہو۔ ایک بار رسول اللہﷺنے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ تمام صحابہ کرامؓ نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ارشاد نبویﷺکی تعمیل کی۔ صحابیاتؓ نے اپنے زیور تک اتار کر دے دیئے۔ حضرت اسماءؓ کے پاس ایک لونڈی تھی ۔ انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور روپیہ لے کر بیٹھ گئیں۔ جب حضرت زبیرؓ گھر تشریف لائے تو انہوں نے حضرت اسماءؓ سے وہ روپیہ مانگا ۔ انہوں نے فرمایا میں نے صدقہ کر دیا ہے۔ حضرت زبیرؓ خاموش ہو گئے کیونکہ اللہ اور
رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کے وہ بھی طالب تھے۔ حضرت اسماءؓ نہایت راسخ العقیدہ مسلمان تھیں لیکن ان کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزّٰی شرف اسلام سے بہر ہ یاب نہ ہوئیں۔ اسی لیے حضرت ابو بکرصدیقؓ نے ان کو ہجرت سے پہلے طلاق دے دی تھی۔ ایک روایت کے مطابق طلاق کے بعد انہوں نے کسی دوسرے شخص سے شادی کر لی تھی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دفعہ قتیلہ مدینہ منورہ میں آئیں اور حضرت اسماءؓسے کچھ روپے مانگے۔ حضرت اسماءؓ ان کی مدد کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن ان کے شرک کی وجہ سے روپے دینے میں متامل ہوئیں اور رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺمیری والدہ مشرک ہیں اور وہ مجھ سے روپے مانگتی ہیں۔کیا میں ان کی امداد کر سکتی ہوں اور ان کے سوال کو پورا کر سکتی ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا، ہاں (یعنی اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔) ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالی صلہ رحمی سے نہیں روکتا ۔ طبقات ابن سعد اور مسند احمد بن جنبل میں روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت اسماءؓ کی والدہ قتیلہ ان کے لیے کچھ تحائف لے کر ملنے آئیں، حضرت اسماءؓ کی غیرت دینی نے گوارہ نہ کیا کہ اپنی مشرکہ ماں کے تحائف قبول کریں یا انہیں اپنے مکان میں ٹھہرائیں ۔ چنانچہ ا نہوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی معرفت رسول اکرمﷺ سے دریافت کیا کہ اس موقع پر میرے لیے کیا حکم ہے ؟ حضور ﷺنے فرمایا کہ ان کے تحائف قبول کر لو اور ان کو اپنے گھر میں مہمان رکھو۔ حضورﷺ سے اجازت ملنے پر انہوں نے والدہ کو اپنے مکان میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی اور ان کے تحفے قبول کر لئے۔ حضرت اسماءؓ کمال درجے کی عابدہ اور زاہدہ تھیں۔ کثرت عبادت کی وجہ سے ان کے تقدس کا عام شہرہ تھا اور طرح طرح کے مریض ان کے پاس دعائے خیر کے لیے آتے تھے۔ اگر کوئی بخا ر کامریض ان کے پاس آیا تو اس کے لیے دعا کرتیں اور پھر اس کے سینے پر پانی چھڑکتیں‘ اللہ تعالیٰ اسے شفا دے دیتا۔ فرمایا کرتی تھیں۔ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ بخار نار جہنم کی گرمی ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔ حضور ﷺکا ایک جبہ ام الموئمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی تحویل میں تھا‘ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیاتو انہوں نے یہ جبہ مبارک حضرت اسماءؓ کے سپرد کر دیا ۔ انہوں نے اسے سر آنکھوں پر رکھا اور جب تک زندہ رہیں اسے اپنی جان سے عزیز جانا۔ اگر کبھی گھر میں کوئی علیل ہو جاتا تو اس جبہ مبارک کو دھوکر اس کا پانی مریض کو پلا دیتی تھیں۔ اس کی برکت سے بیمار کو شفا ہو جاتی ۔ خود حضرت اسماءؓ کو کبھی درد سر ہوتا تو اپنے سر کو ہاتھ میں پکڑ کر کہتیں \"الٰہی! اگرچہ میں بہت خطا کار ہوں لیکن تیری رحمت اور فضل بے پایاں ہے‘‘۔اس پر اللہ تعالی انہیں آرام دے دیتا۔حضرت اسماءؓ بہت نڈر اور شجاع تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ کے وصال کے بعد وہ اپنے شوہر اور فرزند کے ساتھ شام کے میدان جہاد میں تشریف لے گئیں اور کئی دوسری خواتین کی طرح یرموک کی ہولناک لڑائی میں جنگی خدمات انجام دیں۔ 
حضرت سعیدؓ بن عاص کے دور امارت میں مدینہ منورہ میں بہت بدامنی پھیل گئی اور کثرت سے چوریاں ہونے لگیں۔ اس زمانے میں حضرت اسماءؓ اپنے سرہانے خنجر رکھ کر سویا کرتی تھیں ۔ لوگوں نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتی ہیں تو جواب دیا اگر کوئی چور یا ڈاکو میرے گھر آئے گا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ چا ک کر دوں گی۔
طویل عرصہ کی ازدواجی زندگی کے بعد حضرت اسماءؓ کی زندگی میں ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوا یعنی حضرت زبیر بن العوام نے انہیں طلاق دے دی۔ مؤرخین نے طلاق کی مختلف وجوہ بیان کی ہیں لیکن اصل سبب اللہ ہی کو معلوم ہے ۔ قیاس غالب یہ ہے کہ حضرت زبیرؓ اور حضرت اسماءؓ کے درمیان بعض خانگی معاملات میں ا ختلاف کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہو گئی۔ حضرت زبیرؓ کے مزاج میں کچھ درشتی تھی۔ ایک دن کسی بات پر غصہ میں آ گئے اور حضرت اسماءؓ کو زدو کوب کرنا چاہا۔ ان کے بڑے فرزند عبداللہؓ اتفاق سے گھر میں موجود تھے۔ حضرت اسماءؓ نے ان سے مدد چاہی ۔ حضرت زبیرؓ نے عبداللہ کو دخل اندازی سے منع کیا اور کہا کہ اگر تم نے اپنی ماں کی حمایت کی تو اسے طلاق ہے۔ حضرت عبداللہؓ کو گوارا نہ ہوا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے والدہ کو تشدد کا شکار ہوتا دیکھیں‘ آگے بڑھے اور ان کا بازو حضرت زبیرؓ کے ہاتھ سے چھڑالیا۔ اس کے بعد حضرت زبیرؓ اور حضرت اسماءؓ کے درمیان ہمیشہ کے لیے علیحدگی ہو گئی اور حضرت اسماءؓ مستقل طور پر فرزند اکبر حضرت عبداللہؓ کے ساتھ رہنے لگیں۔وہ اپنی والدہ کے بے حد خدمت گزار تھے اور زندگی کے آخری سانس تک ان کے کفیل رہے۔ حضرت اسماءؓ بڑی فراخ حوصلہ اور نیک دل خاتون تھیں ۔ حضرت زبیرؓ سے علیحدگی کے بعد بھی وہ انہیں ہمیشہ عزت و احترام سے یاد کرتی تھیں اور ان کی خوبیوں کی مدح و توصیف کیا کرتی تھیں۔
۳۶ہجری میں حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ جمل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ حضرت زبیرؓ اس جنگ میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پرجوش حامیوں میں تھے لیکن جب لڑائی شروع ہونے سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسولﷺ کا ایک ارشاد یاد دلایا تو وہ میدان جنگ سے کنارہ کش ہو کر پلٹ آئے ۔واپسی کے سفر میں وادی سباع میں پہنچے اور نماز پڑھتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوئے تو ایک شخص عمرو بن جر موز نے انہیں شہید کر دیا۔ حضرت اسماءؓ کو ان کی شہادت کی خبر سن کر سخت صدمہ پہنچا۔آپؓ شاعرہ تھیں ۔ بر وایت درِ منشور انہوں نے اس موقع پر اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے : 
\"ابن جر موز نے لڑائی کے دن ایک بلند ہمت شہسوار سے دغا کی
جب کہ وہ نہتا اور بے سرو سامان تھا
اے عمرو اگر تو اپنے ارادے سے زبیرؓ کو پہلے مطلع کر دیتا تو تو 
ان کو ایک نڈر اور بے خوف شخص پاتا۔
خدا تجھے غارت کرے تو نے ایک مسلمان کو ناحق قتل کیا اللہ کا عذاب تجھ پر ضرور نازل ہو گا۔
حضرت اسماءؓ کے فرزند حضرت عبداللہ بن زبیرؓ تاریخ اسلام میں بڑی اہم شخصیت کے مالک ہیں۔ امام حسینؓ کی المناک شہادت کے بعد انہوں نے بنی امیہ کی قاہر طاقت کا جس استقامت اور شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو امام حسینؓ کے رفقاء جیسے چند ساتھی مل جاتے تو وہ بنی امیہ کی سلطنت کا تختہ الٹ کر رکھ دیتے اور خلافت راشدہ کا نقشہ قائم کر دیتے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی شہادت تاریخ کا ا یک دردناک باب ہے۔ اس موقع پر حضرت اسماءؓ نے جس حق پر ستی ‘ بے خوفی‘صبر و رضا اور جرات ایمانی کا ثبوت دیا وہ ان کی کتاب زندگی کا ایک تابناک ورق ہے۔ ۳۰یا ا۳ھ سے حضرت اسماءؓ شوہر سے علیحدگی کے بعد مستقل طور پر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے پاس رہتی تھیں۔ حضرت عبداللہؓ ان کی بے حد تعظیم اور خدمت کرتے تھے اور اپنی شہادت ۷۳ ہجری تک انہو ں نے مسلسل اپنی ضعیف العمر ماں کی اطاعت اور رضا جوئی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے رکھا۔ حضرت اسماءؓ بھی اپنے سعادت مند فرزند کے لیے ہر وقت دعا گو رہتی تھیں۔ یہ انہی کی تربیت کا اثر تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر علم و فضل‘ زہد و اتقا‘ حق گوئی‘ شجاعت اور بے خوفی کا ایک مثالی پیکر تھے ۔ امام حسینؓ کی طرح انہوں نے بھی مرتے دم تک یزید کی بیعت نہ کی اور پھراس کی موت کے بعد بھی اس کے جانشینوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے۔ ۶۶ہجری میں عراق اور حجاز وغیرہ کے لوگوں نے انہیں متفقہ طور پر اپنا خلیفہ منتخب کیا۔ ۷۳ ہجری تک انہوں نے مکہ معظمہ میں اپنا علم خلافت بلند رکھا۔ان چھ سالوں میں انھیں بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا پڑا۔ ایک طرف مختار بن ابی عبید ثقفی کی زبردست جماعت تھی اور دوسری طرف بنو امیہ کی قاہرہ قوت ۔ وہ بڑے عزم اور حوصلہ کے ساتھ ان دونوں محاذوں پر لڑتے رہے۔ جب عبدالملک بن مروان مسند حکومت پر بیٹھا تو اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ عبداللہ بن زبیرؓ کی خلافت کو ختم کر کے رہے گا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے ایک آزمودہ کار جرنیل حجاج بن یوسف ثقفی کو مقرر کیا۔ حجاج بن یوسف نے ایک زبردست فوج کے ساتھ یکم ذی الحجہ ۷۲ھ کو مکہ معظمہ کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے بے مثال استقامت دکھائی اور چھ ماہ تک اموی فوج کو مکہ معظمہ پر قابض نہ ہونے دیا ۔ حجاج نے محاصرے میں اتنی سختی برتی کہ مکہ میں اناج کا ایک دانہ بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس نے بیت اللہ کی عزت و حرمت کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور جبل بوقبیس پر منجنیقیں نصب کر کے ان سے کعبتہ اللہ پر لگاتا ر پتھر برسائے۔حضرت عبداللہ بن زبیرؓ پتھروں کی بارش میں بھی اس انہماک سے نمازپڑھتے تھے کہ کبوتر ان کے کندھوں اور سرپر آکر بیٹھ جاتے تھے۔ محاصرے کی شدت اور خوراک کی قلت سے تنگ آ کر حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے اکثر ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر حجاج بن یوسف سے جا ملے حتیٰ کہ ان کے فرزندوں نے بھی بے وفائی کی اور حجاج بن یوسف کے پاس جا کر امان کے طالب ہوئے لیکن اس بہتر (۷۲)سال کے بوڑھے شیر نے بنو امیہ کے اقتدار کو تسلیم نہ کرنے کا حلف اٹھا رکھا تھا۔ اثنائے محاصرہ میں ایک دن حضرت اسماءؓ کی مزاج پرسی کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ کچھ علیل تھیں۔ گفتگو کے دوران حضرت عبداللہؓ کے منہ سے نکل گیا۔ اماں جان موت میں بڑی راحت ہے۔ بولیں شاید تم کو میرے مرنے کی آرزو ہے کہ ضیعف العمری کے دکھوں سے نجات پا جاؤں۔ لیکن بیٹے میں تمہارا انجام دیکھ کر مرنا چاہتی ہوں تاکہ اگر تمہیں شہادت نصیب ہو تو اپنے ہاتھوں سے تمہارا کفن دفن کروں اور اگر تم فتح پاؤ تو میرا دل ٹھنڈا ہو۔ اس واقعہ کے دس دن بعد جب گنتی کے صرف چند ساتھی رہ گئے تو وہ آخری بار حضرت اسماءؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عر ض کیا :
اماں جان! میرے ساتھیوں نے بے وفائی کی ہے۔ اب سوائے چند جاں نثاروں کے کوئی بھی میرا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ۔ آپ کی کیا رائے ہے، اگر ہتھیار ڈال دوں تو ہو سکتا ہے کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو امان مل جائے۔ 
حضرت اسماءؓ نے جواب دیا۔ 
اے میرے فرزند! اگر تم حق پرہو تو مردوں کی طرح لڑ کر رتبہ شہادت پر فائز ہو جاؤ اور کسی قسم کی ذلت برداشت نہ کرو۔ اور اگر یہ تمہارا کھکھیڑ دنیا طلبی کے لیے تھا تو تم سے برا کوئی شخص نہیں جس نے اپنی عاقبت بھی خراب کی اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈالا۔
ایک اور روایت میں حضرت اسماءؓ سے یہ الفاظ منسوب ہیں: 
\"بیٹا قتل کے خوف سے ہر گز کوئی ایسی شرط قبول نہ کرنا جس میں تم کو ذلت برداشت کرنی پڑے ۔اللہ کی قسم‘ عزت کے ساتھ تلوار کھا کر مرجانا اس سے بہتر ہے کہ ذلّت کے ساتھ کوڑے کی مار برداشت کی جائے\" ۔
عبداللہ بن زبیرؓ نے جواب دیا ۔اماں جان میں حق و صداقت کے لیے لڑا اور حق و صداقت کے لیے ساتھیوں کو لڑایا۔ اب آپؓ سے رخصت ہونے آیا ہوں۔ حضرت اسماءؓ نے فرمایا۔بیٹا اگر تم حق پر ہو تو حالات کی ناموافقت اور ساتھیوں کی بیوفائی کے سبب دشمنوں سے دب جانا شریفوں اور دینداروں کا شیوہ نہیں۔ ابن زبیرؓ نے عرض کیا ۔ اما ں جان میں موت سے نہیں ڈرتا‘ صرف یہ خیال ہے کہ میری موت کے بعد میری لاش کامثلہ کریں گے اور صلیب پر لٹکائیں گے جس سے آپؓ کو رنج ہو گا۔ صدیق اکبرؓ کی جلیل القدر بیٹی نے فرمایا۔ بیٹے جب بکری ذبح کر ڈالی جائے تو پھر اس کی کھال کھینچی جائے یا اس کے جسم کے ٹکڑے کئے جائیں اسے کیا پروا؟ تم اللہ پر بھروسہ کرکے اپنا کام کئے جاؤ ۔ راہ حق میں تلواروں سے قیمہ ہونا گمراہوں کی غلامی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ موت کے خوف سے غلامی کی ذلت کبھی قبول نہ کرنا۔
اپنی عظیم ماں کے حوصلہ افزاکلمات سن کر ابن زبیرؓ پر رقت طاری ہو گئی اور فرط محبت و عقیدت سے انہوں نے اپنی والدہ کا سر چوم لیا۔ پھر عرض کیا۔ اماں جان !میرا بھی یہی ارادہ تھا کہ راہ حق میں مردانہ وار لڑ کر جان دے دوں لیکن آپ سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا تاکہ میرے مرنے کے بعد آپ رنج و غم نہ کریں۔ 
الحمد اللہ کہ میں نے آپ کو اپنے سے بڑھ کر ثابت قدم اور راضی پایا۔ آپ کی با توں نے میرا ایمان تازہ کر دیا ہے۔ آج میں ضرور قتل ہو جاؤں گا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے قتل کے بعد بھی آپ صبر و شکر سے کام لیں گی۔ اللہ کی قسم میں سچ عرض کرتا ہوں کہ آج تک میں نے جو کچھ کیا وہ سب حق کو سربلند کرنے کے لیے تھا۔ میں نے کبھی برائی کو پسند نہیں کیا۔ کسی مسلمان پر ظلم نہیں کیا۔ کبھی بدعہدی نہیں کی۔ کبھی امانت میں خیانت نہیں کی۔ اپنے عمال کا کڑا محاسبہ کیا اور اپنی حدود خلافت میں جہاں تک ممکن تھا عدل و انصاف سے کام لیا ۔لوگوں سے اللہ اور رسول اللہﷺکے احکام کی تعمیل کروائی اور اعمال بد سے انہیں روکا۔ بخدا میں دین کے آگے دنیا کو ہیچ سمجھتا ہوں ‘اللہ کی رضا کے سوا مجھے کوئی شے مطلوب نہیں۔ پھر آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور کہا۔الٰہی میں نے یہ باتیں فخر کے طور پر نہیں کہیں بلکہ صرف اپنی والدہ محترمہ کی تسکین اور اطمینان کے لیے کی ہیں۔ حضرت اسماءؓ نے انھیں دعا دی اور فرمایا۔ بیٹے تم اللہ کی راہ میں جان دو ‘ میں ان شاّء اللہ صابر و شاکر رہوں گی۔ اب آگے آؤ تاکہ آخری بار تمہیں پیار کر لوں۔ عبداللہؓ آگے بڑھے‘ ضعیف العمر ماں نے اپنے لخت جگر کو گلے لگایا اور ان کا منہ سرچوما ۔ اس وقت حضرت عبداللہؓ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ حضرت اسماءؓ کا ہاتھ ان کی زرہ پر پڑا تو پوچھا۔ بیٹے یہ تمہارے جسم پر کیا ہے؟ عرض کیا زرہ ہے تاکہ دشمن کی ضربوں سے بچاؤ ہو۔ حضرت اسماءؓ نے فرمایا بیٹے اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے لیے نکلتے ہو اور ان عارضی چیزوں کا سہارا لیتے ہو۔ حضرت عبداللہؓ نے اسی وقت زرہ اتار پھینکی ‘ سر پر سفید رومال باندھ لیا اور ماں سے کہااماں جان اب میرے جسم پر معمولی لباس ہے۔ حضرت اسماءؓ نے فرمایا بیٹا اب میں خوش ہوں‘جاؤ اللہ کے راستے میں لڑو اور اس کے ہاں اسی لباس میں جاؤ۔ 
حضرت عبداللہ نے تلوار سونت لی اور رجز پڑھتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ کافی دیر تک داد شجاعت دیتے رہے آخر زخموں سے چور چور ہو کر صدیق اکبرؓ کا یہ اولو العزم نواسہ اور حضرت اسماءؓ کا لخت جگر اپنے مولائے حقیقی سے جا ملا۔ 
ابن زبیرؓ کی شہادت کی خبر سن کر حجاج بن یوسف کو بڑی مسرت ہوئی اور اس نے حکم دیا کہ ابن زبیرؓ کی لاش کو مقام حجون میں سولی پر الٹا لٹکا دیاجائے ۔حضرت اسماءؓ کو حجاج کی اس حرکت کا علم ہوا تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ اللہ تجھے غارت کرے تو نے میرے لخت جگر کی لاش کو دار پر کیوں لٹکایا۔ حجاج نے جواب میں کہلا بھیجا میں لوگوں کو ابن زبیرؓ کے انجام سے عبرت دلانا چاہتا ہوں۔ حضرت اسماءؓ نے اسے پھر پیغام بھیجا کہ میرے بچے کی لاش میرے حوالے کر دو تاکہ میں اس کی تجہیز و تکفین کر سکوں۔ سنگ دل حجاج نے صاف انکار کر دیا۔ ابن زبیرؓ کی شہادت کے ایک دو دن بعد حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا مقام حجون سے گزر ہوا ۔ان کی لاش سولی پر لٹکتے دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوئے اور اس کے نیچے کھڑے ہو کر فرمایا۔\"اے ابو خبیب! السلام علیک‘ میں نے تم کو اس سیاست میں پڑنے سے منع کیا تھا‘ تم نمازیں پڑھتے تھے‘ روزے رکھتے تھے اور صلہ رحمی کرتے تھے۔ شہادت کے تیسرے دن حضرت اسماءؓ ایک کنیز کے سہارے مقام حجون تشریف لے گئیں۔ اتفاق سے اس وقت حجاج بھی وہاں گشت کر رہا تھا۔ حضرت اسماءؓ کو لوگوں نے حجاج کی موجود گی کی اطلاع دی تو انہوں نے فرمایا’’ کیا اس سوار کے اترنے کا وقت ابھی نہیں آیا‘‘۔ حجاج نے کہا وہ ملحد تھا اس کی یہی سزا تھی۔ حضرت اسماءؓ تڑپ اٹھیں ‘ فرمایا اللہ کی قسم وہ ملحد نہ تھا بلکہ نمازی‘روزہ دار اور متقی تھا۔ حجاج نے جھلا کر کہا بڑھیا یہاں سے چلی جاؤ۔ تمہاری عقل سٹھیا گئی ہے حضرت اسماءؓ نے بڑی بے باکی سے جواب دیا۔ میری عقل نہیں سٹھیا گئی، اللہ کی قسم میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ بنو ثقیف میں ایک کذّاب اور ایک ظالم سفاّک پیداہو گا ۔ سو کذّاب یعنی مختار بن ابو عبید ثقفی کو تو ہم نے دیکھ لیا اور ظالم سفاّک تو ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب حجاج نے سنا کہ ابن عمرؓ نے ابن زبیرؓ کی لاش کے نیچے کھڑے ہو کر ان کی تعریف کی ہے تو اس نے لاش کو اتروا کر یہودیوں کے قبرستان میں پھنکوا دیا اور حضرت اسماءؓ کو بلا بھیجا۔ انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا۔ حجاج نے کہلا بھیجا کہ میرے حکم کی تعمیل کرو‘ورنہ چوٹی سے پکڑ کر گھسیٹوں گا۔ حضرت اسماءؓ نے جواب میں کہلا بھیجا ’’اللہ کی قسم اس وقت تک نہ آؤ ں گی جب تک تو چوٹی پکڑ کر نہ گھسیٹے گا‘‘۔حجاج اب مجبورہو کر خود حضرت اسماءؓ کے پاس پہنچا اور دلآزارانہ لہجے میں کہنے لگاکہ ۔ اے ذات النطاقین !سچ کہنا‘ اللہ کے دشمن کا انجام کیسا ہوا؟ حضرت اسماءؓ نے فرمایا۔ ہاں تو نے میرے فرزند کی دنیا خراب کی لیکن اس نے تیری آخرت کو برباد کر دیا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ تو میرے بیٹے کو طنزاََ ابنِ ذات النطاقین کہتا تھا تو اللہ کی قسم میں ذات النطاقین ہوں‘ میں نے ہی رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کا توشہ دان اپنے نطاق سے باندھا تھا لیکن میں نے خود حضور ﷺ سے سنا ہے کہ بنی ثقیف میں ایک کذّاب اور ایک سفاّک ہو گا۔ کذّاب کوہم نے دیکھ لیا۔ سفاّک کا دیکھنا باقی تھا‘سو وہ تو ہے۔ حجاّج حضرت اسماءؓ کی بے باکانہ گفتگو سن کر سکتے میں آ گیا اور کان دبا کر وہاں سے چل دیا۔ حضرت اسماءؓ جب حجاج بن یوسف کی طرف سے مایوس ہو گئیں اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ان کے لخت جگر کی لاش ان کے حوالے نہیں کرے گا تو انہوں نے کسی ذریعہ سے عبدالملک کو دمشق پیغام بھیجوایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ ابن زبیرؓ کے بھائی عروہ بن زبیرؓ محاصرہ مکہ کے دوران آخروقت تک ان کے ساتھ تھے ۔ جب عبداللہ بن زبیر ؓ شہید ہو گئے اور حجاج نے ان کی لاش سولی پر لٹکا دی تو وہ مکہ سے پوشیدہ طور پر عبدالملک کے پاس دمشق پہنچے۔ وہ عروہؓ سے بڑی محبت اور تکریم سے پیش آیا اور تخت پر اپنے پاس جگہ دی۔ عروہؓ نے اسے مکہ کے سارے حالات بتائے اور اس سے درخواست کی کہ حجاج کو ابن زبیرؓ کی لاش حضرت اسماءؓ کے حوالے کرنے کا حکم بھیجے۔ عبدالملک نے اسی وقت حجاج کو ایک غضب آلود خط لکھا ‘جس میں اس کی حرکت پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور حضرت ابن زبیرؓ کی لاش فورا حضرت اسماءؓ کے حوالے کرنے کاحکم دیا۔ عبدالملک کا خط پہنچنے پر حجاج نے ابن زبیرؓ کی لاش حضرت اسماءؓ کے حوالے کر دی۔ 
ابن ابی ملیکہ ایک عینی شاہد کا بیان ہے کہ میں سب سے پہلا شخص تھا جس نے حضرت اسماءؓ کو ابن زبیرؓ کی لاش ان کے حوالے کئے جانے کی بشارت دی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ اسے غسل دو۔ لاش کا جوڑ جوڑ الگ ہو چکا تھا ہم ایک ایک حصہّ بدن کو غسل دے کر کفن میں لپیٹتے جاتے تھے ۔ جب سارے اعضاء کا غسل ہو چکا تو حضرت اسماءؓ نے اپنے لخت جگر کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ پھر ہم نے جنازہ پڑھ کر ابن زبیرؓ کو مقام حجون میں سپرد خاک کر دیا۔ اس سے پہلے حضرت اسماءؓ فرمایا کرتی تھیں ٰکہ الٰہی مجھے اس وقت تک نہ مارنا جب تک میں اپنے فرزند کا جُثہ کفناد فنا کر مطمئن نہ ہو جاؤں۔ اس واقعہ کے سات دن یا بعض روایتوں کے مطابق بیس دن یا سو دن کے بعد حضرت اسماءؓ نے بھی داعی ء اجل کو لبیک کہا۔ وفات کے وقت ان کی عمر سو برس کے لگ بھگ تھی لیکن سارے دانت سلامت تھے اور ہوش و حواس بالکل درست تھے۔ قد دراز تھاجسم فربہ تھا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اخیر عمر میں بصارت جاتی رہی تھی اس لیے عبداللہ بن زبیرؓ کا واقعہ شہادت بچشم خود نہیں دیکھا بلکہ ٹٹول ٹٹول کر یا پوچھ پوچھ کر ہر کیفیت سے آگاہ ہوتی تھیں۔ حضرت زبیرؓ سے حضرت اسماءؓ کو اللہ تعالی نے پانچ صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں عطا کی تھیں۔ ان کے نام یہ ہیں ۔ عبداللہؓ ، عروہؓ ، منذرؓ، مہاجرؓ، عاصمؓ، خدیجہ الکبریٰ ، ام الحسن اور عائشہ۔ 
ان میں سے حضرت عبداللہؓ اور عروہؓ نے خاص شہرت حاصل کی ۔ حضرت اسماءؓ علم و فضل کے اعتبار سے بھی بڑا اونچا درجہ رکھتی تھیں۔ ان سے چھپن (۵۶)احادیث مروی ہیں۔راویوں میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ‘ عروہؓ ‘ ابو بکر عباد و عامر پسران عبداللہ بن زبیر ؓ ‘ عبداللہ بن عروہؓ ‘ عبداللہ بن کیسان ؒ ‘ فاطمہ بنت منذربن زبیر ؒ ‘ محمد بن منکدر‘ ابن ابی ملیکہ‘ وہب بن کیسانؓ مطلب بن حنطب‘ ابو نوفل ابن ابو عقرب مسلم معریؓ صفیہ بنت شیبہ اور عبادہ بن حمزہ بن عبداللہ بن زبیرؓ شامل ہیں۔ حضرت اسماءؓ نے اپنی طویل زندگی میں زمانے کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ۔وہ تاریخ اسلام کی ان معدود ے چند ہستیوں میں سے ہیں جنھوں نے جاہلیت کازمانہ بھی دیکھا اور پورا دور رسالت اور خلفائے راشدین کا عہد باسعادت بھی دیکھا ۔اپنے عظیم المرتبت فرزند کا دور عروج بھی دیکھا اور ان کی المناک شہادت کا منظر بھی دیکھا ۔ ان پر بارہا مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے لیکن انہوں نے ہر موقع پر بے پناہ عزم و استقلال اور جرأت ایمانی کا مظاہر ہ کیا ۔ بلاشبہ وہ تاریخ اسلام کی ایک مہتم بالشان شخصیت ہیں اور ان کا درخشندہ و تابندہ کردار مسلمانوں کے لیے تاابد مشعل راہ بنا رہے گا۔ دعا ہے اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ ایں دعا ازمن و از جملہ جہاں آمیں باد۔

Monday, 25 August 2014

Hazrat Muaz Bin Jabal (R.A.)


پانچویں کہانی

حضرت معاذؓ بن جبل 

یہ کہانی حضرت معاذؓ بن جبل کی ہے جو حلال اور حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ کہانی کی ابتدااس وقت سے کرتے ہیں جب اللہ پاک نے عرب کے ان پڑھ لوگوں میں سے ایک اُمّیﷺ کو جسے لوگ صادق اور امین کی حیثیت سے جانتے تھے اپنا رسولﷺ بنا کر بھیجا۔ اس رسولﷺ کے ذمہ صرف یہ تھاکہ اپنی قوم کو اپنے مالک اللہ کا کلام پڑھ کر سنائے‘ان کا تزکیہ نفس کرے‘ کلام کی تشریح کرے اور انہیں حکمت کی باتیں ا سکھائے ۔ یہ اللہ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نے اس نعمت کا خاص طور پر بندوں پر اپنا احسان جتلایا۔ پس جب نبی کریم ﷺ کی تعلیم سے جزیرہ عرب رشد و ہدایت اور حق و صداقت کے نور سے چمک اٹھا تو ایک ابھرتے ہوئے یثربی جوان معاذ بن جبل کے خیالات میں طوفان سا برپا ہو گیا۔ وہ اپنے ہم عمر ساتھیوں میں سب سے زیادہ ذہین‘ فطین‘ باہمت اور فصیح البیان تھا۔ فی الواقع وہ شرمیلی آنکھوں، گھنگریالے بالوں‘ چمکیلے دانتوں والا ایک ایسا حسین و جمیل نوجوان تھا کہ اسے دیکھنے والی آنکھیں ٹک ٹک دیکھتی ہی رہ جاتیں اور دیکھنے والے کا دل اس خوبصور ت و دلکش چہرے کو دیکھ کر حیران و ششد ر رہ جاتا۔ حضرت معاذ بن جبل نے رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ مکی مبلغ حضرت مصعبؓ بن عمیر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور عقبہ کی رات نبی کریم ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت معاذؓ بن جبل ان بہتر(۷۲) خوش نصیب اشخاص کے قافلے میں شامل تھے‘ جنہوں نے رسول اللہﷺکی زیارت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کا قصد کیا تاکہ آپ کی بیعت کا شرف حاصل کر سکیں اور تاریخِ اسلام کے سنہری باب میں اپنا نام درج کرانے کا اعزاز حاصل کر سکیں۔ اس نوجوان نے مکہ مکرمہ سے واپس مدینہ منورہ پہنچتے ہی بتوں کو توڑنے کے لیے اپنے ہم خیال ساتھیوں کا ایک گروپ ترتیب دیا۔ انہوں نے خفیہ اور اعلانیہ کارروائی شروع کر دی۔ ان نوخیز جوانوں کی تحریک سے متاثر ہو کر یثرب کی ایک اہم شخصیت جناب عمروؓ بن جموح نے اسلام قبول کر لیا۔ 
عمروؓ بن جموح بنو سلمہ کا ہر دلعزیز سردار تھا اور اس نے اپنے لیے نہایت عمدہ لکڑی کا ایک بت تیار کروایا ہوا تھا، اور وہ اس کی بڑی دیکھ بھال اور تعظیم کیا کرتا تھا‘ اسے ریشمی کپڑے پہناتا اور قیمتی عطریات ملتا۔ ایک رات اندھیرے میں نوجوان چپکے سے اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بت کو اٹھا کر دبے پاؤں باہر نکلے اور بنو سلمہ کے گھروں کے پیچھے ایک ایسے گڑھے میں پھینک دیا جس میں گندگی تھی۔ 
جب صبح کے وقت سردار عبادت کی غرض سے اپنے بت کے پاس گیا تو اسے غائب پایا‘ ہر جگہ اس کی تلاش کی بالآخر اپنے بت کوایک گڑھے میں گندگی میں لت پت اوندھے منہ پڑا ہوا دیکھا۔ اسے وہاں سے اٹھایا غسل دیا‘ گندگی سے پا ک کیا اور دوبارہ اس کی جگہ پر لا کر رکھ دیا اور عرض کیا اے منات!بخدا ! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ تیرے ساتھ یہ بدسلوکی کرنے والا کون ناہنجار ہے تومیں سرعام اسے ایسا رسوا کروں کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ مگرجب اگلی رات آئی اور سردار نیند میں خراٹے لینے لگا تو ان نوجوانوں نے پھر وہی کام کیا جو پہلی رات سرانجام دیا تھا۔ تلاش بسیار کے بعد سردار عمرو بن جموع کو وہ اسی جیسے ایک دوسرے گڑھے میں اوندھے منہ پڑا ہوا ملا۔ اس نے اسے وہاں سے اٹھایا ‘ غسل دیا‘ صاف ستھرا کیا ‘ عطر لگایا اور ایسا سلوک کرنے والوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور سرعام انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی دھمکی دی ۔ بار بار اس عمل کو دہرایا گیا‘ نوجوان بت کو کنویں میں پھینک آتے اوراس کا پجاری وہاں سے نکال کراُسے غسل دے کر اس کی جگہ پر لا کر رکھ دیتا اور پوجا پاٹ کرتا۔ 
بالآخر تنگ آ کر اس نے اس بت کے گلے میں تلوار لٹکا دی اور اس سے مخاطب ہوا۔ ’’اللہ کی قسم!تیرے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کا مجھے علم نہیں‘ اے منات! اگر تم میں طاقت اور ہمت ہے تو ضرور اپنا دفاع کرنا‘یہ تلوار تیرے پاس ہے۔‘‘ جب رات ہوئی‘ سردار نیند کی آغوش میں محو استراحت ہوا‘ نوجوان بت پر ٹوٹ پڑے ۔اس کی گردن میں لٹکتی ہوئی تلوار لی اور ایک مردہ کتے کی گردن کے ساتھ باندھ دی اور دونوں کو ایک ہی گڑھے میں پھینک آئے‘ جب صبح ہوئی سردار نے اپنا بت غائب پایا‘ تلاش شروع کی تو اسے انتہائی بدتر حالت میں ایک گڑھے میں اوندھے منہ پڑا ہوا پایا‘ گندگی سے وہ لت پت تھا اور ساتھ مردہ کتا بندھا ہوا تھا اور اس کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ سردار نے یہ قبیح منظر دیکھا تو ایک شعر پڑھا جس کا مطلب تھا‘:’’اللہ کی قسم! اگر تو الہٰ ہوتا تو توُ اور کتا ایک ساتھ کنوئیں میں نہ ہوتے۔‘‘ بنو سلمہ کے اس سردار نے یہ شعر پڑھنے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت معاذؓ بن جبل آپﷺ کے ساتھ سائے کی طرح چمٹ گئے۔ آپﷺ سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی اور شرعی احکامات کا علم حاصل کرنے میں منہمک ہو گئے‘یہاں تک کہ آپؓ صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ کتاب الٰہی اور شریعت اسلامیہ کا علم رکھنے والے بن گئے اور اپنے علاقہ میں احکام الٰہیہ کی تعلیم دینا شروع کی۔
بہت عرصہ بعد کی بات ہے‘ یزید بن قطیب بیان کرتے ہیں۔ میں ایک روز حمص کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک گھنگریالے بالوں والا وجیہ شخص بیٹھا ہوا تھا اور لوگ اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ جب وہ گفتگو کرتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے اس کے منہ سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں اور چار سو موتی بکھر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا یہ معاذؓ بن جبل ہیں۔ اسی طرح ابو مسلم خولانی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز دمشق کی مسجد میں گیا۔ وہاں عمر رسیدہ صحابہ کرامؓ کو ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے درمیان شرمیلی آنکھو ں اور چمکیلے دانتو ں والا ایک نہایت وجیہ شخص جلوہ افروز تھا۔ جب کبھی کسی مسئلہ میں اختلاف پیدا ہوجاتا تو وہ اس کی طرف رجوع کرتے ۔میں نے ایک ہم نشین سے پوچھا یہ کون ہے۔ اس نے بتایا یہ حضرت معاذؓ بن جبل ہیں۔ 
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں‘ حضرت معاذؓ بن جبل کی بچپن سے ہی مدرستہ الرسولﷺ میں تربیت ہوئی تھی اور رسول اقدسﷺ کے چشمہ علم سے خوب اچھی طرح سیراب ہوئے تھے اور انہوں نے اسی چشمہ صافی سے علم و عرفان کے جام پیئے تھے۔ یہ ایک بہترین معلم کے بہترین شاگرد تھے۔ حضرت معاذؓ بن جبل کے لیے یہ سند کافی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ان کے متعلق یہ ارشاد فرمایا میری امت میں حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذؓبن جبل ہے۔ ان کے شرف و فضل کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان چھ خوش نصیب افراد میں سے ہیں جنہوں نے رسولﷺ کے عہد مبارک میں قرآن جمع کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی لیے صحابہ کرامؓ کی کسی مسئلہ پر باہمی گفتگو کے دوران اگر وہاں حضرت معاذؓ بن جبل ان میں موجود ہوتے تو ان کی طرف بڑے احترام سے دیکھتے اور ان سے رائے لیتے۔
رسول اکرم ﷺ کے بعد سید نا صدیق اکبرؓ اور سید نا عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس نابغہ عصر علمی شخصیت سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا کا م لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے بعدجب دیکھا کہ قریش گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو ان نئے مسلمانوں کے لیے ایک تجربہ کار معلّم کی ضرورت محسوس ہوئی جو انہیں اسلام کی تعلیم دے اور شرعی احکام سمجھائے۔ آپﷺ نے سید عتاب بن اسید کو مکہ کا گورنر مقرر کیا اور ان کے ساتھ حضرت معاذؓ بن جبل کو وہیں رہنے دیا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم اور دینی احکامات سکھائیں۔ جب شاہان یمن کے ایلچی رسول اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ انہوں نے آپﷺ کے روبرو اپنے مسلمان ہونے اور ماتحت دیگر یمنیوں کے مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور یہ درخواست کی کہ ان کے ہمراہ کچھ ایسے حضرات بھیجے جائیں جو نئے مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں‘ آپﷺ نے اس مشن پر بھیجنے کے لیے چند ایک مبلغین کو منتخب کیا اور ان کا امیر حضرت معاذؓ بن جبل کو مقرر کیا، نبی اکرم ﷺ اس رشد و ہدایت پر مشتمل مبلغین کی جماعت کو الوداع کرنے کے لیے خود مدینہ کے باہر تک تشریف لے گئے۔ نبی اکرم ﷺ پیدل چل رہے تھے اور حضرت معاذؓ بن جبل اونٹنی پر سوار تھے ۔ آپﷺ دیر تک ان کے ساتھ ساتھ چلتے رہے کیوں کہ آپ ﷺحضرت معاذؓ سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتے تھے۔ معاذؓ نے عرض کیا:’’ میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں‘ میں بھی اونٹنی سے اتر کر آپ ﷺکے ساتھ پیدل چلتا ہوں یا آپﷺ بھی سوار ہو جائیں۔‘‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تم بیٹھے رہو بس میری باتیں توجہ سے سن کر پلے باندھ لو۔‘‘ دوسری مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یمن جیسے ترقی یافتہ علاقہ کا حضرت معاذؓ کو گورنر اور قاضی مقرر کیا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی مسئلہ آئے یا مشکل درپیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے ؟ تو انہوں نے عرض کیا اللہ کی کتاب سے‘ آپ ﷺنے فرمایااگر قرآن سے فیصلہ نہ کر سکو تو معاذؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺکی سنت سے‘ پھر پوچھا کہ اگر سنت سے بھی نہ ملے تو ‘ عرض کیا اپنی رائے سے اجتہاد کروں گااور کوئی کسر نہ ا ٹھارکھوں گا۔ آپﷺ نے ان کے سینہ پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق فرمائی جو اللہ کے رسول کو پسند ہے۔ اصل میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ میری نظر میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں جو حضورﷺ سے زیادہ اپنے رفقاء سے مشورہ کرنے والاہو۔ اسی روحِ مشاورت نے صحابہؓ میں قیاس اور اجتہاد کا جوہر پیدا کیا اور معاذؓ بن جبل اسی مبارک مجلس سے فیضاب ہوتے تھے۔ 
رسول اللہ ﷺ نے انہیں وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ اے معاذؓ ہوسکتا ہے کہ تم مجھے پھر نہ مل سکو۔ حضرت معاذؓ بن جبل اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کے فراق سے غمزدہ ہو کر زار و قطار رونے لگے اور آپﷺ کے ساتھ دیگر ساتھی بھی سسکیاں لینے لگے۔ رسول اکرم ﷺ کی یہ خبر مبنی بر صداقت تھی۔ اس کے بعد حضرت معاذؓ کو رسول اقدس ﷺ کی زیارت کی دولت پھر نصیب نہ ہو سکی‘حضرت معاذؓ کے یمن سے واپس لوٹنے سے پہلے ہی رسول اکرم ﷺ اپنے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ جب حضرت معاذؓ مدینہ منورہ واپس لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے فراق میں دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ جب حضرت عمرؓ بن خطاب خلیفہ بنے تو آپؓ نے حضرت معاذؓ کوبنو کلاب کی طرف بھیجا تاکہ وہ اغنیاء سے صدقات وصول کر کے ان کے فقراء و مساکین میں تقسیم کریں۔ آپؓ نے اس ذمہ داری کواچھی طرح نبھایا۔ آپؓ جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو انہو ں نے مفلر کے طورپر اپنی گردن پر وہ ٹاٹ لپیٹ رکھا تھا جسے عام طو ر پر گھوڑے کی زین کے نیچے بچھایا جاتا ہے۔ بیوی نے کہا وہ تحائف کہاں ہیں جو منصب دار اپنے گھر والوں کے لئے لاتے ہیں؟آپؓ نے فرمایا: میرے ساتھ ایک بیدار مغز چوکس نگہبان تھا جو میری ہر ایک حرکت کو نوٹ کرتا تھا۔ بیوی نے حیران ہو کر کہا : رسول اللہﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کے نزدیک تو آپؓ امین تھے‘ پھر حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے آپؓ پر ایک نگہبان کیوں مقرر کر دیا۔ یہ خبر حضرت عمرؓ کی بیویوں میں پھیل گئی‘اس لیے کہ ان سے حضرت معاذ بنؓ جبل کی بیوی نے دکھ بھرے انداز میں شکوہ کیا تھا۔ جب یہ بات حضرت عمرؓ تک پہنچی تو انہوں نے حضرت معاذؓ بن جبل کو بلایا اور پوچھا ۔ اے معاذؓ! کیا میں نے تمہاری نگرانی کے لیے کوئی نگہبان مقرر کیا تھا۔ عرض کیا نہیں یا امیر المومنین ۔دراصل مجھے اپنی بیوی کے سامنے پیش کرنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی عذر نہیں ملا تھا۔ حضرت عمرؓ یہ با ت سن کر ہنس پڑے اور اپنے پاس سے کچھ تحائف دیئے اور فرمایا ‘ جاؤ یہ تحائف دے کر بیوی کو راضی کر لو۔ 
فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں شام کے گورنر یزید بن ابی سفیان نے درخواست کی’’ امیر المومنین شام میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھ چکی ہے‘ اب ان کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو انہیں قرآن مجید کی تعلیم دیں اور دینی احکام سکھائیں ۔امیر المومنین آپ اس سلسلے میں میری مدد فرمائیں۔حضرت عمرؓ نے ان پانچ صحابہ کرامؓ کو بلایا جنہوں نے عہد نبوت میں قرآن مجید جمع کیا تھا‘ اور وہ تھے حضرت معاذؓ بن جبل‘ حضرت عبادہؓ بن صامت ‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ ،حضرت ابیؓ ؓ بن کعب اور حضرت ابو درداؓ ۔ آپؓ نے ان سے کہاکہ شام میں رہائش پذیر آپؓ کے مسلمان بھائیوں نے مجھ سے یہ مدد طلب کی ہے کہ ایسے افراد ان کے پاس بھیجے جائیں جو ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیں اور دینی احکامات سکھائیں‘اس سلسلے میں آپؓ مجھ سے تعاون کریں۔ اللہ آپؓ پر اپنی رحمت کی بارش برسائے۔ میں تم میں سے تین اشخاص کو اس مشن پر بھیجنا چاہتا ہوں اگر چاہو تو قرعہ ڈال لو یا میں تم میں سے تین احباب کو خود نامزد کر دیتا ہوں۔ 
انہو ں نے کہا: 
قرعہ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ 
حضرت ابو ایوبؓ بوڑھے ہو چکے ہیں۔
حضرت ابیّ بن کعبؓ بیمار ہیں۔ 
باقی ہم تین رہ گئے ہیں۔
امیر الموئمنین نے فرمایا‘حمص سے تعلیم کا آغاز کرنا ۔جب تم باشندگان حمص کی حالت سے مطمئن ہو جاؤ تو اپنے میں سے ایک کو یہیں چھوڑ دینا۔ تم میں سے ایک دمشق چلا جائے اور تیسرا فلسطین روانہ ہو جائے ۔ یہ تینوں صحابہؓ اتنی دیر حمص میں رہے‘ جتنی دیر رہنے کے لیے انہیں حضرت عمرؓ نے حکم دیا تھا۔ پھر وہاں حضرت عبادہؓ بن صامت کو چھوڑا ۔ حضرت ابو دردا ءؓ دمشق روانہ ہو گئے اور حضرت معاذؓ بن جبل فلسطین چلے گئے۔وہاں پہنچ کرحضرت معاذؓ بن جبل ایک وبائی مرض میں مبتلا ہو ئے ۔ جب موت کا وقت قریب آیا تو قبلہ رخ ہو کر بار بار یہ ترانہ الاپنے لگے۔ 
مرحبا بالموت مرحبا زائر جاء بعد غیاب وحبیب وفد علی شوق
(خوش آمدیدموت کو خوش آمدید‘ بڑی غیر حاضری کے بعد ملاقاتی آیا ہے اور محبوب شوق کی سواری پر آیا ہے۔) پھر آسمان کی طرف دیکھ کرکہنے لگے‘ الٰہی تو جانتا ہے کہ میں نے کبھی دنیا سے محبت نہیں کی اور نہ ہی یہاں درخت لگانے اور نہریں چلانے کے لیے زیادہ دیر رہنے کو پسند کیا۔ الٰہی ٰ ! میری طرف سے اس نیکی کو قبول فرما جو تو کسی مؤمن کی جانب ے قبول کرتا ہے اور پھر اپنے وطن اہل خانہ سے دور دعوت الی اللہ اور ہجرت فی سبیل اللہ کی حالت میں ان کی پاکیزہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اپنے اللہ سے راضی ہوں۔ یوں حضرت معاذؓ بن جبل نے آخردم تک اپنے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺسے وفا کا عہد نبھایا۔یہ وہ مبارک ہستی تھی جس نے رسولِ اللہ ﷺکی زبان مبارک سے اپنے حق میں توصیفی کلمات سنے۔ آپ ﷺکی وصیت پر عمل کیا اور حضور ﷺ کی ان کے حق میں یہ سند کافی ہے کہ میری امت میں معاذؓ بن جبل حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ نیز آپﷺ نے حضرت معاذؓ کو یہ دعا دی، اللھم اغفرلہ وارفع درجاتہ ۔ اور معاذؓ بن جبل سے روایت ہے کہ ان رسول اللّٰہ علیہ وسلم اخذ بیدی وقال ۔یا معاذ واللّٰہ انی لأ حِبّکَ و اَوصِیک یا معاذ لا تدعن فی دبر کل صلاۃ تقول اللھم اعنّی علیٰ ذکرک وشکرک وحسن عباد تک (سنن ابو داؤد، سنن نسائی)۔
نبی ﷺ کے ایسے محبوب جن کے حوالے سے مسلمان وصیتِ رسول ﷺکے مطابق ہر نماز کے بعد اللھم اعنّی علیٰ ذکرک وشکرک وحسن عبادتک ۔ یہ دعا پڑھتے ہیں ان کا درجہ کتنا بلند ہو گا‘کوئی اندازہ کر سکتا ہے؟ دعا ہے اللہ ان کو اپنے خاص مقربین کے ساتھ اپنے نزدیک بلند ترین مقام مرحمت فرمائے آمین!ایں دعا از من وازجملہ جہاں آمیں باد

Sunday, 24 August 2014

Hazrat Khabab Bin Al Arat (RA)


چو تھی کہانی

حضرت خباّب بن ارت 

یہ کہانی حضرت خبابؓ بن ارت کی ہے۔ لڑکپن میں غلام بن کر غلاموں کی منڈی میں بکنے کے لیے لائے گئے۔ اگر ایک طرف منڈی میں بکنے کے لیے جنس آتی ہے تو دوسری طرف خریداربھی آتے ہیں۔ ان خریداروں میں مکہ معظمہ کی ایک رئیسہ ام انمار خزاعیہ بھی تھی۔وہ ایک ایسا (غلام) لڑکا خریدنا چاہتی تھی جس سے وہ گھریلو خدمت بھی لے اور اسے کوئی کاروبار بھی سکھلا دے ‘جو اس کے لیے مالی طور پر مفید اور نفع بخش ثابت ہو ۔وہ ان غلاموں کو بغور دیکھنے لگی جنہیں بیچنے کے لیے منڈی میں لایا گیا تھا۔ اس کی نگاہِ انتخاب اسی لڑکے پرپڑی جو صحت مند تھا اور ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچا تھا‘ شرافت کے آثار البتہ اس کے چہرے سے نمایاں تھے۔ اسے یہ ہونہار بچہ پسند آگیا ۔ قیمت ادا کی اور اسے اپنے ساتھ لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔ راستے میں اُمّ انمار نے بچے سے پوچھا : 
ارے لڑکے !تیرا نام کیا ہے؟
بتایا: خباّب
اس نے پوچھا: تیرے باپ کا نام ؟ 
بتایا: اَرت
پوچھا:کہاں سے آئے ہو؟ 
بتایا: نجد سے 
اس نے کہا: پھر تو عربی ہو ؟ 
کہا: ہاں میں عربی اور قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتا ہوں۔ 
اُمِّ انمار نے پھرپوچھا:یہاں مکہ میں تم غلاموں کے سوداگروں کے ہاتھ کیسے چڑھ گئے؟ بتایا: ہمارے محلے میں ایک عرب قبیلے نے لوٹ مار کی ۔ ہمارے مویشی ہانک کر لے گئے ۔ عورتوں کو گرفتار کر لیا۔ بچوں کوبھی اپنے قبضے میں لے لیا‘ ان بچوں میں‘ میں بھی تھا۔ اس طرح ہاتھوں ہاتھ بکتا ہوا یہاں پہنچا اور اب میںآپ کے قبضے میں ہوں۔ 
اُمِّ انمار نے اس لڑکے کو مکہ کے ایک مشہور کاریگر کے حوالے کیاتاکہ وہ اسے تلوار بنانا سکھا دے ۔ اس لڑکے نے بہت جلد تلوار بنانے میں مہارت حاصل کر لی۔جب خباّب ایک اچھا کاریگر بن گیا تو ام انمار نے اسے اس کام میں لگا دیا تاکہ محنت سے کام کرے اور عمدہ تلواریں بیچ کر خوب فائدہ اٹھایا جائے۔حضرت خباّبؓ تھوڑے ہی عرصے میں اپنے فن میں اتنا ماہر ہو گئے کہ لوگ ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی تلواریں بڑے شوق سے خریدنے لگے ۔ چونکہ وہ خوش اخلاق‘ نرم خو‘ شیریں گفتار ہونے کے ساتھ مضبوط‘ نفیس اور اعلیٰ قسم کی تلوار بنانے کے ماہر تھے اس لیے ان کا کاروبار خوب چمکا۔حضرت خبابؓ نو عمری کے باوجود بڑے زیرک‘ معاملہ فہم اور ذہین تھے۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوتے تو اکثر جاہلیت سے معمور عرب معاشرے کی حالتِ زار پر غور و خوض کیا کرتے جو پاؤں کے تلووں سے لے کر سر کی چوٹی تک شرو فساد میں غرق ہو چکا تھا۔ عرب معاشرے کی جہالت‘ گمراہی‘ لاقانونیت اور ظلم و ستم دیکھ کر ان کا دل دہل جاتا اور وہ اس احساس سے کانپ اٹھتے کہ میں بھی تو اسی معاشرے کا ایک فرد ہوں۔وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اس شبِ تاریک کی بالآخر سحر بھی ہو گی اور ان کی یہ دلی تمناّ تھی کہ مجھے عمرِ دراز ملے تا کہ میں اپنی آنکھوں سے اندھیرے کا انجام اور صبحِ نور کا دلآ ویز طلوع دیکھ سکوں۔ حضرب خباّبؓ کو زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا کہ ایک روز انہیں دلربا خبر ملی کہ بنو ہاشم کے ایک جوان حضرت محمدﷺ نے نبوّت کا دعویٰ کر دیا ہے اور وہ اپنے دین مبارک کے نورانی کلمات کے ذریعے انسانی دلوں کو مسخر کر رہے ہیں ۔ خباّب یہ خبر سنتے ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے‘ آپ ﷺکے دلپذ یر نصیحت آموز نورانی کلمات آپﷺ کے دہن مبارک سے نکل رہے تھے اور خباب مسرور ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ کی باتوں نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ فورا اپنا ہاتھ بڑھایا، آپﷺکے ہاتھ پر بیعت کی اور زبان سے پکار اٹھے ۔ \"اشھد ان لاّ الہ الاّ اللّٰہ واشھد انَّ محمد اً عبدہ ورسولہ\"
(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسولﷺ ہیں)۔ یوں اس روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں حضرت خبابؓ بن ارت ان چند خوش قسمت اشخاص میں شامل ہوگئے جو اول اول اسلام لانے والے تھے۔حضرت خباّب نے اپنے اسلام لانے کو کسی سے چھپایا نہیں۔یہ خبر ان کی مالکہ امِ انمار کو جب ملی تو وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ اپنے بھائی سباع بن عبدالعزیٰ کو ہمراہ لیا اور یہ دونوں بنو خزاعہ کے نوجوانوں سے ملے ۔ انہیں صورت حال سے آگاہ کیا اور حضرت خباّبؓ کے مسلمان ہونے کی خبر دی اور ان کے خلاف نوجوانوں کو بھڑکا یا۔ پھر یہ سب مل کر حضرت خبابؓ کے پاس گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں منہمک ہے ۔ام انمار کا بھائی سباع آگے بڑھا اور کہا : اے خباّب ! ہمیں ایک ایسی خبر ملی ہے کہ ہمارے دل اسے صحیح نہیں مانتے۔ حضرت خباّب نے پوچھا: کونسی خبر ؟ 
سباع نے کہا یہ خبر مشہور ہو چکی ہے کہ تم بے دین ہو گئے ہو اور تم نے بنو ہاشم کے نوجوان کی پیروی اختیار کر لی ہے۔ حضرت خبابؓ نے یہ بات سن کر بڑے ہی نرم لہجے میں جواب دیا ۔ میں بے دین نہیں ہوا میں تو اللہ وحد ہ لا شریک پر ایمان لایا ہوں اور میں نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسولﷺ ہیں۔اب میں بتوں کو نہیں مانتا۔ اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے ان کی کیا حیثیت ہے ۔ وہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ۔ محض بت ہیں پتھر کے بیکار سے مجسمے۔ حضرت خبابؓ کے منہ سے یہ کلمات نکلے ہی تھے کہ سب آپ پر ٹوٹ پڑے‘ گھونسوں‘ جوتوں‘ لوہے کی سلاخوں اور ڈنڈوں سے آپؓ کو اتنا مارا کہ آپ بے ہوش ہو کر گرپڑے اور آپؓ کے جسم کے مختلف حصوں سے خون بہہ نکلا۔
حضرت خبابؓ اور امِ انمار کے مابین پیش آنے والے اس واقعے کی خبر مکہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ حضرت خبابؓ کی جرأت سے ورطہ ء حیرت میں پڑ گئے کیونکہ انہوں نے اس سے پہلے یہ سنا ہی نہ تھا کہ کسی نے حضرت محمدﷺ کا اتباع اختیار کیا ہو اور پھر لوگوں کے سامنے دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے پوری وضاحت سے اپنے اسلام لانے کا اعلان بھی کیا ہو۔ قریش کے بوڑھے حضرت خبابؓ کے اس جرأ ت مندانہ اقدام پر انگشت بد نداں ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے دل میں سوچا کیا ایک لوہار سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اعلانیہ ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہے اور ہمارے آباؤ اجداد کے دین کو ہدفِ تنقید بنائے۔ انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ آج حضرت خباّبؓ نے جس دلیری و شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے‘ آگے چل کر اس میں مزید اضافہ ہو گا۔ قریش کایہ اندیشہ درست ثابت ہوا۔ حضرت خبابؓ کی جرأت مؤمنانہ نے بیشتر صحابہؓ کو اس بات پر برانگیختہ کیا کہ وہ بھی اسی طرح اپنے اسلام لانے کا برملا اعلان کریں‘ لہٰذا وہ یکے بعد دیگرے کلمہ حق کا ببانگِ دہل اعلان کرنے لگے۔ 
ایک روز قریش سردار کعبہ کے نزدیک اکٹھے ہوئے‘ ان میں ابو سفیان بن حرب‘ ولید بن مغیرہ اور ابو جہل بن ہشام کے علاوہ اور بھی سرکردہ سردار موجود تھے۔ وہ اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنے لگے کہ حضرت محمد ﷺ کی دعوت دن بدن اور لحظہ بہ لحظہ پھیلتی جا رہی ہے ۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑنے کی اس لہر کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیاجائے اور انہوں نے یہ طے کیا کہ ہر قبیلہ اپنے ایمان لانے والے فرد کوایسی عبرتناک سزا دے کہ یا تو وہ اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ آئے یااسے مار ہی ڈالاجائے۔ ایک ایک مؤمن کا دماغ درست کرنے کے لیے ایک ایک سردار کو ذمہ داری دے دی گئی۔ اس فیصلے کی رو سے سباع بن عبدالعزّیٰ اور اس کے قبیلے کے حصے میں حضرت خباّبؓ ؓ آئے۔ جب دوپہر کے وقت گرمی نقطہء عروج پر ہوتی تو وہ حضرت خبابؓ کو مکہ کے قریب چیٹل پتھریلے میدان میں لے جاتے ،ان کے کپڑے اتار دیتے اور لوہے کی زِرہ پہنا دیتے۔ پینے کا پانی بند کر دیتے۔ جب پیاس اور تکلیف سے وہ نڈھال ہو جاتے تو قریب آتے اور پوچھتے کہ اب حضرت محمدﷺ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟آپؓ فرماتے۔ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسولﷺ ہیں‘ ہمارے پاس ہدایت و صداقت کا دین لے کر آئے ہیں تاکہ ہمیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال لائیں۔ یہ سن کر وہ بپھر جاتے اور بے تحاشہ پٹائی شروع کر دیتے ۔مار مار کر جب تھک جاتے تو وہ پوچھتے لات اور عزّیٰ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔آپ فرماتے ’’یہ دونوں گونگے بہرے بت ہیں نہ کسی کو نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ یہ سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتے ۔ گرم پتھراٹھا کر لاتے اور آپؓ کی پیٹھ کے ساتھ لگائے رکھتے۔ پتھروں میں اس قدر تمازت ہوتی کہ ان کی گرمی سے حضرت خبابؓ کے وجود سے چربی اور خون بہنے لگتے۔ انہی ایام کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت خباّبؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا‘ آپﷺ اس وقت کعبہ کے سائے میں چادر اوڑھے ہوئے آرام فرما رہے تھے‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب مشرکین کی طرف سے ہمیں شدید تکلیف پہنچ رہی تھی‘ میں نے عرض کیا:’’کیا آپﷺ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعانہیں فرمائیں گے ؟ ‘‘ آپﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے‘ چہرہ اقدس کا رنگ سرخ ہو رہا تھا‘ آپﷺ نے فرمایا:’’ تم سے پہلے لوگوں کے گوشت اور پٹھوں کو لوہے کی کنگھیو ں کے ساتھ ہڈیوں سے الگ کر دیاجاتا تھا‘ اس طرح کی شدید ایذا بھی انہیں دین سے نہیں ہٹاتی تھی‘ کسی کے سر پر آرے کو رکھ کر اسے دو لخت کر دیا جاتااور اس طرح کے آلام مصائب بھی اسے دین سے دور نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ تعالی اس دین کو ضرور مکمل فرمائے گا حتی ٰ کہ ایک سوار صنعا ء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہو گا‘ البتہ بکریوں کے بارے میں بھیڑیے کا ڈر ہو سکتا ہے۔ لیکن تم جلدی کر رہے ہو (صحیح البخاری حدیث:۔6943,3852,3612)
حضور ﷺ اپنے دوسرے جاں نثار صحابہ کرامؓ کو بھی تسلی دیتے کہ دینِ حق کی خاطر ان آلام و مصائب سے گھبرانا نہیں‘ دل برداشتہ نہ ہونا‘ دیکھنا تمہارے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئے‘ اہلِ حق کوہمیشہ ابتلاء و آزمائش کی ان کٹھن منزلوں سے گزرنا ہی پڑتا ہے‘، اہل حق کی تاریخ ہی یہ ہے۔ ؂
کس روز تہمتیں نہ تراشا کئے عدو کس دن ہمارے سر پہ نہ آ رے چلا کیے
اُمّ انمار سخت گیری اورسنگ دلی میں اپنے بھائی سے رتی برابر کم نہ تھی۔ اس نے ایک روز حضرت محمد ﷺ کو اپنی دکان پر کھڑے حضرت خبابؓ سے باتیں کرتے دیکھ لیا تو غصے سے بپھر گئی ۔ اس کے بعد اس نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ ہر دوسرے تیسرے روز آتی ۔ لوہے کی بھٹی سے گرم سلاخ نکالتی اور اس سے حضرت خبابؓ کے سر کو داغ دیتی‘جس سے آپؓ بے ہو ش ہو جاتے اور آپؓ کی زبان سے اُمِّ انمار اور اس کے بھائی کے بارے میں بددعا نکلتی۔ جب رسول کرمﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی تو حضرت خباّبؓ بھی ہجرت کے لیے تیار ہو گئے لیکن انہیں تو اس مدت تک مکہ نہیں چھوڑنا تھا جب تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ اُمّ انمار کے خلاف کی گئی دعا کو قبول نہ فرما لیں۔ اس دوران وہ اپنے کاروباری معاملات کو نمٹانے لگے۔ عاص بن وائل جو اچھی حیثیت والا مالدار اور اولاد والا کٹر مشرک تھا اس کے ذمے مزدوری کی کچھ رقم بقایا تھی ۔ حضرت خبّابؓ اس کے پاس تقاضا کیلئے گئے ۔ وہ کہنے لگا تو اسلام سے منکر ہو جا پھر میں تیری مزدوری ادا کردوں گا۔ خباّبؓ نے کہا کہ تو مر جائے اور پھر جئے تو بھی میں اسلام سے منکر نہیں ہوں گا۔ جواب میں اس نے کہا کہ اگر میں مرکر پھر جیوں گا تو ایسا مال و اولاد اس وقت بھی مجھے ضرور ملے گا ۔ تجھ کو میں مزدوری وہاں دے دوں گا ۔ اس پر سورہ مریم کی آیات۷۷تا۸۰نازل ہوئیں۔ \" اَفَرَیتَ الّذِی کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوتَیَنَّ مَالاَََ ووَلَداََ۔ اِلٰی آخِرَھٰا(ترجمہ:۔ بھلا تو نے اس کو دیکھا جو ہماری آیتوں کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے وہاں بھی مال و اولاد مل کر رہے گا۔ اللہ پوجھتا ہے کہ کیا وہ غیب کو جھانک آیا ہے یا اس نے رحمان سے عہد لے رکھا ہے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو گا اور ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور ہم اس کا عذاب لمبا بڑھاتے جائیں گے اور اس کے مرنے پر جو کچھ وہ بتلا رہا ہے ہم وارث ہو کر لے لیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا ہی آئے گا۔ (بعد میں اس کے دونوں بیٹے بھی کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام کی آغوش رحمت میں آ گئے)۔چند روز کے بعد اُمّ انمار کے سر میں ایسا درد اٹھا کہ اس جیسا درد پہلے سننے میں نہ آیا۔ وہ شدت درد سے اس طرح کراہتی اور آواز نکالتی جس طرح کوئی کتا بھونکتا ہے۔ اس کے بیٹے کا مل حکیم کی تلاش میں ہر جگہ پہنچے‘ حکماء نے اس کا یہ علاج تجویز کیاکہ اس کے سر کو لوہے کی گرم سلاخ سے داغا جائے‘ اس کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس طرح اس کے سر کو لوہے کی گرم سلاخ سے داغا جانے لگا ۔ جب گرم سلاخ سر کو لگتی تو اس کی تکلیف دہ تمازت سر کے درد کو کچھ دیر کے لیے بھلا دیتی۔ یہ اس کے کئے کا پہلا پھل تھا۔ بالآخر حضرت خبابؓ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے‘ جہاں انصار مدینہ کی ضیافت میں ایسی راحت و آرام کی زندگی آپؓ بسر کرنے لگے جس سے وہ ایک طویل مدت سے محروم تھے۔ نبی اقدس ﷺ کا قرب ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کاباعث بنا۔ حضرت خبابؓ ، نبی اکرمﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور آپ ﷺ کے جھنڈے تلے لڑائی کے جوہر دکھائے۔ اسی طرح غزوہ احد میں شریک ہوئے‘ میدان احد میں جب انہوں نے اُمّ انمار کے بھائی سباع بن عبدالعزیٰ کی لاش دیکھی تو بہت خوش ہوئے‘ سباع کو شیرِ خدا حضرت حمزہؓ نے موت کے گھات اتارا تھا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضرت خبابؓ کو طویل عمر عطا کی‘ یہاں تک کہ انہوں نے خلفائے اربعہ کا دور دیکھا اور ہر دور میں انہیں ایک جلیل القدر صحابیؓ کی حیثیت حاصل رہی۔ایک روز حضرت عمرؓ بن خطاب کے پاس تشریف لائے۔ وہ اس وقت مسند خلافت پر جلوہ افروز تھے تو فاروق اعظمؓ نے حضرت خبابؓ کو اپنی مسند پر بٹھایا اور فرمایا:تمام صحابہ میں آپؓ یاحضرت بلالؓ اس کے حقدار ہیں کہ اس مسند پر بیٹھ جائیں۔ پھر آپؓ نے مشرکین کے ہاتھوں پہنچنے والی تکالیف کی روئداد سنانے کا مطالبہ کیا تو آپؓ جواب دینے میں ہچکچائے۔ جب حضرت عمرؓ نے اصرا ر کیا تو آپؓ نے پیٹھ سے چادر سرکادی ، تو حضرت عمرؓ جسم پر زخموں کے نشانات دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور پوچھا‘ جسم میںیہ گہرے زخم کیسے آئے؟ حضرت خبابؓ فرمانے لگے: مشرکین لوہے کی چادر گرم کرتے جب وہ انگارہ بن جاتی تو میرے کپڑے اتار کر مجھے پیٹھ کے بل اس پر گھیسٹتے‘ جس سے میرے بدن کا گوشت پیٹھ کی ہڈیوں سے الگ ہو جاتا۔ آگ کو وہ خون اور پانی بجھاتا جو میرے بدن سے نکلتا۔ یہ حُبّ دین تھی اور یہ مثال عشق رسولﷺ کی تھی ۔
ع۔ بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را
حضرت خبابؓ اپنی زندگی کے آخری دور میں بہت مالدار ہو گئے اور اتنے سونے چاندی کے مالک بن گئے کہ جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا لیکن انہوں نے اپنامال راہِ خدا میں خرچ کرنے کا ایسا انوکھا طریقہ اختیار کیا جو پہلے کسی نے بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ یہ درہم و دینار گھر میں ایک ایسی جگہ پر رکھ دیتے جس کاضرورت مندوں‘ فقراء و مساکین کو بھی پتہ تھا۔نہ تو اس پر کسی کو نگران مقرر کیا اور نہ تالا لگایا۔ ضرورت مند ان کے گھر آتے اور پوچھے اور اجازت طلب کئے بغیر اپنی ضرورت کے مطابق وہاں سے مال لے جاتے۔ اس کے باوجود انہیں یہ اندیشہ تھا کہ اس مال کے متعلق قیامت کے روز میرا حساب لیاجائے گا اور ڈرتے رہتے کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے اس مال کی موجودگی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کر دیاجائے ۔ آپؓ کے ہم نشین صحابہؓ نے یہ بتایا :حضرت خبابؓ کے پاس ہم اس وقت گئے جب آپؓ مرض الموت میں مبتلا تھے‘ہمیں دیکھ کر آپؓ نے ارشاد فرمایا: اس گھر میں میرے پاس اسیّ ہزار درہم ہیں‘ اللہ کی قسم میں نے کبھی ان کو کہیں چھپایا نہیں اور نہ ہی کسی سائل کو میں نے محروم واپس لوٹایا ۔ یہ بات کہی اور زارو قطار رونا شروع کر دیا۔ ہم نے پوچھا: آپؓ روتے کیوں ہیں؟ فرمایا:میں اس لیے روتا ہوں کہ میرے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اس حالت میں کوچ کر گئے کہ ا نہیں دنیاوی مال و متاع سے کچھ بھی نہ ملا مجھے یہ مال مل گیاہے اب مجھے اندیشہ ہے کہ اس مال کو کہیں میرے اعمال صالحہ کا بدلہ قرار دے کرمجھے اخروی اجر سے محروم نہ کر دیاجائے ۔جب حضرت خبابؓ اللہ کو پیارے ہو گئے تو امیر المومنین حضرت علیؓ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ’’ اللہ حضرت خبابؓ پر رحم فرمائے۔ اس نے دلی رغبت سے اسلام قبول کیا‘ خوش دلی سے ہجرت کی اور مجاہد کے روپ میں زندگی بسر کی۔ اللہ سبحانہ تعالی نیکی کرنے والے کا اجر ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ کسی خاص مہم کے سلسلے میں امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبویﷺ میں مجلس مشاورت منعقد کی۔ کچھ اصحاب ابو سفیان اور سہیل بن عمر دیر سے پہنچے۔ ان کو اندر جانے کی اجازت نہ ملی۔ خبابؓ بن ارت بھی اس دن اتفاق سے دیرسے پہنچے مگر جب دربان نے ان کے بارے میں امیر المومنین کو خبر دی تو آپؓ نے فوراً اندر بلا لیا اور جہاں خود بیٹھے تھے حضرت خبابؓ کو وہاں بٹھا کر آپؓ ذرا آگے ہٹ کر بیٹھ گئے ۔ جب اس بات کا علم ابو سفیان کو ہوا تو پکار اٹھا کہ آج سے بڑھ کر میں نے کبھی ایسی ذّلت محسوس نہیں کی ۔ اس پر حضرت سہیلؓ بن عمر نے کہا یہ ہمارے تکبر کا بدلہ ہے۔ اگر ہم بھی آگے بڑھ کر اپنے اس صادق اور امین ہاشمی رسول ﷺ کا دامن پکڑ لیتے تو ہم بھی آج حضرت خبابؓ کی طرح معزّز ہوتے۔بے شک السابقون السابقون دونوں جہانوں میں زیادہ عزت و اکرام کے حقدار ہوتے ہیں اور حضرت خبابّ ؓ اسی علو مرتبت کے اہل تھے اور خلیفہ راشد حضرت عمرؓ بن خطاب نے انہیں جو اتنی عزت دی وہ حق بحق دار رسید کی عمدہ مثال ہے۔ دعا ہے اللہ پاک آخرت میں بھی ان کا بہت اکرام فرمائیں اور مقربین کے زمرے میں انہیں جگہ دیں۔ آمین!

Saturday, 23 August 2014

Ummul Momineen Hazrat Umm Salamah


تیسری کہانی 

اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہؓ


یہ کہانی اُمّ المومنین اُمِّ سلمہؓ کی ہے۔اُمِّ سلمہ اُم المؤمنین کے درجہ بلندپر کیسے پہنچیں؟‘ اس کاحال آگے بیان کیاجائے گا۔ پہلے آپ کے تعارف کے حوالے سے بتایاجاتا ہے کہ آپ کے والد ابو امیہّ قبیلہ مخزوم کے ایک قابلِ رشک سردار تھے اور وہ دنیائے عرب کے ایک معروف سخی تھے۔ لوگ انہیں مسافروں کا زادِ راہ سمجھا کرتے تھے‘ کیونکہ قافلے جب ان کے گھر کی طرف روانہ ہوتے یا ان کی رفاقت میں سفر کرتے تو قافلے والے اپنے ساتھ زادِ راہ لے کر نہ جاتے کیونکہ سارے قافلے کے اخراجات یہ خود برداشت کر لیا کرتے تھے۔ حضرت اُم سلمہؓ کے خاوند عبداللہؓ بن عبدالاسد کا شمار ان دس صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے جو سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔ ان سے پہلے صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ مسلمان ہوئے تھے۔
حضرت امِ سلمہؓ کا اپنا نام ہند تھا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئی تھیں اور ان کا شمار ان صحابیات میں ہوتا ہے جنہیں ا سلام قبول کرنے میں سبقت حاصل ہے۔ حضرت اُمِ سلمہؓ اور ان کے شوہر کے اسلام قبول کرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح چہار سو پھیل گئی توقریش غصے میں آ کر ان دونوں کو ایسی دردناک سزائیں دینے لگے جن سے مضبوط چٹانیں بھی لرز جائیں لیکن ان کے پائے استقلال میں کوئی لغزش پیدا ہوئی نہ ان کی طبیعت میں کوئی اضمحلال پیدا ہوا اور نہ ہی وہ کسی تردّد کا شکار ہوئے ۔جب صحابہ ء کرامؓ مصائب کی چکی میں بری طرح پسنے لگے تو رسول اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرجانے کی اجازت دے دی۔ ان مہاجرین میں یہ دونوں میاں بیوی بھی تھے۔حضرت اُمِ سلمہؓ اور آپؓ کاخاوند اپنا معزز گھرانہ اور عالیشان گھر چھوڑ کر اللہ سبحانہ و تعالی ٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک ان دیکھی منزل کی طر ف روانہ ہوگئے۔ باوجود یکہ حضرت اُمِ سلمہؓ اور آپ کے شوہر کو حبشہ کے حکمران نجاشی کی مکمل حمایت حاصل تھی‘ پھر بھی انہیں انتظار رہتا کہ وہ مبارک گھڑی آئے جب وہ مرکزِ نزول وحی (مکہ معظمہ )کوبچشم خود پھردیکھ سکیں اور منبعِ ہدایت حضرت محمد ﷺ کی زیارت کریں۔ یہ تمناّ ان کے دل میں سمائی ہوئی تھی۔ سر زمین حبشہ میں مقیم مہاجرین کے پاس اس قسم کی خبریں مسلسل آنے لگیں کہ مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حضرت حمزہؓ بن عبدالمطّلب اور حضرت عمرؓ بن خطاب کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کی قوت میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔یہ سن کر کہ قریش کی جانب سے ایذا رسانی ختم ہو چکی ہے‘ مہاجرین نے اطمینان کی سانس لی اور ان میں چند ایک نے مکہ معظمہ واپس جانے کا عز م کر لیا اور کشاں کشاں مکہ معظمہ روانہ ہو گئے۔ ان واپس آنے والوں میں اُمِ سلمہؓ اور آپ کے شوہر بھی تھے۔لیکن ان واپس آنے والے مسلمانوں کو جلد ہی اس بات کا احساس ہوگیا کہ انہوں نے واپس آنے میں جلد بازی سے کام لیاہے۔ جو خبریں ان کے پاس پہنچ رہی تھیں ‘ ان میں بہت زیادہ مبالغہ تھا۔ صحیح صورتِ حال یہ تھی کہ جب حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو قریش اور زیادہ بھڑک اٹھے اور انہوں نے مسلمانوں پر مزید ظلم ڈھانا شروع کر دیا۔ جس سے مسلمانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ مشرکین نے مکہّ مکرّمہ میں آباد مسلمانوں کو ایسی دردناک سزائیں دیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ اس اندوہناک صورتِ حال کو دیکھ کر رسول اکرم ﷺ نے اپنے جاں نثار صحابہ کرامؓ کو مدینہ منورہ ہجرت کر جانے کا حکم دیا تو مہاجرین کے پہلے قافلے میں حضرت اُم سلمہّؓ اور آپ کے شوہر نے شمولیت کا ارادہ کیا، لیکن اس دفعہ حضرت ام سلمہؓ اور آپ کے شوہر کا مکہ سے ہجرت کرنا اتنا آسان نہ تھا ۔ اس دفعہ انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم یہاں مشکلات کی یہ کہانی حضرت امِ سلمہؓ کی زبانی آپ کو سناتے ہیں اس لیے کہ جس طرح اپنی آپ بیتی وہ خود عمدہ پیرائے میں بیان کر سکتی ہیں کوئی دوسرا اتنے اچھے اسلوب میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔حضرت امِ سلمہؓ فرماتی ہیں جب حضرت ابو سلمہؓ نے مدینہ ہجرت کر جانے کا عزم کر لیا تو انہوں نے مجھے ایک اونٹ پر سوار کیا۔ میرا ننھا بیٹا سلمہ میری گود میں تھا۔ انہوں نے اونٹ کی نکیل پکڑ کر سیدھا چلنا شروع کر دیا۔ ابھی ہم مکہ معظمہ کی حدود سے نکلنے نہ پائے تھے کہ میری قوم بنو مخزوم کے چند افراد نے ہمیں دیکھ لیا اور انہوں نے ہمارا راستہ روک لیا۔ انہوں نے ابو سلمہؓ سے کہا : اگر تم نے اپنی مرضی کو ہم پر ترجیح دینے کی ٹھان لی ہے تو اس عورت کو اپنے ہمرا ہ کیوں لے جا رہے ہویہ ہماری بیٹی ہے۔ ہم اسے تمہارے ساتھ کسی دوسرے ملک جانے کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر مجھے ان کے ہاتھ سے چھین لیا۔ جب میرے سرتاج شوہر کی قوم بنو اسد نے یہ منظر دیکھا کہ مجھے اور میرے بیٹے کو بنو مخروم چھین کر لے جا رہے ہیں تو وہ غضبناک ہو گئے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم تمہارے قبیلہ کی اس عورت کے پاس یہ بچہ نہیں رہنے دیں گے ۔ تم اسے ہمارے قبیلہ کے مرد سے زبردستی چھین کر لے جا رہے ہو‘ یہ ہمارا بیٹا ہے اس پر ہمارا ہی حق ہے‘ پھر وہ میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر اپنے ساتھ لے گئے ۔ یہ صورتِ حال میرے لیے ناقابلِ برداشت تھی‘ ہمارا شیرازہ بکھر گیا۔ شوہر مدینہ روانہ ہو گیا ۔ بیٹے کو بنوعبدالاسد اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے میری قوم بنو مخزوم نے زبردستی اپنے پاس رکھ لیا ۔ ہمارے درمیان پل بھر میں جدائی ڈال دی گئی۔میں ان روح فرساصدمات کو برداشت کرنے کے لیے تنہا رہ گئی۔ میں غم دور کرنے کے لیے ہر صبح اس مقام پر جاتی جہاں جدائی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ میں وہاں بیٹھ کر دن بھر روتی رہتی اور شام کے وقت گھر واپس آ جاتی۔تقریباً ایک سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ میں ایک دن وہاں بیٹھی رو رہی تھی کہ میرا ایک چچا زاد بھائی میرے پاس سے گزرا ۔ میرا یہ حال دیکھ کر اسے مجھ پر رحم آ گیا اور اس نے اسی وقت جا کر میری قوم کے بڑوں سے کہا کہ تم اس مسکین عورت کو کیوں تڑپا رہے ہو؟ کیا تم اس کی حالت نہیں دیکھ رہے کہ یہ اپنے شوہر اور بیٹے کے غم میں کس قدر بے چین ہے۔ آخر اسے ستانے سے تمہیں کیا ملے گا۔ انہوں نے مجھ سے کہا ہماری طرف سے اجازت ہے اگر تم چاہو تو اپنے خاوند کے پاس جا سکتی ہو۔ میں نے کہا ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تو مدینہ چلی جاؤں اور میرا لختِ جگر بنو اسد کے پاس ہی رہے؟ تم ہی بتاؤ کہ میرے غم کی آگ کیسے بجھے گی ؟ میرے آنسو کیسے خشک ہوں گے؟ میں ایسا ہر گز نہیں کر سکتی کہ اپنے شوہر کے پاس مدینہ چلی جاؤں اور اپنے ننھے بیٹے کو مکہّ ہی رہنے دوں اور اس کے متعلق مجھے کبھی معلوم ہی نہ ہو۔مجھے اس غم میں مبتلا دیکھ کر کچھ لوگوں کے دل میں نرمی پیدا ہو گئی اور انہوں نے بنو اسد سے اس سلسلے میں بات کی تو وہ بھی راضی ہو گئے اور انہوں نے میرا بیٹا مجھے واپس دے دیا۔
میں نے سوچا کہ اب مجھے فوراً یہاں سے نکل جانا چاہیے کہ کہیں کوئی اور رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے۔ میں نے جلدی سے تیاری کی‘ بیٹا گود میں لیا‘ اونٹ پر سوار ہوئی اور سوئے مدینہ اکیلی چل پڑی۔مخلوقِ خدا میں سے بیٹے کے علاوہ کوئی بھی میرے ساتھ نہ تھا ۔ جب میں مقام تنعیم پر پہنچی تو وہاں عثمان بن طلحہ ملے۔ انہوں نے کہا:’’ اے زادِ مسافر کی بیٹی !کہاں جا رہی ہو‘‘؟ میں نے کہا مدینہ اپنے خاوند کے پاس جا رہی ہوں۔ انہوں نے کہا ’’کیا اس سفر میں تمہارے ساتھ کوئی نہیں‘‘؟ میں نے کہا’’ بخدا میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں‘‘۔ اس نے کہا اللہ کی قسم، اب میں تمہیں مدینہ پہنچا کر واپس آؤں گا۔ پھر اس نے اونٹ کی نکیل پکڑی اورہم آگے چل دیئے۔ اللہ کی قسم ! میں نے عرب میں اس سے زیادہ نیک دل اور شریف انسان نہیں دیکھا۔ جب ہم ایک منزل طے کر لیتے تو وہ میرے اونٹ کو بیٹھا دیتا اور خود دور ہٹ جاتا۔ جب میں نیچے اتر جاتی تو وہ اونٹ پر سے ہووج اتار دیتا اور اسے کسی درخت کے ساتھ باندھ دیتا اور خود کسی دوسرے درخت کے سائے میں جا کر لیٹ جاتا۔۔ جب روانگی کا وقت ہوتا تووہ میرے اونٹ کو تیار کر کے میرے پاس لے آتا۔ جب میں اونٹ پر سوار ہو جاتی تو وہ اس کی نکیل پکڑ کر چل دیتا۔وہ ہر روز اسی طرح میرے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتایہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ جب بنو عمروبن عوف کی بستی نظر آئی تو اس نے مجھے کہا آپ کا خاوند اس بستی میں رہائش پذیر ہے‘ اللہ تعالی کی برکت سے اس میں چلی جاؤ۔ یہ کہا اور ہمیں وہاں چھوڑ کر خودمکہ معظمہ لوٹ گیا۔
یہ منتشر گھرانہ بڑی طویل جدائی کے بعد پھر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اکٹھا ہو گیا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر حضرت ام سلمہؓ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں۔ حضرت ابو سلمہؓ نے اپنی بیوی اور بیٹے کو صحیح سلامت دیکھ کر سکھ کا سانس لیا اور انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا۔ 
پھر بے شمار واقعات پلک جھپکنے میں گزرنے لگے۔ غزوہ بدر میں حضرت ابو سلمہؓ شریک ہوئے اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ بڑی واضح کامیابی حاصل کر کے لوٹے۔ غزوہ بدر کے بعد غزوہ احد میں شرکت کی اور اس میں پیش آنے والے مشکل حالات و مصائب کا سامنا کیا۔ اس آزمائش میں بھی توفیق الٰہی سے پورے اترے لیکن اس معرکہ میں انہیں ایک گہرا زخم لگا۔ علاج کرنے سے بظاہر تو وہ مندمل ہو گیا لیکن اندر سے زخم کچا رہ گیا تھا۔ تھوڑے عرصہ بعد وہ زخم دوبارہ تازہ ہو گیا اور حضرت ابو سلمہؓ شدید تکلیف میں مبتلا ہو کر صاحب فراش ہو گئے۔ حضرت ابو سلمہؓ نے علاج کے دوران اپنی بیوی سے کہا اُم سلمہؓ میں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص مصیبت کے وقت صبر کرے اور ساتھ ساتھ یہ کلمات بھی کہے الٰہی میں اپنی اس مصیبت میں تیری ذات اقدس سے اجر وثواب کی تمنا رکھتا ہوں۔ الٰہی مجھے نعم البدل عطا کر۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ دعا کو قبول کرتے ہوئے اسے نعم البدل عطاکر دیتے ہیں۔ حضرت ابو سلمہؓ کافی عرصہ تک اسی بیماری میں مبتلا رہے ۔ ایک دن رسولﷺ صبح کے وقت آپؓ کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے آپ تیمار داری کر کے ابھی واپس گھر کے دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ حضرت ابو سلمہؓ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ رسول اکرم ﷺ نے واپس آ کراپنے مبارک ہاتھ سے آپ کی آنکھیں بند کیں اور آپ ﷺنے دعا کی۔’’ الٰہی ابو سلمہ ؓ کو بخش دے اور اسے اپنے مقرب بندوں میں اعلیٰ مقام عطا کر اور اس کے لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے اور انہیں اس کا نعم البدل عطا کر۔ اے پروردِگار عالم اسے اور ہمیں بخش دے اور اس کی قبر کو فراخ اور منور فرما\" ۔ کئی دفعہ پر حضرت اُمِ سلمہؓ کو وہ بات یاد آئی جو حضرت ابو سلمہؓ نے رسول اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کی تھی ایک دفعہ تو انہوں نے اپنے رب سے التجا کی۔ ’’الٰہی میں اپنی اس مصیبت میں تیری ذات اقدس سے اجر و ثواب کی نیت کرتی ہوں لیکن ان کا دل یہ بات کہنے کے لیے آمادہ نہیں ہو رہاتھا کہ الٰہی مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما۔ وہ دل میں یہ سوچ رہی تھیں کہ ان کا نعم البدل کو ن ہو سکتا ہے ۔ بہر حال انہوں نے دعائیہ کلمات مکمل کر لئے۔ حضرت اُمِ سلمہؓ کو پیش آنے والے اس حادثہ فاجعہ پر مسلمانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ہمدردی کے طور پر آپ کو بیوہ عرب کے نام سے یاد کرنے لگے۔ حضرت ابو سلمہؓ کی وفات کے بعد چھوٹی عمر کی کثیر اولاد کے علاوہ اعزہ و اقارب میں سے کوئی بھی بڑی عمر کا فرد موجود نہ تھا۔ 
اس صورتِ حال کے پیش نظر مہاجرین و انصار نے سوچا کہ حضرت ام سلمہؓ کی نصرت ہمارا دینی فرض ہے ‘ اس لیے ایامِ عدّت گزر جانے کے بعد سب سے پہلے حضرت صدیقِّ اکبرؓ نے نکاح کا پیغام بھیجا تاکہ انہیں مکمل تحفظ مل سکے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر حضرت عمرؓ بن خطاب نے پیشکش کی، وہ بھی آپ نے قبول نہ کی۔ پھر چند دن گزرجانے کے بعد رسول اللہﷺ نے پیش کش کی تاکہ ناتواں اولاد کو مکمل تحفظ مل سکے۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میری تین معروضات ہیں ۔ایک تو میں انتہائی غصیل عورت ہوں‘ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو میری کوئی بات ناگوار گزرے اور آپ مجھ سے ناراض ہو جائیں اور میں اللہ تعالی کی طرف سے کسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤں۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں ایک عمر رسیدہ عورت ہوں اور تیسری بات یہ ہے کہ میں عیالدار ہوں اور چھوٹے چھوٹے میرے بچے ہیں۔ یہ سن کر رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ جہاں تک تیرے غصیل ہونے کا تعلق ہے میں اللہ تعالی سے دعا کروں گا اِن شاء اللہ تیری یہ عادت کا فور ہو جائے گی۔ جہاں تک عمر رسیدہ ہونے کی بات ہے ‘میں بھی اب تیری طرح عمر رسیدہ ہی ہوں اور یہ جو عیالداری کا تذکرہ کیا ہے تو تمہارے بچے میرے بچے ہیں۔‘‘یہ سن کر امِ سلمہؓ نے سر جھکا دیا اور آپ ﷺ ان سے نکاح کر کے ان کے لیے ہر پریشانی سے نجات کا وسیلہ بن گئے۔ اس طرح اللہ رب العزت نے حضرت اُم سلمہؓ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور انہیں حضرت ابو سلمہؓ کا نعم البدل عطا کر دیا۔ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد بنو مخزوم قبیلہ کی یہ خاتون صرف ام سلمہؓ ہی نہ کہلائیں بلکہ انہیں اُمِ المومنین بننے کا عظیم شرف بھی حاصل ہو گیا۔ 
نکاح کے بعد آپ ﷺاپنی دلہن اُمِ سلمہ کو منتقل کر کے زینب بنت خزیمہ ام المساکین کے گھر میں ان کی وفات کے بعد لے گئے۔ ام سلمہؓ نے اس گھر میں ایک گھڑا دیکھا ۔اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں کچھ جوَتھے اور گھر میں ایک چکی ، دیگچی اور ہانڈی بھی تھی۔ ہانڈی میں کچھ چربی جمی ہوئی تھی۔ آپ نے گھڑے میں سے جَو لے کر پیس لئے اور دیگچی میں دلیا پکایا اور چربی سے اسے مرغن کر لیا۔ شادی والی شب رسول اللہﷺ کے لیے اور آپﷺ کی دلہن کے لیے یہی کھانا تھا۔ رسول اللہﷺ نے شبِ عروسی کی اس صبح کو دلہن سے کہا۔تم اپنے شوہر کی نگاہ میں بہت معزز ہو۔ اگر چاہو تو میں تمہارے پاس پورا ایک ہفتہ ٹھہر جاؤں مگر پھر مجھے ہر ایک بیوی کے پاس ایک ایک ہفتہ ٹھہرنا ہو گا آپ بولیں کہ تین دن ہی ٹھیک ہیں ۔ سات دن تو کنواری دلہن کے لیے مناسب ہوں گے۔ 
امھات المومنین کے پاکیزہ سلسلہ میں شامل ہو جانے پر امِ سلمہؓ کو بے حد خوشی ہوئی مگر ماضی پر نگاہ ڈالتیں تو یقین نہیں آتاتھا کہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ پھر انہیں یاد آیا کہ میں نے خود ہی ایک بار ابو سلمہؓ سے کہا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ کسی عورت کا شوہر اس کی زندگی میں فوت ہو جائے اور وہ عورت اس کے بعد دوسرا نکاح نہ کرے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے ۔ اسی طرح کسی مرد کی زندگی میں اس کی بیوی فوت ہو جائے اور وہ مرد دوسرا نکاح نہ کرے تو اللہ اس مرد کو بھی فردوس بریں میں جگہ دیتا ہے۔ آؤ ہم دونوں عہد کر لیں کہ ہم میں سے جو پہلے مرے تو دوسرا اس کے بعد مجرد زندگی بسرکرے‘ نکاح نہ کرے۔ اس پرحضرت ابو سلمہؓ نے فرمایا کیا میرا کہنا مانو گی؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے کیاسعادت ہو گی‘ تو حضرت ابو سلمہؓ نے فرمایا۔ تو سنو! اگر میں پہلے مر جاؤں تو میرے بعد تم ضرور نکاح کر لینا اور پھر دعا مانگی۔ اے مولائے کریم!میں اگر ام سلمہؓ کی زندگی میں مرجاؤں تو اسے مجھ سے بہتر زوج عطا کرنا۔ اب میں سوچتی ہوں کہ اگرچہ میں ابو سلمہ سے بہتر فرد کی رفاقت کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی مگر اس سچے ابو سلمہؓ کی دعا سچے اللہ نے قبول کر کے میرا نکاح سب سے سچے اور امین رسول الاوّلین والآخرِینﷺ سے مقدر کر دیا اورسچ کی لاج رکھ لی۔
آپ کے حسن و جمال کا لوگوں سے جب حضرت بی بی عائشہؓ نے سنا اورانہوں نے ام سلمہؓ کو دیکھا تو واقعی یہ دیکھ کر دنگ ر ہ گئیں کہ اس عمر میں بھی جبکہ وہ پانچ بچوں کی ماں تھیں وہ اتنی خوبصورت تھیں کہ دیکھ کر اللہ کی تخلیق اور شان مصوری کی داد دینا پڑے ۔ پھر وہ اپنے باپ ابو امیہ کی طرح انتہائی درجے کی سخی بھی تھیں۔ دوسروں کو بھی سخاوت کی ترغیت دیتی تھیں ۔ ناممکن تھا کہ کوئی سوالی ان کے گھر سے خالی ہاتھ چلاجائے۔ آپؓ نے اپنے غلام سفینہؓ کو اس شرط پر آزاد کر دیا کہ وہ زندگی بھر نبی کریم ﷺ کی خدمت کرے گا۔ پھر آپؓ کوحدیث سننے کا شوق بھی بہت تھا۔ ایک دن بال گندھوا رہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ ممبر پر تشریف لائے اور خطبہ دینا شروع کیا۔ ابھی زبان مبارک سے یا ایھا الناس ہی نکلا تھا کہ مشاطہ کو حکم دیا کہ بال باندھ دو۔ اس نے کہا اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو حضور ﷺ نے یا ایھاالناس ہی فرمایاہے۔ حضرت اُمّ سلمہؓ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اپنے بال خود باندھے اور برہمی سے بولیں’’رسول اللہ ﷺنے انسانوں سے خطاب کیا‘ کیا ہم آدمیوں میں شامل نہیں ہیں؟‘‘۔ اس کے بعد بڑے انہماک سے خطبہ سنا۔ یہی وجہ ہے کہ ام سلمہؓ سے ۳۷۴ احادیث مروی ہیں۔ فضل و کمال میں حضرت عائشہؓ کے بعد امّھات المومنین میں انہی کا درجہ مانا جاتا ہے۔ قرآن کی قراء ت نہایت عمدہ طریقے سے کرتی تھیں جو حضورﷺ کی قراء ت سے مشابہت رکھتی تھی۔ اللہ تعالی نے انہیں خوبروئی‘ علم‘ذہانت اور اصابت رائے کی نعمتوں سے کافی حصہ دیاتھا۔ علامہ ابن قیم کا بیان ہے کہ حضرت ام سلمہؓ کے فتاویٰ سے ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے۔ ان کے فتاویٰ بالعموم متفق علیہ ہیں۔۔۔ الغرض باقی ازواجِ مطہرات میں صرف امّ سلمہؓ ہی حضرت عائشہؓ کے قریب پہنچتی تھیں۔ حدیث کی کتب میں ایک روایت ہے ‘ طبقات ابن سعد حصہ ہشتم میں محمد بن عمر‘ بتحدیث معمر‘ازذہری‘ از ہند بنت حارث فراستیہ کی روایت ہے کہ :’’ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے دل میں عائشہؓ کے لیے ایک گوشہ ہے جس میں کوئی نہیں اترا ۔‘‘ پھر اُمّ سلمہؓ سے نکاح کے بعد آپ ﷺسے پوچھا گیا۔ یا رسول اللہ ﷺ!وہ گوشہ کیا ہوا؟ آپ ﷺخاموش ہو گئے۔‘‘ معلوم ہوا کہ ام سلمہؓ اوپر بیان کی گئی خوبیوں کی بنا پر اس گوشہ میں اتر گئی تھیں۔ 
حضور ﷺ سے نکاح کے بعد بھی انہوں نے اپنے پہلے شوہر کی اولاد کی نہایت شفقت اور توجہ سے پروش کی ۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا یا رسول اللہﷺ !کیا مجھے ان بچوں کی پرورش کااجر ملے گا۔آپﷺ نے فرمایا: ہاں ملے گا۔
حضرت ابو لبابہ انصاریؓ ایک سادہ دل صحابی تھے۔ غزوہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے بنو قریظہ کے شریر اور بد عہد یہودیوں کے علاقہ کا محاصرہ کیا تو آپ ﷺنے حضرت ابو لبابہ کو یہودیوں سے گفتگو کے لیے بھیجا۔ دوران گفتگو ان سے ایک ایسا اشارہ ہو گیا کہ جس سے متر شح ہوتا تھا کہ یہودیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابولبابہ کو بعد میں احساس ہوا کہ انہوں نے مسلمانوں کا یہ راز فاش کر دیا ۔یہ سوچ کر بے حد پریشان ہوئے۔ اپنی غلطی کی تلافی کے لیے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا اور توبہ استغفار میں مشغول ہو گئے۔
چند دن بعد سرور کائنات محمد ﷺ کا قیام حضرت امّ سلمہؓ کے ہاں تھا۔ صبح اٹھے تو چہرہ اقدس متبسم تھا۔ فرمایا آج ابو لبابہؓ کی توبہ قبول ہو گئی ہے۔ 
حضرت امّ سلمہ کو بھی بے حد مسرت ہوئی عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ اگر اجازت ہو تو ابولبابہؓ کو خوشخبری سنا دوں۔ فرمایا ہاں اگر چاہوتو سنا دو۔ حضرت ام سلمہؓ اپنے حجرہ کے دروازے پر کھڑی ہو کر پکاریں۔ ابو لبابہؓ مبارک ہو تمہاری توبہ قبول ہو گئی ہے۔ حضرت ابو لبابہؓ سجدہ شکر بجالائے دوسرے صحابہ کرامؓ میں بھی یہ خبر آناً فاناً پھیل گئی اور وہ سب ابو لبابہ کو مبارکباد دینے کے لئے مسجدِ نبوی میں اکٹھے ہو گئے۔ 
ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت امّ سلمہؓ کے گھر تھے کہ آیہ تطہیر انما یرید اللّٰہ لِیذھب عنکم الرجس اھل البیت کا نزول ہوا۔ حضورﷺ نے حضرت فاطمتہ الزہراؓ ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ‘ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کو بلایا ۔ ان پر اپنا کمبل ڈال دیا اور فرمایا ، بار الٰہا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ حضرت ام سلمہؓ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ کیا میں بھی اہل بیت میں سے ہوں۔ فرمایا تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہو۔ 
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا بلٰیان شاء اللہ ہاں‘ اگراللہ نے چاہا۔ 
۶ ؁ہجری میں رسول ﷺ نے چودہ سو صحابہ کرام کے ہمراہ مکہ کا عزم فرمایا۔قریش نے سنا تو انہوں نے مسلمانوں کی مزاحمت کا ارادہ کر لیا۔ حضورﷺ کو قریش کے عزائم کا علم ہوا تو آپﷺ نے مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر حدیبیہ کے مقام پر قیام فرمایا اور حضرت عثمانؓ ذوالنورینؓ کے ذریعے قریش کو پیغام بھیجا کہ ہمارا لڑنے کا ارادہ نہیں ہے صرف عمرہ کرنا مقصود ہے۔ حضرت عثمانؓ کے جانے کے بعد افواہ پھیل گئی کہ قریش نے انہیں شہید کر دیا ہے۔ اس وقت نبی کریمﷺ نے تمام صحابہؓ سے بیعت لی کہ اگر قریش مکہ سے ان کے ظلم کا انتقام لینے کے لیے لڑنا بھی پڑا تو آخری دم تک لڑیں گے ۔ یہ بیعت تاریخ میں بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کا حال سن کر قریش مرعوب ہو گئے اور انہوں نے درج ذیل شرائط پر مسلمانوں سے صلح کر لی:
ا۔ دس سال تک باہمی صلح رہے گی۔ دونوں طرف سے کسی کی آمد و رفت میں روک ٹوک نہ کی جائے گی۔ 
۲۔ اگلے سال مسلمانوں کو طواف بیت اللہ کی اجازت ہو گی‘ لیکن طواف کے وقت ان کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو گا۔ 
۳۔ تمام قبائل مختار ہیں خواہ قریش سے مل جائیں یا مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ حلیف قبائل کے بھی یہی حقوق ہوں گے۔ 
۴۔ اگر قریش کاکوئی شخص مسلمان ہو کر رسولﷺ کے پاس چلا جائے تو قریش کے طلب کرنے پر اسے واپس کر دیاجائے گا لیکن اگر کوئی شحص مرتد ہو کر قریش کے پاس چلا جائے تو قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔ 
رسول اکرم ﷺ نے حکم الٰہی کے تحت یہ شرائط منظور کر لیں‘ لیکن عام مسلمان جو مصلحتِ خداوندی کو نہ سمجھ سکے ‘ان شرائط سے ملولِ خاطر تھے کیونکہ انہیں وہ مسلمانوں کے مفاد کے خلاف معلوم ہوتی تھیں۔ حضورﷺ نے صلح کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ یہیں حدیبیہ کے مقام پر اپنے جانوروں کی قربانی کر دیں۔ شکستہ دل صحابہؓ نے قربانیاں دینے میں کچھ تامّل کیا۔ حضور ﷺ اس سے ملول ہوئے۔ حضرت ام سلمہؓ آپﷺ کے ہمراہ تھیں‘ آپ ﷺنے ان سے ذکر کیا تو انہوں نے مشورہ دیا۔’’ یا رسول اللہ ﷺ !مسلمانوں نے آپ ﷺکا فرمان اچھی طرح نہیں سمجھا‘آپﷺ خود باہر نکل کر قربانی کریں‘ بال منڈوائیں اور احرام کھول دیں۔‘‘ حضورﷺ نے حضرت ام سلمہؓ کا مشورہ قبول کر لیا اور کسی سے کچھ کہے بغیر خود ہی قربانی کی اور احرام اتارا۔یہ مشورہ بڑی ذہانت پر مبنی تھا‘واقعی جب صحابہ نے آنحضور ﷺ کو احرام کھولتے دیکھ لیا تو سب نے قربانیاں کیں اوراحرام کھول دیئے۔حضرت امّ سلمہؓ کو سرور کائنات محمد ﷺ سے نہایت عقیدت تھی‘ حضورﷺ کے موئے مبارک تبرکاً چاندی کی ایک ڈبیہ میں محفوظ رکھے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ ایک پیالہ پانی سے بھر کر ان کے پاس لاتے ‘وہ موئے مبارک نکال کر اس پانی میں حرکت دے دیتیں۔ اس پانی کی برکت سے تکلیف دور ہو جاتی۔مسند احمد میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت ام سلمہؓ نے حضو رﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہﷺ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ حضورﷺان کی بات سن کر منبر پرتشریف لے گئے اور سورۃ الاحزاب کی آیت ۔\" ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات\"۔تلاوت فرمائی اور تقریر کی۔ اس آیت میں عورتوں کا ذکر تمام اعمال صالحہ اور صفات حسنہ کے حوالے سے مردوں کے ساتھ مذکور ہے۔ علامہ ابن سعد کا بیان ہے کہ اا ؁ھ میں حضور ﷺ علیل ہو گئے تو ام سلمہؓ حضورﷺ کی خبر گیری کے لیے اکثر حضرت عائشہؓ کے حجر ے میں جاتی تھیں۔ ایک دن حضور ﷺ کو بہت علیل دیکھا تو ان کی چیخ نکل گئی۔ حضور ﷺ نے منع فرمایا کہ مصیبت میں چیخنا مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں ۔ حضرت ام سلمہؓ کی زندگی نہایت زاہدانہ تھی ، عبادت الٰہی سے بڑا شغف تھا۔(رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ) ہر مہینہ میں تین روزے بالالتزام رکھتی تھیں‘ او امرو نواہی کی بے حد پابند تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہن لیاجس میں کچھ سونا بھی شامل تھا۔ حضور ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا تو اس کو اتار ڈالا۔ (یا توڑ دیا )مسند احمد بن جنبل ؒ میں روایت ہے کہ ا۶ھ میں جس دن امام حسینؓ نے اپنے عظیم المرتبت رفقاء کے ساتھ دشتِ کر بلا میں جامِ شہادت نوش کیا‘ حضرت امِ سلمہؓ نے خواب میں دیکھا کہ رحمتِ دو عالمﷺ تشریف لائے ہیں‘ سر اور ریش مبارک غبار آلود ہے اور بہت غمزدہ ہیں۔ حضرت امّ سلمہؓ نے پوچھا ، یا رسول اللہ ﷺکیا حال ہے؟ فرمایا: حسینؓ کے مقتل سے آرہا ہوں۔ حضرت امِ سلمہؓ کی آنکھ کھل گئی۔ بے اختیار رونے لگیں اور بلند آواز سے فرمایا عراقیوں نے حسینؓ کو قتل کردیا ‘ خدا انہیں قتل کرے‘ انہوں نے حسینؓ سے دغا کی‘ خدا ان پر لعنت کرے۔ حضورﷺ کے صلب مبارک سے ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ پانچ بچے (دو لڑکے اور تین لڑکیاں ) ا بو سلمہؓ سے تھیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔سلمہؓ جو حبشہ میں پیداہوئے ۔ رسول اکرمﷺ نے حضرت حمزہؓ کی دختر امامہ کا نکاح انہی سے کیا تھا۔دوسرا بیٹا عمرؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بحرین اور فارس کے عامل ہوئے۔زینبؓ، درہؓ اور رقیہؓ صاحبزادیاں تھیں۔ حضرت امِ سلمہؓ نے ۶۳ھ میں ۸۴سال کی عمر میں وفات پائی ۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ اللھم اغفرلھا واسکنھافی الجنۃ الفردوس۔ اٰمین۔ ایں دعا ازمن و از جملہ جہاں اٰمیں باد۔

Thursday, 21 August 2014

Abu Ubaidah ibn al-Jarrah


دوسری کہانی

ابو عبیدہؓ بن الجراّح 


یہ کہانی اس امت کے امین حضرت عامر بن عبداللہؓ بن جرّاح الفہری القرشی کی ہے جن کی کنیت ابو عبیدہؓ ہے اور تاریخ میں اسی کنیت کے حوالے سے مشہور ہیں‘ اصل نام ان کا بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ۔۔آپ خوش شکل ‘ہنس مکھ‘ اکہرے جسم‘ دراز قد اور ایسے تیکھے خدو خال والے تھے کہ دیکھنے والے کی آنکھوں کو سرور حاصل ہواور آپ سے ملاقات کرنے والے کی طبعیت مانوس ہو اور اسے دلی سکون میّسرآئے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ خوشحال‘ منکسر المزاج اور بہت ہی شرمیلے تھے لیکن جب کوئی افتاد آن پڑتی یا کوئی مشکل وقت آ جاتا تو پھر آپ شیر کی مانند چاق و چوبند ہو جاتے۔ آپ مجموعہ ء جلال و جمال تھے‘ طبیعت کی تیزی اور اثر و نفوذ میں چمک دار تیزتلوار کی طرح تھے۔ 
حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قریش میں تین شخصیات ایسی ہیں جن کے چہرے تمام لوگوں سے بڑھ کر زیادہ حسین‘ جن کا اخلاق سب سے زیادہ عمدہ اور جن میں حیاء سب سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔ اگروہ آپ سے گفتگو کریں تو قطعاً جھوٹ نہ بولیں گے‘ اگر آپ ان سے کوئی بات کریں تو وہ جھٹلا ئیں گے نہیں۔ میری نظر میں وہ تین عظیم شخصیات یہ ہیں۔ 
ا۔ حضرت صدیق اکبرؓ 
۲۔ حضرت عثمانؓ بن عفان 
۳۔ حضرت ابو عبیدؓہ بن جرّاح 
حضرت ابو عبیدہؓ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی۔ آپ حضرت صدیق اکبرؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد دوسرے روز ہی مسلمان ہو گئے تھے۔ 
حضرت ابو عبیدہؓ بن جرّاح‘حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف‘حضرت عثمانؓ بن مظعون اور حضرت ارقمؓ بن ابی الار قم حضرت صدیق اکبرؓ کے ہمراہ رسول اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے روبرو کلمہ حق لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔
آپ ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جن کے توانا کردار اسلام کے عظیم الشان محل کی بنیاد کے پتھر قرار پاتے ہیں۔ 
حضرت ابو عبیدہؓ نے مکہ معظمہ میں شروع سے آخر تک مسلمانوں کو پیش آنے والے تلخ حالات میں زندگی بسر کی‘ ایسی شدید تکالیف اور رنج و الم میں ان کا ساتھ دیا کہ جن شدائد و تکالیف کا روئے زمین پر بسنے والے کسی بھی دین کے پیروکاروں کو شاید کبھی سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔یہی وہ مردانِ جری تھے ‘جنہوں نے تب بھی استقامت دکھائی جب سماجی بائیکاٹ کر کے کفارِ مکہ نے انہیں شعب ابی طالب میں اتنا مجبور کر دیا تھا کہ یہ نفوس قدسی اپنے جوتوں کے چمڑے تک ابال کر چبانے پر مجبور ہوگئے۔ انہی میں اللہ کا وہ محبوب تھا جس کو اہلِ طائف نے لہو لہان کر دیا تو اہلِ مکہ نے واپسی پر مکہ میں آنے سے روک دیا‘ وہ آئے تو ایک قبیلہ کی پناہ لے کر ہی آ سکے تھے۔ آپ اس دور ابتلاء میں ثابت قدم رہے اور ہر صورت میں اللہ تعالیٰ اور رسولِ مقبول ﷺ کو صمیم قلب سے سچا مانا۔ لیکن میدانِ بدر میں حضرت ابو عبیدؓ بن جرّاح کو پیش آنے والی آزمائش اس قدر نازک تھی کہ انسانی تخیل میں بھی نہ آسکے۔ غزوہ بدر میں حضرت ابو عبیدہؓ بے خوف و خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے جارہے تھے ۔ آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے دشمنوں میں بھگدڑمچ گئی۔ آپ میدانِ جنگ میں اس طرح بپھرے ہوئے چکر لگا رہے تھے کہ جیسے موت کا کوئی ڈر ہی نہ ہو۔ آپ کا یہ انداز دیکھ کر قریش کے شہسوار گھبرا گئے ۔ جو نہی آپ ان کے سامنے آتے تو وہ خوفزدہ ہو کر ایک طرف ہو جاتے۔ لیکن ان میں صرف ایک شخص ایسا تھا جو آپ کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہو جاتا اور آپ اس سے پہلوتہی اختیار کرجاتے۔ با لآخر اس شخص نے جناب ابو عبیدہؓ کے لیے تمام راستے بند کر دیئے۔ حتی ٰ کہ وہ آپ کے اور دشمنانِ اسلام کے مابین حائل ہو گیا ، لیکن جب آپ نے دیکھا کہ اب کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا تو اس کے سر پر تلوار کا ایسا زور دار وار کیا جس سے اس کی کھوپڑی کے دو ٹکڑے ہو گئے اور وہ آپ کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا۔ 
کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ قتل ہونے والا کون تھا؟ بلا شبہ میدانِ بدر میں حضرت ابو عبیدہؓ کو پیش آنے والی یہ آزمائش حساب دانوں کے حساب سے بھی ماوراء تھی اور ایسی نازک کہ انسانی قوّت وادراک میں بھی نہ آ سکے۔ جب قاری یہ پڑھے گا کہ یہ لاش تو جناب ابو عبیدہؓ کے والد عبداللہ بن جراح کی تھی تو آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ 
دراصل حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل نہیں کیا بلکہ انہوں نے میدانِ بدر میں اپنے باپ کے ہیولے کی شکل میں شرک کو نیست و نابود کر دیا ۔ آپ کا یہ اقدام اللہ سبحانہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آپ کی شان میں درج ذیل آیات نازل کر دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ 
لا تجد قوماََ یؤمنون باللہ والیوم الآخر یوآدّون من حآ دّ اللہ ورسولہ ولو کانو آ بآء ھم او اخوانھم او عشیر تھم اولءِک کتب فی قلوبھم الایمان وایّدھم بروح منہ ویدخلھم جنّات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ اولئک حزب اللہ الا انّ حزب اللہ ھم المفلحونo(المجادلہ، آیت۲۲)
ترجمہ: ۔ تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں‘ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی مخالفت کی ہے‘خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہلِ خاندان ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے‘ وہ ان کو ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی‘ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں۔ خبردار رہو ! اللہ کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔ 
حضرت ابو عبیدہؓ کے لیے یہ کوئی انوکھا کارنامہ نہیں تھا ۔ وہ تو اپنی قوتِ ایمانی‘ جذبہ ء دینی اور امتِ محمد ﷺ میں امانت و دیانت کے اس اعلیٰ مقام پر فائز تھے جس کے لیے بڑی بڑی ہستیاں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ہاں آرزو مند رہتی ہیں۔ 
حضرت محمد بن جعفرؓ بیان فرماتے ہیں کہ عیسائیوں کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضرت ! اپنے صحابہؓ میں سے ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو روانہ فرمائیں جسے آپ مناسب سمجھتے ہوں ۔ وہ ہمارے ان باہمی مالی اختلافات کو نپٹائے جو شو مئی قسمت سے شدّت اختیار کر چکے ہیں۔ ہم برملا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بہت پسند ہیں۔ اللہ اللہ کیا زمانہ تھا کہ غیر مسلم اپنی زبان سے اہلِ اسلام کے کردار کی پسندیدگی بیان کرتے۔ یہ صحابہ کی بلندئیِ کردار کا کرشمہ تھا۔ 
ان کی باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : شام کو میرے پاس آنا۔ میں آپ کے ساتھ ایک ایسا شخص روانہ کروں گا جو طاقتور بھی ہے اور دیانتدار بھی ۔حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں اس روز جلدی جلدی نماز ظہر کے لیے مسجد نبوی ﷺ میں آیا کہ شاید اس انتخاب میں میرا نام آجائے۔ بخدا! مجھے کوئی امارت و قیادت کا شوق نہ تھا بلکہ میری یہ تمنا تھی کہ وفد کے سامنے رسول ﷺ نے جو اوصاف بیان فرمائے ہیں‘ ان کا مصداق میں ٹھہروں۔ آپ ﷺ جب نماز ظہر سے فارغ ہوئے تو بڑے غور سے دائیں بائیں دیکھنے لگے۔ اس دوران میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تاکہ آپ ﷺ کی نظر مجھ پر پڑے۔ آپ ﷺ مسلسل نمازیوں کی طرف دیکھتے رہے ‘یہاں تک کہ آپﷺ کی نظر کرم حضرت ابو عبیدہؓ پہ پڑی۔اشارے سے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا: کہ آپ اس وفد کے ساتھ جائیں اور ان کے باہمی اختلافات کو عدل و انصاف کے ساتھ نپٹائیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں اس موقع پر بے اختیار پکار اٹھا کہ آج ابو عبیدہؓ مجھ سے بازی لے گئے۔
حضرت ابو عبیدہؓ دیانت و امانت کے اعلی مقام پر فائز تھے اور آپ میں قائدانہ صلاحیت بدرجہ ء اتمّ پائی جاتی تھی۔ بہت سے مواقع پر آپ کی دیانت و امانت اور قائدانہ صلاحیتوں کا نہایت خوش اسلوبی سے اظہار بھی ہوا۔ 
ایک روز رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت کو قریش کے ایک قافلے کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہؓ کو اس جماعت کا امیر مقرر کر دیا اور زادِ راہ کے لیے کھجوروں کا ایک تھیلا عطا فرمایا۔ صورتِ حال یہ تھی کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ مجاہدین کے زادِ راہ کے لیے کوئی اور چیز نہ تھی۔ اس سفر میں صحابہء کرامؓ نے کمال صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور امیرِ قافلہ حضرت ابو عبیدہؓ نے بھی قیادت و امانت کا حق ادا کر دیا۔ آپ روزانہ ہر ایک مجاہد کو ایک کھجور دیتے اور وہ اسے کھا کر پانی پی لیتا اور یہ خوراک دن بھر کے لیے کافی ہوتی۔ 
غزوہء احد میں جب عارضی طور پر مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو ایک مشرک بڑے غضبناک انداز میں چلاّ رہا تھا۔ مجھے بتاؤ کہ مسلمانوں کا نبیﷺ کہاں ہے؟ اس ناز ک وقت میں حضرت ابو عبیدہؓ ان دس جاں نثار صحابہ میں سے ایک تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺکے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا اور اپنے سینوں پر دشمن کے تیر کھا کر حضرت محمد ﷺ کی جانب سے دفاع کافریضہ سرانجام دیا۔ جب جنگ کا زور ختم ہوا تو صورتِ حال یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کے دانت مبارک شہید ہو چکے تھے‘ آپ ﷺ کی پیشانی مبارک زخمی ہو چکی تھی اور آپ ﷺ کے رخسار مبارک میں خود کے دو حلقے پیوست ہو چکے تھے ۔ آپ ﷺ کی یہ حالت دیکھ کر صدّیق اکبرؓ تیزی سے آگے بڑھے تاکہ آپ کے رخسا ر مبارک میں دھنسے ہوئے خود کے حلقے نکال دیں۔ اتنے میں ابو عبیدہؓ نے آگے بڑھ کر عر ض کی ’’خدا را اس خدمت کا مجھے موقع دیں‘‘۔ آپ کا شوق دیکھ کر حضرت صدّیق اکبرؓ ایک طرف ہو گئے۔ حضرت ابو عبیدہؓ کو اندیشہ تھا کہ اگر ہاتھ سے ان حلقوں کو نکالا تو اس سے رسول اکرم ﷺ کو بہت تکلیف ہو گی آپ نے اس طرح کیا کہ اپنا ایک دانت مضبوطی سے ایک حلقہ میں پیوست کر دیا اور پورے زور سے دانت کودبا کر اسے رخسار مبارک سے نہایت نرمی کے ساتھ نکال دیا، لیکن اس زور آزمائی میں آپ کا وہ دانت جس سے لوہے کا حلقہ کھولا وہ ٹوٹ گیا۔پھر دھنسے ہوئے دوسرے حلقے میں اپنا دوسرادانت پیوست کر دیا اور اسی طرح دوسرا حلقہ بھی نکال دیا مگر اس کوشش میں آپ کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ یہ لوگ تھے حضور ﷺ کے سچے عاشق ۔ حضرت صدّیق اکبرؓ فرماتے ہیں کہ اگلے دونوں دانت ٹوٹ جانے کے باوجود جناب ابو عبیدہؓ بن جرّاح نہایت خوبصورت دکھائی دیتے تھے۔ 
حضرت ابو عبیدہؓ تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک رہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ ‘ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ 
سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعتِ خلافت کے دن حضرت عمرؓ بن خطاب نے جناب ابو عبیدہؓ سے کہا کہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ہر امت کا امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین حضرت ابو عبیدہؓ ہے‘‘ لیکن حضرت
ابو عبیدہؓ نے فرمایا’’ میں اس عظیم ہستی سے بھلا کیسے سبقت لے جا سکتا ہوں جسے رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی میں ہمارا امام مقرر کر دیا ہو۔‘‘ اس کے بعد تمام صحابہ کرامؓ نے صدّیق اکبرؓ کے ہاتھ پر بالاتفاق بیعت کی۔ حضرت ابو عبیدہؓ صدّیق اکبرؓ کے دورِ خلافت میں ان کے معاون رہے۔ جب صدّیق اکبرؓ نے اپنی وفات سے پہلے فاروق اعظمؓ کو خلیفۃ المسلمین نامزد فرما دیا تو حضرت ابو عبیدہؓ فاروق اعظمؓ کے پورے دورِ خلافت میں آپ کے مدد گارو معاون اور اطاعت شعار رہے۔ صرف ایک حکم کے سوا کسی بھی معاملہ میں خلیفتہ المسلیمن کے کسی اور حکم کو تسلیم کرنے سے انکار نہ کیا۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابو عبیدہؓ ملک شام میں لشکر اسلام کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے اور بڑی تیزی سے شہر در شہر فتح ہوئے جا رہے تھے۔ پورا ملک شام بھی فتح ہو گیا اور اسلامی حکومت کی سرحدیں مشرق میں دریائے فرات تک اور شمال میں ایشیائے کوچک تک پہنچ چکی تھیں۔ جب فتوحات کا سلسلہ پورے نقطہ ء عروج پر تھا‘ عین اس موقع پر شام میں طاعو ن کی ایسی خطرناک وباء پھیلی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔لوگ بڑی تیزی سے اس بیماری کا شکار ہو رہے تھے۔ حضرت عمر ؓ کو جب اس نازک صورت حال کا علم ہوا تو فوراً ایک قاصد کو خط دے کر حضرت ابو عبیدہؓ کی طرف روانہ کیا ۔ خط میں یہ لکھا تھا کہ مجھے آپ سے ایک بہت ضروری کام ہے۔ خط ملتے ہی فوراً میری طرف چل پڑیں‘ رات کو میرا خط ملے تو صبح کا انتظار نہ کرنا‘اگر دن کو ملے تو پھر رات کا انتظار نہ کرنا۔ جب حضرت ابو عبیدہؓ نے فاروقِ اعظمؓ کا خط پڑھا تو فرمایا مجھے معلوم ہے کہ امیر المومنین کو مجھ سے کیا ضروری کا م ہے ۔ دراصل وہ ایک ایسے شخص کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو ا س دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے۔ پھر امیر المومنین کو اس خط کا یہ جواب تحریر کیا۔ \" امیر المومنین ! بعد از تسلیمات عرض ہے ۔ مجھے یہ علم ہے کہ آپ کو میرے ساتھ کیا ضروری کام ہے۔ میں اس وقت لشکرِ اسلام میں ہوں ۔ آج مسلمان جس مصیبت میں مبتلا ء ہیں‘ میں اس نازک حالت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتا‘ نہ ہی میں ان سے جدا ہو نا چاہتا ہوں یہاں تک کہ ربِ ذوالجلال میرے اور ان کے متعلق اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ مجھے آپ اس سلسلے میں معذور سمجھتے ہوئے ان مجاہدین اسلام میں ہی رہنے کی اجازت مرحمت فرمائیں‘ والسلام۔‘‘ 
جب یہ خط امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کے پاس پہنچا‘ اسے پڑھ کر آپؓ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ آپؓ کے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ ء کرامؓ نے آپؓ کو زارو و قطار روتے ہوئے دیکھ کر دریافت کیا:’’ کیا حضرت ابوعبیدہؓ فوت ہو گئے ہیں؟‘‘ فرمایا!’’نہیں لیکن موت اب ان کے بہت قریب پہنچ چکی ہے۔‘‘ اس سلسلے میں حضرت فاروق اعظمؓ کا اندازہ غلط نہ تھا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد جناب حضرت ابو عبیدہؓ طاعون کی خطرناک بیماری میں مبتلاء ہو گئے ۔ جب موت کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے لشکر اسلام کو وصیت کی۔ فرمایا: ’’میں تمہیں آج ایک وصیت کرتا ہوں ‘ اگر آپ لوگوں نے اسے تسلیم کیا تو ہمیشہ خیریت سے رہو گے ۔ سنو !نماز قائم کرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا‘ صدقہ و خیرات کرتے رہنا‘حج بیت اللہ کرنا اورعمرہ ادا کرنا‘آپس میں ایک دوسرے کو اچھی باتوں کی تلقین کرتے رہنا‘ اپنے حکمرانوں کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آنا اور انہیں کبھی دھوکہ نہ دینا اور دیکھنا کہیں دنیاتمہیں غافل نہ کردے۔ ‘‘آخری بات یہ کہی کہ ’’میری یہ بات غور سے سنو!اگر کسی شحص کو ایک ہزار سال کی بھی عمر مل جائے تو آخر کار اس کا انجام یہی ہو گا جو آج میرا دیکھ رہے ہو ‘ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا‘ سب کو میری طرف سے سلام اور تم پر خدائے ذوالجلال والاکرام کی رحمت ہو۔‘‘ پھر حضرت معاذ بن جبلؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ۔ ’’معاذ لوگوں کو نماز پڑھایا کریں‘ اچھا خدا حافظ ۔ ‘‘یہ کہا اور آپ کی پاکیزہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ پھر اس موقع پر حضرت معاذ بن جبلؓ اٹھے اور ارشاد فرمایا: 
’’لوگو! آج تم ایک ایسی شخصیت کے غم میں مبتلا ہو‘ اللہ کی قسم میں نے ان سے بڑھ کر نیک دل‘ حسد و بغض سے پاک سینہ‘ آخرت سے بہت زیادہ محبت کرنے والا اور عوام الناّس کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آنے والا کسی اور کونہیں پایا ۔ سب مل کر خلوصِ دل سے دعا کرو کہ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے‘‘۔ ؂
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
ایک اور واقعہ حضرت ابو عبیدہؓ کی زندگی کا یہ ہے کہ جب آپؓ کی قیادت میں بیت المقدس فتح ہوا اور وہاں کے لاٹ پادری نے استدعا کی کہ ہم شہر کی کنجیاں آسمانی کتاب میں دی ہوئی کچھ نشانیاں دیکھ کر آپؓ کو دیں گے تو آپؓ کی درخواست پر امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب تشریف لائے‘ آپؓ کی حالت یہ تھی کہ لباس میں سترہ پیوند لگے ہوئے تھے اور جب شہر میں داخلے کا وقت آیا تو اس وقت آپؓ سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور غلام اپنی باری پر سواری کررہا تھا۔ یہ دیکھ کر لشکر اسلام کے سرداروں نے امیر المومنین کو فاخرانہ لباس زیب تن کر نے کی تجویز دی تاکہ رومیوں پر اچھا اثر پڑے۔ مگر امیر المومنین نے فرمایا ہمیں اسلام سے عزّت ملی ہے‘ لباس سے نہیں۔ رومیوں نے جب مسلمانوں کے امیر کو اس فقیرانہ شان میں فاتح کی حیثیت سے شہر میں داخل ہوتے دیکھا تو دل سے تصدیق کرنے لگے کہ واقعی ہماری کتاب نے ایسے ہی شخص کو شہر کی کنجیاں سپرد کرنے کی پیشین گوئی کی تھی جو سچی ثابت ہوئی ہے۔ 
پھر جب حاکمیت مسلمانوں کے ہاتھ منتقل ہو جانے کی معمول کی کارروائی ختم ہوئی تو 
امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاّب نے حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح سے کہا کہ چلو مجھے اپنا گھر تو دکھاؤ۔ انہوں نے کہا ’’میرا گھر دیکھ کر کیا کریں گے ‘‘۔ تاہم جب آپ کا اصرار بڑھا تو حضرت ابو عبیدہؓ شہر سے باہر جنگل کی طرف دو تین میل کے فاصلے پر ایک معمولی سے خیمہ میں آپؓ کو لے گئے ۔معمولی چراغ کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو صرف ایک پانی کا برتن‘ ایک مٹی کا پیالہ‘ایک مصلیٰ ‘زمین پر لیٹنے کو ایک بوریا کا ٹکڑا نظر آیا۔ پوچھا ابو عبیدہؓ ! یہ کل اثاثہ ہے تمہارا؟ اور کھاتے پیتے کہاں سے ہو؟ اس پرانہوں نے خیمے کی چھت کے ایک کونے سے کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک روٹی نکال کر دکھائی ۔ کہا ’’پانی میں بھگو کر کھا لیتا ہوں جو میرے لیے کافی ہے۔‘‘ یہ سب کچھ دیکھ کر امیر المومنین بہت روئے اور کہا ’’دنیا نے ہم سب کی حالت کو بدل کر رکھ دیا ہے‘ صرف آپ ہی ایسے ہیں جن پر ان فتوحات کا کوئی اثر نہیں پڑا۔‘‘ ایسی ہی عظیم الشان صفات تھیں حضرت ابو عبیدہؓ کی ‘ جن سے متاثر ہو کر امیر المومنین عمرؓ بن خطاب نے اپنے جانشین کے چناؤ کے لیے چھ اصحاب مبشرہ کا پینل بناتے وقت یہ کہا تھا کہ اگر آج ابو عبیدہؓ زندہ ہوتے تو میں ان کو جانشین نامزد کر کے آسانی سے سرخرو ہو گیا ہوتا۔
حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات عمواس میں طاعون کی بیماری سے ۸اھجری میں ہوئی اور نماز جنازہ حضرت معاذؓ بن جبل نے پڑھائی۔ 
اللِّھم اغفرلہ، وسکِّنہ فی الجنَۃ۔ آمین!